حلقوں کی نئی حد بندی سے تلنگانہ میں لوک سبھا کی 26 اور اسمبلی کی 182 نشستیں ہوجائیں گی

لوک سبھا اور اسمبلی حلقوں کی نئی حد بندی کے عمل سے تلنگانہ کی سیاست میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں متوقع ہیں۔ نئی حد بندی کے تحت لوک سبھا اور اسمبلی نشستوں میں نمایاں اضافہ ہوگا، جبکہ خواتین کو ایک تہائی ریزرویشن بھی دیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق ریاست کی موجودہ 17 لوک سبھا نشستیں بڑھ کر 26 ہو جائیں گی، جبکہ اسمبلی کی 119 نشستیں 182 تک پہنچنے کا امکان ہے۔ ان میں تقریباً 60 نشستیں خواتین کے لیے مخصوص ہوں گی۔ اسی طرح درج فہرست ذات (SC) کے لیے 28 اور درج فہرست قبائل (ST) کے لیے 16 نشستیں ریزرو کی جائیں گی۔
یہ نئی حد بندیاں 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر کی جائیں گی، جس کے مطابق ریاست کی آبادی تقریباً 3.5 کروڑ ہے۔ ہر اسمبلی حلقہ اوسطاً تقریباً 1.92 لاکھ آبادی پر مشتمل ہوگا، جس میں 10 فیصد کمی یا بیشی کی گنجائش رکھی جائے گی۔
اطلاعات کے مطابق اس عمل کا آغاز عادل آباد سے ہونے کا امکان ہے، اور اس کے نتیجے میں ریاست کے سیاسی نقشے میں نمایاں تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں گی۔
متحدہ آندھرا پردیش میں تلنگانہ علاقہ میں 107 اسمبلی نشستیں تھیں، جو 2008 کی حد بندی کے بعد بڑھ کر 119 ہوگئیں۔ 2014 میں تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد تنظیمِ نو قانون میں اسمبلی نشستوں کو 153 تک بڑھانے کی تجویز شامل کی گئی تھی، تاہم اس پر عملدرآمد نہیں ہوا اور نشستیں 119 ہی برقرار رہیں۔
اب حالیہ دنوں مرکزی حکومت کے فیصلے کے تحت ریاست میں اسمبلی نشستوں کی تعداد بڑھ کر 182 تک پہنچنے کا امکان ہے، جس سے ریاست کے سیاسی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی متوقع ہے۔




