انٹر نیشنل

غیرملکی کارکنوں کے لیے ایکسپائر ورک پرمٹ (اقامہ) درست کرانے کی مہلت میں توسیع۔ کارکناں متوجہ ہوں 

کے این واصف

سعودی عرب میں غیرملکی کارکناں میں عام مسئلہ ورک پرمٹ (اقامہ) کا بننا یا اس کی تجدید ہونا ہوتاہے۔ وزارت لیبر اس سلسلہ میں اجیر و آجر کو سہولت فراہم کرنے رعایتی اقدام بھی کرتی ہے۔

 

تازہ اطلاع کے مطابق سعودی وزارتِ افرادی قوت نے مملکت میں ان غیرملکی کارکنوں کے لیے رعایتی مہلت میں مزید 6 ماہ کی توسیع کا اعلان کیا ہے۔ جن کارکناں کے ورک پرمٹ ایکسپائر ہوئے 12 ماہ سے زیادہ ہو چکے ہیں۔

 

اخبار 24 کے مطابق وزارتِ افرادی قوت کا کہنا ہے وہ غیرملکی کارکن بھی اس مہلت سے مستفیض ہوسکیں گے جن کے ورک پرمٹ 6 ماہ یا اس سے زائد مدت سے جاری ہی نہیں کیے گئے۔

 

وزارت نے واضح کیا کہ مہلت میں توسیع کا فیصلہ لیبر قوانین کے ضوابط کو منظم کرنا اور آجر و اجیر کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔وزارت نے کمپنی اور اداروں کے مالکان کو ہدایت کی کہ وہ مہلت کے دوران اپنے کارکنوں کے ورک پرمٹ کی تجدید یا اجرا کرائیں تاکہ کسی قسم کی قانونی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

 

واضح رہے قانونِ محنت کے مطابق وہ غیرملکی کارکن جو مملکت میں نئے آتے ہیں، ان کی تجرباتی مدت 3 سے 6 ماہ ہوتی ہے۔ تجرباتی مدت کے ختم ہونے سے قبل ہی کارکنوں کے ورک پرمٹ اور اقاموں کا اجرا کرنا ضروری ہوتا ہے۔

 

یاد رہے اس سے قبل قوی پلیٹ فارم نے اعلان کیا تھا کہ ایسے کارکن جن کے ورک پرمٹ کو ختم ہوئے تین ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے یکم جولائی سے انہیں خود کار نظام کے تحت آجروں کے ریکارڈ سے ہٹایا جائے گا۔

 

وزارت نے کاکناں کے حق میں اب ایک اور سہولت یہ دی ہے کہ کوئی بھی کارکن جس کا اقامہ ایکسپائر ہوگیا ہے وہ اپنے سابق کفیل کی منظوری کے بغیر کسی دوسری کمپنی میں اپنا اقامہ ٹرانسفر کروا سکتاہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button