’شرعیہ کورٹ کا حکم کسی کی شادی ختم نہیں کر سکتا‘چھتیس گڑھ ہائی کورٹ کا فیصلہ

نئی دہلی: چھتیس گڑھ ہائی کورٹ نے خواتین کی ازدواجی زندگی کے حقوق سے متعلق ایک بڑا فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت کے مطابق کوئی بھی نجی مذہبی ادارہ یا شرعیہ کورٹ بتانے والی تنظیمیں قانونی عدالت کا درجہ نہیں رکھتی ہیں۔
ہائی کورٹ نے کہا کہ ایسی تنظیمیں کسی عورت یا مرد کی ازدواجی حیثیت طے نہیں کر سکتیں اور نہ ہی اپنے کسی حکم کے ذریعے کسی شادی کو ختم کر سکتی ہیں۔
ہائی کورٹ نے یہ تبصرہ رائے پور کے ٹکرا پارہ کی باشندہ نیروش عباسی سے متعلق ایک مقدمہ پر سماعت کرتے ہوئے کیا ہے۔ نیروش کے پہلے شوہر کا 2015 میں انتقال ہو گیا تھا۔ اس کے بعد 18 جولائی 2020 کو ان کی شادی محمد عابد خان سے ہوئی۔
حالانکہ شادی کے بعد بچوں کے نئے خاندان میں گھلنے ملنے کو لے کر میاں بیوی کے درمیان اختلافات شروع ہو گئے۔متاثرہ خاتون کا الزام ہے کہ تنازعہ بڑھنے پر ان کے شوہر اور سسرال والوں نے انہیں ہراساں کیا۔ ’ون اسٹاپ سکھی سینٹر‘ میں کاؤنسلنگ کرانے کے بعد بھی جب معاملہ حل نہیں ہوا تو
خاتون نے 7 اکتوبر 2021 کو ایس ایس پی سے شکایت کی۔ شکایت کی بنیاد پر یکم نومبر 2021 کو خواتین پولیس اسٹیشن، رائے پور میں شوہر اور سسرال والوں کے خلاف دفعہ 498-اے اور 34 کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی۔ دوسری جانب شوہر کا دعویٰ تھا کہ اس نے طلاق حسن کے تحت 3 مرحلوں میں (31 اگست، 30 ستمبر اور 30 اکتوبر 2021) ڈیجیٹل ذریعے سے طلاق دی تھی۔
اسی دوران رائے پور ادارۂ شریعہ اسلامی کورٹ نے 18 جنوری 2022 کو ایک حکم میں خاتون کو طلاق شدہ قرار دے دیا۔ادارۂ شریعہ کے اس حکم کو چھتیس گڑھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔ معاملے کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس امتیندر کشور پرساد کی بنچ نے شریعہ کورٹ کے حکم کو قانونی اختیار سے مکمل طور پر مبریٰ قرار دیا۔
ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے ’وشوا لوچن مدن بمقابلہ یونین آف انڈیا‘ کا حوالہ دیا۔ عدالت نے کہا کہ دارالقضاء یا فتویٰ جاری کرنے والے نجی ادارے ملکی قانون سے قائم عدالتیں نہیں ہیں۔
وہ ادارے صرف مذہبی مشورے دے سکتے ہیں، لیکن ان کی رائے کسی شخص کے قانونی حقوق، ازدواجی حیثیت یا ذمہ داریوں کو تبدیل نہیں کر سکتی ہیں۔ ہائی کورٹ نے عرضی کو جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے ادارۂ شریعہ کے حکم کو مکمل طور پر کالعدم قرار دیا۔
عدالت نے بتایا کہ نکاح کے خاتمے یا ازدواجی حقوق کا قانونی تعین صرف ملک کے مجاز عدالتی طریقۂ کار کے ذریعے ہی ہو سکتا ہے۔ حالانکہ ہائی کورٹ نے اس دوران طلاق حسن کی آئینی حیثیت پر کوئی تبصرہ یا فیصلہ نہیں دیا۔



