نہ لاکھوں کی فیس، نہ مہنگی کوچنگ؛ نظام آباد سرکاری کالج کی مدیحہ نے NEET میں کمایا شاندار رینک، فری میں ایم بی بی ایس سیٹ حاصل کرلی
کامیابی کے لئے عزم، درست رہنمائی اور مسلسل محنت ہو تو غربت رکاوٹ نہیں بنتی، یہ بات نظام آباد کی طالبہ مدیحہ شیور نے ثابت کردی۔ انہوں نے لاکھوں روپے فیس ادا کرکے یا کسی معروف کوچنگ سنٹر سے طویل مدتی تربیت حاصل کرکے نہیں، بلکہ سرکاری کالج میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے اپنے مضبوط ارادے اور پختہ منصوبہ بندی کے ذریعہ میڈیکل میں داخلہ حاصل کیا۔
نظام آباد شہر کے کوٹہ گلی سرکاری گرلز جونیئر کالج کی طالبہ مدیحہ نے بتایا کہ انہوں نے اپنے خاندان کے لیے والد کی محنت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اسی جذبہ کے ساتھ بڑے نشانہ کو حاصل کرنے کے لئے سخت محنت کی۔
طالبہ کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے کالج کے اساتذہ نے انہیں 45 دن کی خصوصی تربیت فراہم کی۔ اس کے بعد مدیح نے منصوبہ بندی کے ساتھ نیٹ امتحان کی تیاری کی۔ انہوں نے داخلہ امتحان میں قومی سطح پر 1,57,807 اور ریاستی سطح پر 2,959 واں رینک حاصل کیا۔ حالیہ کونسلنگ میں انہیں نرمَل سرکاری میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کی نشست مل گئی، جس سے غریب خاندان کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔
کالج کے پرنسپل بدھی راج نے مدیحہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری کالج میں تعلیم حاصل کرنے والی طالبہ کا نظم و ضبط اور بہترین کارکردگی کے ساتھ ایم بی بی ایس نشست حاصل کرنا دوسروں کے لیے قابلِ تقلید ہے۔ چہارشنبہ کے روز کالج میں منعقدہ تقریب میں مدیح اور ان کے والدین کی بھی تہنیت کی گئی۔ اس موقع پر ان کے والد عنایت علی نے بیٹی کی کامیابی میں تعاون کرنے والے اساتذہ کا شکریہ ادا کیا۔
مدیحہ کی والدہ عرشیہ گھریلو خاتون ہیں، جبکہ والد عنایت علی شہر کی ایک کرانہ دکان پر چائے کی پتی فروخت کرکے خاندان کی کفالت کرتے ہیں۔ پانچ اولاد میں مدیحہ سب سے چھوٹی ہیں اور بچپن ہی سے پڑھائی میں ذہین اور سرگرم رہی ہیں۔ انہوں نے کوٹہ گلی سرکاری گرلز جونیئر کالج میں 2024-26 تعلیمی سال کے دوران انگریزی میڈیم سے بائی پی سی مکمل کیا۔



