جرائم و حادثات

دہشت گرد گروپ میں شامل ہونے کی کوشش کا الزام۔ حیدرآباد کے مضافات سے نوجوان گرفتار

حیدرآباد: دہشت گرد گروپ میں شامل ہونے کی کوشش کرنے کے الزام میں ایک نوجوان کو میڑچل پولیس نے گرفتار کر لیا۔ اس کی شناخت اتر پردیش کے غازی آباد سے تعلق رکھنے والے زاہد خان کے طور پر ہوئی ہے۔

 

پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ میڑچل کے ایک ہوٹل میں کام کر رہا تھا اور انسٹاگرام پر دہشت گرد تنظیموں کو فالو کر رہا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ وہ کچھ عرصے سے شدت پسند گروہوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

 

پولیس کے مطابق وہ پاکستان کی آئی ایس آئی میں شامل ہونے کی بھی کوشش کر رہا تھا۔پولیس نے سوشل میڈیا پر نگرانی کے ذریعے اس کو گرفتار کیا۔ اس کے قبضے سے ایک نقلی پستول بھی برآمد کی گئی۔

 

پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق اترپردیش کا رہنے والا زاہد خان چند سال قبل اپنے دوست فیصل کے ذریعے روزگار کی تلاش میں میڑچل آیا تھا۔ یہاں وہ ایک مقامی ہوٹل میں کام کرتے ہوئے زندگی گزار رہا تھا۔ اسی دوران اسے سوشل میڈیا خصوصاً انسٹاگرام پر ریلس بنانے کا شوق ہوگیا۔

 

وہ اکثر کھلونا بندوقیں دکھاتے ہوئے ویڈیوز اپ لوڈ کرتا تھا۔زاہد خان کی یہ ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں۔ ان ویڈیوز کو دیکھنے کے بعد پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ہمدرد بتائے جانے والے حبیب اور رانا حسین نامی دو افراد نے

 

انسٹاگرام کے ذریعے اس سے رابطہ کیا۔ انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق حبیب اور رانا حسین کے پاکستان میں موجود آئی ایس آئی سے وابستہ شدت پسند شہباز کے ساتھ براہ راست روابط پائے گئے ہیں۔اطلاعات کے مطابق یہ گروہ زاہد خان

 

کو اپنی دہشت گرد تنظیم میں شامل کرنے کی کوشش کررہا تھا۔ اسی مقصد کے تحت اسے اصلی ہتھیار فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی گئی۔سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نظر رکھنے والی کاؤنٹر انٹلی جنس ٹیم نے زاہدخان کی مشتبہ

 

چیٹنگ اور وائس کالز کو تکنیکی تجزیے کے ذریعے ٹریس کیا۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے مزید تحقیقات شروع کردی ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button