حج کے بعد کی زندگی اطاعتِ الٰہی، حسنِ اخلاق اور کردار سازی کا عملی نمونہ ہونی چاہیے: مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری
حج کے بعد کی زندگی اطاعتِ الٰہی، حسنِ اخلاق اور کردار سازی کا عملی نمونہ ہونی چاہیے: مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری
حیدرآباد، 7 جون (پریس ریلیز):
حج اسلام کا وہ عظیم رکن ہے جو انسان کی ظاہری و باطنی زندگی میں ایک ہمہ گیر انقلاب برپا کرتا ہے۔ یہ محض چند عبادات اور مناسک کی ادائیگی کا نام نہیں بلکہ ایک ایسی جامع تربیت گاہ ہے جہاں بندۂ مؤمن اخلاص، تقویٰ، صبر، ایثار، قربانی، اتحادِ امت اور اطاعتِ الٰہی کے عملی اسباق حاصل کرتا ہے۔ حرمین شریفین کی مقدس فضاؤں میں گزرا ہوا ہر لمحہ انسان کے دل و دماغ پر ایسے نقوش ثبت کر دیتا ہے جو اس کی پوری زندگی کی سمت متعین کرتے ہیں۔ حج سے واپس آنے والا شخص اگر اس روحانی سرمایہ کو اپنی عملی زندگی میں محفوظ رکھے تو وہ نہ صرف اپنی ذات بلکہ پورے معاشرے کے لیے خیر و بھلائی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
ان خیالات کا اظہار لینگویجز ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے پریسیڈنٹ مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے آج صدر دفتر، بنجارہ ہلز روڈ نمبر 12 میں منعقدہ عوامی اصلاحی نشست بعنوان "ما بعد حج زندگی کیسے گزاریں؟” کے تحت عوامی مسائل کا حل، احکامِ شریعت کی روشنی میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔
مولانا نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص حج ادا کرے اور اس دوران فسق و فجور اور بے حیائی سے بچے، وہ اس دن کی طرح گناہوں سے پاک ہو کر لوٹتا ہے جس دن اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ حج کے بعد حاجی کی زندگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتی ہے، جہاں اس کا کردار، اس کی سوچ، اس کی ترجیحات اور اس کا طرزِ عمل مکمل طور پر اسلامی تعلیمات کا آئینہ دار ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ حج انسان کو یہ سبق دیتا ہے کہ وہ اپنی خواہشات کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے تابع کر دے، نفس و شیطان کی غلامی سے آزاد ہو جائے اور اپنی زندگی کو تقویٰ، طہارت اور بندگی کے سانچے میں ڈھال لے۔ احرام، طواف، سعی، وقوفِ عرفات، مزدلفہ کی شب باشی، رمیِ جمرات اور قربانی جیسے تمام مناسک درحقیقت انسان کی روحانی تربیت کے مراحل ہیں، جن کے ذریعے وہ صبر، تحمل، اخوت، برداشت اور قربانی جیسی اعلیٰ صفات سے آراستہ ہوتا ہے۔
مولانا قادری نے مزید فرمایا کہ حج مبرور کا صلہ جنت ہے اور حج سے لوٹنے والا حاجی گویا ایک معصوم بچے اور جنتی انسان کی صفات کا حامل بن جاتا ہے۔ لہٰذا اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی زبان، اپنے اعمال، اپنے معاملات اور اپنے اخلاق کو ہر قسم کی برائی سے محفوظ رکھے۔ ایک حقیقی حاجی وہ ہے جس کے کردار میں اللہ تعالیٰ کے مہمان ہونے کی جھلک نمایاں ہو اور جس کے رویّے سے امن، محبت، خیر خواہی اور خدمتِ خلق کا پیغام ملے۔
انہوں نے کہا کہ حج دراصل اللہ تعالیٰ کے ساتھ وفاداری اور اطاعت کا ایک دائمی عہد ہے۔ حاجی جب لبیک کہہ کر اللہ کے حضور حاضر ہوتا ہے تو وہ اپنی پوری زندگی کو ربِ کریم کی رضا کے مطابق گزارنے کا عزم بھی کرتا ہے۔ اسی لیے حج کے بعد کی زندگی کو حیاتِ طیبہ، حیاتِ صالحہ اور حیاتِ بندگی بنانا ہر حاجی کا اولین فریضہ ہے۔
مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے حج مشنوں، حج کمیٹیوں، ٹور آپریٹرس اور حج سے وابستہ تمام اداروں پر زور دیا کہ وہ حجاجِ کرام کو صرف مناسکِ حج کی تعلیم تک محدود نہ رکھیں بلکہ ان کی ایمانی، روحانی، اخلاقی اور فکری تربیت کا بھی مؤثر انتظام کریں تاکہ حجاج کرام حج کے حقیقی مقاصد اور ثمرات سے بھرپور استفادہ کر سکیں اور معاشرے میں خیر، اصلاح اور اسلامی اقدار کے فروغ کا ذریعہ بنیں۔
انہوں نے کہا کہ حج ایک عظیم تربیتی مدرسہ ہے اور اس کے اصل نتائج اس وقت ظاہر ہوتے ہیں جب حاجی اپنی بقیہ زندگی میں اس تربیت کو عملی شکل دیتا ہے۔ اگر حجاج کرام حج کے بعد بھی اخلاص، تقویٰ، حسنِ اخلاق، عفو و درگزر، صبر و تحمل اور خدمتِ خلق کو اپنا شعار بنا لیں تو امتِ مسلمہ کی نشأۃِ ثانیہ اور اس کی عظمتِ رفتہ کی بحالی میں دیر نہیں لگے گی۔
آخر میں مولانا نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تمام حجاجِ کرام کے حج کو حجِ مبرور، سعی کو سعیِ مشکور اور گناہوں کو معاف فرما کر انہیں اپنی رضا، رحمت اور جنت الفردوس کا مستحق بنائے، اور ان کی زندگیوں کو دینِ اسلام کی خدمت اور انسانیت کی بھلائی کے لیے وقف فرما دے۔ آمین۔



