تلنگانہ کے میڈیکل طلبہ کو حکومت کے فیصلہ سے نقصان کا خدشہ سارا تلنگانہ صدائے احتجاج بلند کرے۔ کلواکنٹلہ کویتا

تلنگانہ کے میڈیکل طلبہ کو حکومت کے فیصلہ سے نقصان کا خدشہ
سارا تلنگانہ صدائے احتجاج بلند کرے۔ کلواکنٹلہ کویتا
حیدرآباد: تلنگانہ رکشنا سینا کی سربراہ کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ تلنگانہ ریاست تمام شعبوں میں مقامی عوام کے مکمل حقوق کے حصول کے لئے حاصل کی گئی تھی، لیکن کانگریس حکومت ایک ایک کرکے تلنگانہ کے عوام کے تمام تحفظات ختم کر رہی ہے۔ خاص طور پر میڈیکل نشستوں میں مقامی حیثیت سے متعلق حکومت کے فیصلہ سے تلنگانہ کے طلبہ کو نقصان اور دیگر ریاستوں کے طلبہ کو فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔
کویتا نے کہا کہ حکومت کو اس مسئلہ کو درست کرنے کے بجائے سپریم کورٹ میں اپنے فیصلہ کا دفاع کرنا انتہائی تشویشناک ہے۔ پہلے جی او 33 جاری کیا گیا اور بعد میں اس میں مزید توسیع کرتے ہوئے جی او 150 لایا گیا۔ اصول کے مطابق پہلی جماعت سے ساتویں جماعت تک تلنگانہ میں تعلیم حاصل کرنے والوں کو مقامی تصور کیا جانا چاہئے، لیکن نئے جی او کے ذریعے آٹھویں سے بارہویں جماعت تک یہاں تعلیم حاصل کرنے والوں کو بھی مقامی تصور کرنے کی راہ ہموار کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس فیصلہ پر سنجیدگی سے سوال کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ اگر آج یہ جی او صرف میڈیکل نشستوں تک محدود ہے تو مستقبل میں اسے دیگر شعبوں میں بھی نافذ کئے جانے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی حقوق کا تحفظ تلنگانہ تحریک کے بنیادی مقاصد میں شامل رہا ہے اور ان حقوق کو کمزور کرنے والے کسی بھی فیصلے کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔کویتا نے تلنگانہ تحریک کے دوران جے اے سی کے چیئرمین رہنے والے پروفیسر کودنڈارام سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ حکومت کے اس فیصلہ کی مخالفت کریں۔ انہوں نے تلنگانہ کے دانشور طبقے اور طلبہ سے اپیل کی کہ وہ بھی اس فیصلہ کے خلاف آواز بلند کریں۔
انہوں نے کہا کہ مقامی حیثیت کے مسئلہ کی وجہ سے پہلے ہی گروپ-1 میں دیگر ریاستوں سے تعلق رکھنے والے کئی امیدواروں کے آنے کی بات سامنے آچکی ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری کئے گئے ان جی اوز کے ممکنہ اثرات کو سنجیدگی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔کویتا نے اپیل کی کہ تلنگانہ کے تمام طبقات متحد ہوکر ان جی اوز کی مخالفت کریں اور حکومت پر دباؤ ڈالیں کہ تلنگانہ کے بچوں کے مفادات کے تحفظ کے لئے ان فیصلوں کو واپس لیا جائے۔



