صحافیوں کو کیش لیس علاج کی سہولت دی جائے۔نارائن پیٹ میں صحافیوں کی پوسٹ کارڈ تحریک، گاندھی جی کو خراجِ عقیدت۔ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کو پوسٹ کارڈز روانہ

نارائن پیٹ 2/اکتوبر(اردو لیکس)عوامی مسائل کو اپنی تحریروں کے ذریعہ حکومت اور سماج کے سامنے اجاگر کرنے والے صحافیوں کی صحت اور طبی تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے نارائن پیٹ مستقر پر صحافیوں نے پوسٹ کارڈ تحریک چلائی۔
صحافیوں نے مطالبہ کیا کہ سرکاری ملازمین کی طرز پر تمام ورکنگ جرنلسٹس کو سرکاری و خانگی اسپتالوں میں کیش لیس طبی خدمات کی سہولت فراہم کرنے والے ہیلتھ کارڈز جاری کیے جائیں۔ ریاستی صدر و تلنگانہ میڈیا اکیڈمی و سابق چیئرمین الم نارائنا اور ریاستی جنرل سکریٹری ماروتی ساگر کی اپیل پر جمعہ کے روز نارائن پیٹ ضلع مستقر کے علاوہ مختلف منڈلوں میں صحافیوں نے پوسٹ کارڈ احتجاج میں حصہ لیا۔
ضلع مستقر پر صحافیوں نے میونسپل پارک سے ریالی نکالی اور صحافیوں کو ہیلتھ کارڈز فراہم کرنے کے مطالبے پر نعرے لگاتے ہوئے قائدِ قوم مہاتما گاندھی کے مجسمے کو گاندھی جینتی پر پھول مالا چڑھاتے ہوئے خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔بعد ازاں صحافیوں نے ریالی کےذریعہ پوسٹ آفس پہنچے اور تلنگانہ کے چیف منسٹر اینومولا ریونت ریڈی کے نام پوسٹ کارڈز روانہ کیے۔ پوسٹ کارڈز میں مطالبہ کیا گیا کہ
صحافیوں کو کیش لیس ہیلتھ کارڈز جاری کرتے ہوئے ریاست کے تمام سرکاری و خانگی اسپتالوں میں طبی سہولت فراہم کی جائے۔ اس موقع پر صحافیوں نے کہا کہ صحافی کی صحت صرف ایک فرد کی صحت نہیں بلکہ اس کے پورے خاندان کی سلامتی اور مستقبل سے وابستہ ہے۔ اچانک بیماری یا ہنگامی صورتحال میں مالی دشواریوں کے باعث صحافیوں اور ان کے افرادِ خاندان کو علاج سے محروم ہونے کی نوبت نہیں آنی چاہیے۔ حکومت کو صحافیوں کے لیے جامع طبی تحفظ فراہم کرنا چاہیے۔انہوں نے صحافیوں کے قانونی مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ ان کی فلاح و بہبود اور تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
صحافیوں نے کہا کہ ’’عوام کے لیے ہماری آواز، ہمارے خاندانوں کے لیے حکومت کی ضمانت‘‘ کے پیغام کے ساتھ یہ تحریک شروع کی گئی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ صحافیوں کے جائز مطالبات پر مثبت انداز میں غور کرے۔صحافیوں نے انتباہ دیا کہ اگر مطالبات کی تکمیل کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے تو احتجاجی تحریک کو مزید وسیع کیا جائے گا۔اس موقع پر امباداس، نارائنہ، الوال رمیش، لنگم، محمد رفیع، ایم۔ پرتاپ ریڈی، ارشد فیصل، ظہیر صوفی، برہماند راجو، وینکٹ راملو، تاٹی مدھوسودھن
وکرم، آنند، وینکٹ، موہن راج، انیل، شری دھر، نرسمہا، کرشنا، اشوک کمار، راگھویندر، گوپال، رمیش ریڈی، ستیہ نند ریڈی، محمد اشفاق، محمد حسین، ذاکر، اظہر کے علاوہ دیگر صحافی موجود تھے۔




