حیدرآباد میں سیاسی ہنگامہ، ہریش راؤ گرفتار، تلنگانہ بھون اور گن پارک پر کشیدگی
گروکل اسکولوں میں بدعنوانیوں کا تنازعہ: حیدرآباد میں سیاسی ہنگامہ، ہریش راؤ گرفتار، تلنگانہ بھون اور گن پارک پر کشیدگی
حیدرآباد: تلنگانہ کے گروکل تعلیمی اداروں میں مبینہ بدعنوانی کے الزامات پر حکمراں کانگریس اور بی آر ایس کے درمیان سیاسی محاذ آرائی شدت اختیار کر گئی، جس کے باعث جمعرات کو حیدرآباد میں تلنگانہ بھون اور گن پارک کے اطراف شدید کشیدگی پیدا ہوگئی۔
ریاستی وزراء پونم پربھاکر، محمد اظہرالدین، اڈلوری لکشمن کمار اور دیگر کانگریس قائدین گن پارک پہنچے اور بی آر ایس رہنماؤں کو گروکل اسکولوں میں مبینہ بدعنوانی کے الزامات پر عوامی مباحثے کی دعوت دی۔ وزیر پونم پربھاکر نے کہا کہ اگر بی آر ایس کے الزامات میں سچائی ہے تو عوام کے سامنے آکر بحث کریں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گروکل اداروں میں خریداری کا پورا عمل مکمل شفافیت کے ساتھ انجام دیا گیا ہے اور حکومت ہر معاملے پر جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
دوسری جانب سابق وزیر مباحثے میں شرکت کے لیے تلنگانہ بھون سے گن پارک روانہ ہوئے، تاہم پولیس نے انہیں راستے میں روک کر حراست میں لے لیا۔ اس دوران بی آر ایس کارکنوں اور پولیس کے درمیان شدید دھکم پیل اور تلخ کلامی ہوئی، جس میں ہریش راؤ زمین پر گر پڑے اور حالات مزید کشیدہ ہوگئے۔
گرفتاری کے بعد ہریش راؤ نے پولیس کارروائی کو غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے کہا، "کیا ہم جمہوریت میں رہ رہے ہیں یا پولیس کے پہرے میں؟ غیر قانونی گرفتاریوں سے حکومت کیا حاصل کرنا چاہتی ہے؟” انہوں نے الزام لگایا کہ وزراء پونم پربھاکر، محمد اظہرالدین اور اڈلوری لکشمن کمار نے خود گروکل اسکولوں میں مبینہ بدعنوانی پر مباحثے کا چیلنج دیا تھا، لیکن اب وہی وزراء انہیں مباحثے میں شرکت سے روکنے کے لیے پولیس کا استعمال کر رہے ہیں۔ ہریش راؤ نے اس موقع پر میڈیا کے سامنے ان وزراء سے فون پر بھی رابطہ کرنے کی کوشش کی۔
واقعے کے بعد تلنگانہ بھون اور گن پارک کے اطراف پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی، جبکہ شہر میں صورتحال کشیدہ مگر قابو میں بتائی جا رہی ہے۔




