جنرل نیوز

طلبہ کو حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے واقعۂ صداقت سے سبق حاصل کرنا چاہیے: مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشا قادری

سچائی وہ چراغ ہے جو اندھیرے راستوں کو بھی روشن کر دیتی ہے

طلبہ کو حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے واقعۂ صداقت سے سبق حاصل کرنا چاہیے: مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشا قادری

حیدرآباد، 22 ستمبر (پریس نوٹ):

بچوں کی تعلیم محض کتابوں کے اسباق، امتحانات اور نمبروں تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ حقیقی تعلیم وہ ہے جو انسان کے کردار کو سنوارے، اس کے دل میں سچائی، امانت، دیانت، ادب اور والدین کی فرمانبرداری کا جذبہ پیدا کرے۔ ایک بچہ جب علم کے ساتھ اچھے اخلاق سیکھتا ہے تو وہ نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے معاشرے کے لیے سرمایۂ افتخار بن جاتا ہے۔ اسی لیے ہمارے اسلاف کی زندگیوں کے سبق آموز واقعات نئی نسل کی اخلاقی تربیت میں غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔

خطیب و امام مسجد تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز، نامپلی، حیدرآباد مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشا قادری نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے حضرت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے بچپن کا مشہور واقعۂ صداقت بیان کرتے ہوئے کہا کہ جب آپؒ حصولِ علم کے لیے بغداد روانہ ہونے لگے تو آپ کی والدۂ محترمہ نے آپ کو سفر کے اخراجات کے لیے چالیس دینار دیے اور انہیں لباس میں محفوظ طریقے سے سی دیا۔ رخصت کرتے وقت والدہ نے اپنے لختِ جگر کو ایک ایسی نصیحت فرمائی جو پوری زندگی کے لیے چراغِ راہ بن گئی: ہمیشہ سچ بولنا اور کسی حال میں جھوٹ کا سہارا نہ لینا۔

انہوں نے کہا کہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ نے اپنی والدہ کی اس نصیحت کو محض ایک جملہ نہیں سمجھا بلکہ اسے زندگی کا عہد بنا لیا۔ سفر کے دوران قافلے پر ڈاکوؤں نے حملہ کیا اور مسافروں کا مال لوٹ لیا۔ ایک ڈاکو نے کم سن عبدالقادرؒ سے پوچھا کہ تمہارے پاس کیا ہے؟ آپؒ نے بلا خوف و تردد جواب دیا کہ میرے پاس چالیس دینار ہیں۔ ڈاکو نے اسے مذاق سمجھا اور آگے بڑھ گیا۔ دوسرے ڈاکو نے بھی یہی سوال کیا تو آپؒ نے پھر وہی سچا جواب دیا۔ بالآخر آپؒ کو ڈاکوؤں کے سردار کے سامنے پیش کیا گیا۔

ڈاکوؤں کے سردار نے حیرت سے پوچھا کہ اگر تم جانتے تھے کہ ہم تمہارا مال لوٹ لیں گے تو پھر تم نے اپنے دیناروں کے بارے میں سچ کیوں بتایا؟ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ نے جواب دیا کہ میری والدہ نے مجھے ہمیشہ سچ بولنے کی تاکید کی ہے، میں چند دینار بچانے کے لیے اپنی والدہ سے کیا ہوا عہد کیسے توڑ سکتا ہوں؟ یہ جواب ڈاکوؤں کے سردار کے دل پر ایسا اثر انداز ہوا کہ اسے اپنی زندگی کی غفلت اور نافرمانی کا احساس ہوگیا۔ روایت کے مطابق اس نے توبہ کی اور اس کے ساتھیوں نے بھی توبہ اختیار کی۔

مولانا صابر پاشا قادری نے کہا کہ اس واقعے کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ سچائی کی عمر نہیں ہوتی؛ ایک بچے کی سچائی بھی بڑے سے بڑے دل کو بدل سکتی ہے۔ آج کے طلبہ اگر امتحان میں نقل سے بچیں، اپنے اساتذہ سے سچ بولیں، والدین سے حقیقت بیان کریں، اپنی غلطی تسلیم کریں اور کسی فائدے کے لیے جھوٹ کا سہارا نہ لیں تو یہی اس واقعۂ صداقت کا حقیقی عملی پیغام ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں موبائل فون، سوشل میڈیا اور تیز رفتار معلومات کے ماحول نے بچوں کے سامنے بہت سے نئے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔ ایسے ماحول میں سچائی کی تربیت پہلے سے زیادہ ضروری ہے۔ طالب علم کو یہ شعور دیا جانا چاہیے کہ جھوٹ وقتی طور پر کسی مشکل سے بچا سکتا ہے، لیکن سچائی انسان کے کردار کو مضبوط اور اعتماد کو پائیدار بناتی ہے۔

انہوں نے والدین اور اساتذہ سے بھی اپیل کی کہ بچوں کو صرف یہ نہ کہیں کہ ’’جھوٹ مت بولو‘‘ بلکہ اپنے عمل سے سچائی کا نمونہ بھی پیش کریں۔ جس گھر میں سچائی کی قدر ہو اور جس مدرسہ و اسکول میں دیانت و کردار کی تربیت ہو، وہاں سے نکلنے والے طلبہ مستقبل میں معاشرے کے ذمہ دار، باکردار اور قابلِ اعتماد افراد بنتے ہیں۔

مولانا صابر پاشا قادری نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی سے یہ عہد کریں کہ ہم سچ بولیں گے، امانت میں خیانت نہیں کریں گے، والدین اور اساتذہ کا ادب کریں گے، اپنی غلطی تسلیم کریں گے اور علم کو اچھے کردار کے ساتھ حاصل کریں گے۔ یہی تعلیم کی اصل روح اور کامیاب زندگی کی بنیاد ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک سچا طالب علم بظاہر ایک معمولی فرد نظر آتا ہے، لیکن اس کی سچائی ایک پورے معاشرے کے اخلاقی مستقبل کی بنیاد بن سکتی ہے۔ حضرت غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے بچپن کا یہ واقعہ آج بھی ہر اسکول، ہر کلاس روم اور ہر گھر کے لیے ایک روشن پیغام ہے کہ سچائی اختیار کرنے والا انسان وقتی نقصان برداشت کر سکتا ہے، مگر بالآخر عزت، اعتماد اور کامیابی اسی کے حصے میں آتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button