اسپشل اسٹوری

بدایوں میں مسلم لڑکی نے مذہب تبدیل کر کے ہندو نوجوان سے شادی کرلی

لکھنو :  اتر پردیش کے ضلع بدایوں میں ایک نوجوان خاتون ہیرا ناظمی نے مذہب تبدیل کرکے سناتن دھرم اختیار کر لیا، جس کے بعد ان کا نام ہمانشی رکھا گیا۔ ہمانشی نے اپنے عاشق اتل کے ساتھ ہندو رسم و رواج کے مطابق سات پھیرے لے کر ازدواجی زندگی کا آغاز کیا اور ہندو مذہب سے اپنی وابستگی کا اظہار کیا۔

 

ذرائع کے مطابق دونوں نے کورٹ میرج بھی کی اور ایک ساتھ زندگی گزارنے کا عہد کیا۔ اس موقع پر راشٹریہ بجرنگ دل کے قائدین نے اس جوڑے کی مدد اور تعاون کیا۔ شادی کی تقریب میں دونوں نے باہمی رضامندی کے ساتھ ساتھ رہنے اور زندگی بھر ایک دوسرے کا ساتھ نبھانے کا عزم ظاہر کیا۔

 

اطلاعات کے مطابق ہیرا ناظمی اور اتل کے درمیان گزشتہ تقریباً دو برس سے محبت کا تعلق قائم تھا۔ دونوں نے شادی کا فیصلہ کیا، تاہم مذہب ان کے راستہ میں رکاوٹ بن رہا تھا۔ اس کے بعد ہیرا ناظمی نے سناتن دھرم اختیار کرتے ہوئے اپنا نام ہمانشی رکھ لیا۔

 

یہ شادی اوساواں پولیس اسٹیشن حدود میں واقع کھاٹو شیام مندر میں انجام پائی، جہاں پنڈت مکیش چندر مشرا نے تمام مذہبی رسومات ادا کرائیں۔ اس موقع پر اتل کے گھر والے اور بعض سماجی تنظیموں کے کارکنان بھی موجود تھے۔

 

ابتدائی طور پر اتل کے گھر والے بھی اس شادی کے لیے آمادہ نہیں تھے، تاہم بعد میں انہوں نے رضامندی ظاہر کردی۔ شادی کی تقریب میں اتل نے ہمانشی کی مانگ میں سندور بھر کر ہندو روایات کے مطابق شادی کی تمام رسومات مکمل کیں۔

 

ہمانشی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں پہلے سے ہی ہندو مذہب سے عقیدت تھی اور انہوں نے اپنے عاشق سے شادی کے لئے مذہب تبدیل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی نئی زندگی خوشی اور سکون کے ساتھ گزارنا چاہتی ہیں۔

 

متعلقہ خبریں

Back to top button