اسکولوں میں زبردستی گھس کر توڑ پھوڑ اور دھمکیاں دینے والوں کے خلاف سخت کاروائی کرنے نظام آباد پولیس کمشنر کا انتباہ
نظام آباد پولیس کمشنر سائی چیتنیہ نے خبردار کیا ہے کہ اسکولوں اور کالجوں میں زبردستی داخل ہوکر ہنگامہ آرائی کرنے، اداروں کو بند کرانے یا انتظامیہ کو دھمکانے والے افراد اور طلبہ تنظیموں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی تعلیمی ادارے میں انتظامیہ کی اجازت کے بغیر داخل ہونا قانوناً جرم ہے اور ایسے معاملات میں فوجداری مقدمات درج کئے جائیں گے۔
پولیس کمشنر نے بتایا کہ نظام آباد، آرمور اور بودھن ڈویژن کے مختلف تعلیمی اداروں سے شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ بعض طلبہ تنظیمیں قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے اسکولوں اور کالجوں میں داخل ہوکر ہنگامہ برپا کر رہی ہیں۔ بعض اوقات سہولیات کی کمی یا کتابوں کی فروخت جیسے مسائل کو جواز بنا کر تعلیمی اداروں کے ذمہ داران کو دھمکایا جا رہا ہے، جس سے طلبہ اور عملہ خوف و ہراس کا شکار ہو رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ڈچ پلی پولیس اسٹیشن حدود کے کیشاپور اور بردی پور کے قریب واقع نارائنا تعلیمی ادارے میں غیر قانونی طور پر داخل ہوکر کرسیاں، فلیکسیاں اور دیگر سامان کی توڑ پھوڑ کرنے والوں کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اسی طرح ورنی پولیس اسٹیشن حدود کے چندور منڈل میں واقع شری سائی ودیالیہ اسکول میں انتظامیہ کی اجازت کے بغیر داخل ہوکر عملے کو دھمکانے، طلبہ میں خوف پھیلانے اور املاک کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف بھی کریمنل کیس درج کیا گیا ہے۔
پولیس کمشنر نے کہا کہ اگر ان مقدمات میں ملوث افراد کے خلاف پہلے سے بھی مقدمات درج ہوں گے تو ان پر مزید قانونی دفعات کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے عوام اور طلبہ تنظیموں سے اپیل کی کہ تعلیمی اداروں سے متعلق کسی بھی مسئلے کی شکایت متعلقہ ضلعی یا محکمہ تعلیم کے حکام سے کریں، جو ضابطوں کے مطابق تحقیقات کرکے مناسب کارروائی کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق کسی کو بھی اسکولوں یا کالجوں کو بند کرانے کا حق حاصل نہیں ہے۔ اگر کوئی تنظیم یا فرد تعلیمی اداروں کو زبردستی بند کرانے یا تعلیمی ماحول کو متاثر کرنے کی کوشش کرے گا تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرتے ہوئے فوجداری مقدمات درج کئے جائیں گے۔



