تلنگانہ

نہ آدھار، نہ ووٹر کارڈ؛ 40 سال بعد نعش سے ثابت ہوئی ہندوستانی شناخت – سعودی عرب میں تلنگانہ کے شہری کی دکھ بھری کہانی

جدہ 5 جولائی ( عرفان محمد)  تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے ایک غریب خاندان کے غیر مقیم ہندوستانی (این آر آئی) کی تقریباً چار دہائیوں بعد وطن واپسی اس وقت ممکن ہوئی جب ان کی وفات کے بعد ان کی شناخت اور شہریت ثابت کی گئی۔ اس دوران انہوں نے نہ صرف اپنے وطن سے دور زندگی گزاری بلکہ ہندوستان کو ایک نسل کی تبدیلی کے ساتھ ترقی کرتے بھی دیکھا۔

 

تلنگانہ کے ضلع سدی پیٹ کے دباکا منڈل کے چلاپور گاؤں سے تعلق رکھنے والے بوٹلا چندریا 1980 کی دہائی میں غربت سے نجات کی تلاش میں سعودی عرب روانہ ہوئے تھے۔ شادی کے صرف ایک سال بعد وہ روزگار کی غرض سے خلیجی ملک چلے گئے اور پھر تقریباً 40 برس تک ایک بار بھی ہندوستان واپس نہیں آئے۔

 

چندریا جب ہندوستان سے روانہ ہوئے تھے اس وقت نہ آدھار کارڈ تھا اور نہ ہی الیکٹر فوٹو آئیڈینٹیٹی کارڈ (EPIC) کا نظام موجود تھا۔ ان کے پاس صرف اُس زمانے میں جاری کیا گیا ہندوستانی پاسپورٹ ہی شہریت کا واحد ثبوت تھا۔ 40 برس تک وطن نہ آنے کی وجہ سے وہ نہ آدھار کارڈ بنوا سکے اور نہ ہی ووٹر شناختی کارڈ حاصل کر سکے۔

 

سعودی عرب میں قیام کے دوران انہوں نے معمولی نوعیت کے کام کرکے زندگی گزاری۔ ان کا پاسپورٹ برسوں پہلے ہی معیاد ختم کر چکا تھا، جس کے باعث اقامہ (رہائشی ویزا) کی تجدید ممکن نہ ہو سکی اور وہ غیر قانونی طور پر سعودی عرب میں مقیم رہے۔ دوسری جانب ہندوستان میں پاسپورٹ کی تجدید کے لیے آدھار اور دیگر دستاویزات ضروری تھیں، جن کی عدم موجودگی اور ملازمت کے غیر یقینی حالات کے باعث انہوں نے قانونی کارروائی سے گریز کیا۔

 

چندریا کی اہلیہ لکشمی نے اردو لیکس سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ 40 سال بیرون ملک رہے، لیکن اس دوران نہ مجھے اور نہ ہی اپنے والدین کو ایک ہزار روپے بھی نہیں بھیجے۔ میں نے اپنی پوری زندگی صرف ایک بیوہ ہی نہیں بلکہ ایک یتیم کی طرح بھی گزاری۔

 

مئی 2026 میں چندریا اچانک بیمار پڑ گئے اور انتقال کر گئے۔ ان کی خبر لینے والا کوئی موجود نہ ہونے پر اسپتال انتظامیہ نے کارروائی کی۔ ان کے معیاد ختم شدہ اقامے اور ویزا نمبر کی مدد سے سعودی حکام نے ان کی شناخت اور شہریت کا سراغ لگایا اور ہندوستانی سفارت خانے سے رابطہ کیا۔ چونکہ ان کے والدین کا پہلے ہی انتقال ہو چکا تھا اور طویل عرصے سے اہل خانہ سے رابطہ منقطع تھا، اس لیے ہندوستانی سفارت خانہ، ریاض نے تلنگانہ میں ان کے خاندان کی تلاش شروع کی۔

 

سفارت خانہ کی معاونت سے تلگو کمیونٹی تنظیم ساٹا سنٹرل کے نمائندے فاروق نے لکشمی سے رابطہ قائم کیا، متوفی کی شناخت اور تفصیلات کی تصدیق کی اور تمام قانونی کارروائیاں مکمل کیں۔ توقع ہے کہ بوٹلا چندریا کی نعش آئندہ ایک یا دو دن میں حیدرآباد پہنچ جائے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button