جنرل نیوز

اُردو اخبارات کے گذشتہ (2) سالہ بلز کی عدم اجرائی پرریاست گیر سطح پر ریاستی اُردو صحافیوں کا احتجاج کرنے کا حکومت کو انتباہ

اُردو اخبارات کے گذشتہ (2) سالہ بلز کی عدم اجرائی پرریاست گیر سطح پر

ریاستی اُردو صحافیوں کا احتجاج کرنے کا حکومت کو انتباہ

عہدیدار خواب غفلت سے جاگیں ……بلوں کی فوری اجرائی کیلئے اقدامات کرنے پرزور ……: رفیق شاہی

 

نظام آباد:5/اکٹوبر (ای میل) تلنگانہ اردو اکیڈمی اپنے قیام کی 50ویں سال میں داخل ہوچکی ہے مگر افسوس کہ اس اکیڈمی ھٰذا سے گذشتہ دو سالوں سے ریاست تلنگانہ کے اُردو صحافیوں کے ساتھ سوتیلا سلوک برتا جارہا ہے اور سالانہ امداد کے نام پر گذشتہ دو سالوں سے بلوں کے ادخال کے باوجود اس کی ادائیگی میں تساہلی برتی جارہی ہے۔

 

جس کے باعث آج ریاستی اُردو صحافتی برادری شدید مالی مشکلات سے دوچار نظر آتی ہے۔ جبکہ موجودہ تلنگانہ حکومت کے محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت جملہ 4مختلف شعبہ جات (اقلیتی مالیاتی کارپوریشن، حج کمیٹی، اوقاف بورڈ، اور اُردو اکیڈمی) سے وابستہ مختلف شعبہ جات سے ترقیاتی کاموں کو انجام دیاجاتا ہے۔ اسی طرح ریاستی اردو اکیڈمی کی جانب سے اُردو کے فروغ کیلئے سابقہ میں کئی اسکیمات کو نافذ کرتے ہوئے اُردو صحافیوں کو مالی اعانت کے علاوہ مختلف مواقعوں پر اشتہارات کی اجرائی عمل میں لاتے ہوئے مالی طور پر مستحکم کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔

 

لیکن 2/جون 2014ء کو ملک کی 29ویں ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد اب اُردو اکیڈمی کے ذریعہ صرف ایک یا دو اسکیمات پر عمل آوری کی جارہی ہے جو قابل افسوس بات ہے۔ لیکن اب یہ دیکھاجارہا ہے کہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد دوسری ریاستی برسر اقتدار کانگریس کی ”عوامی حکمرانی“ میں ریاستی سطح کے تقریباً 360چھوٹے و اوسط اردو اخبارات و رسائل سے وابستہ ایڈیٹرس جنہیں ہر سال اکیڈمی ھٰذا کی جانب سے سالانہ فی کس 15ہزار روپئے بطور مالی اعانت دی جاتی ہے

 

۔ جس پر عہدیداروں کی عدم دلچسپی و لاپرواہی کی وجہہ سے گذشتہ دو سالوں سے داخل کردہ بلوں کی اجرائی میں تساہلی برتی جارہی ہے۔اس حکومت کے اقدام سے ان دو سالہ مالی امداد کی امید رکھنے کئی ایڈیٹرس اس دارِ فانی سے کوچ کرچکے ہیں ……اس کا ذمہ دار کون ہے اور کس کو فائدہ پہنچے گا۔ ان خیالات کا اظہار متحدہ ضلع نظام آباد سے وابستہ معروف صحافی، ایڈیٹر ان چیف ہفتہ وار للکار نظام آباد اور حکومت تلنگانہ کے کارنامہ حیات ایوارڈ یافتہ اردو صحافی رفیق شاہی نے اپنے ایک احتجاجی صحافتی بیان میں کیا اور بتایاکہ تلنگانہ حکومت کی اکیڈمی ھٰذا کو ہر سال کئی کروڑہا روپئے بجٹ بھی مختص کیاجاتا ہے اس کے باوجود اکیڈمی ھٰذا کی صحافیوں کے تئیں تعصبیت و تنگ نظر ی اور ناانصافی کا سلسلہ جاری ہے

 

۔ واضح رہے کہ تلنگانہ ریاستی وزیر اقلیتی بہبود محمد اظہر الدین نے حال ہی میں تلنگانہ قانون ساز کونسل میں وقفہ سوالات کے دوران اس بات کا اعتراف کیا کہ گذشتہ (2) سال کے دوران حکومت تلنگانہ کی جانب سے (5,101) کروڑ روپئے کا اقلیتی بجٹ مختص کیا گیا جس میں سے متعلقہ حکام نے محض (1,972) کروڑ روپئے خرچ کئے جو کہ فیصد کے اعتبار سے (38.60) فیصد ہوتا ہے۔ رفیق شاہی نے مزید کہا کہ حکومت تلنگانہ کی جانب سے محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت چلائی جانے والی تمام اسکیمات پر ایک اقلیتی بہبود کمیٹی کی تشکیل عمل میں لائی گئی

 

یہ اقدام ریاست کے تمام اقلیتوں کیلئے ایک فخر کی بات ہے اور اس تشکیل کمیٹی کو صرف اقلیتی اقامتی اسکولس کی موجودہ کارکردگی کو بہتر بنانے کے کام کی ذمہ داری سونپی گئی ہے اگر اسی طرح حکومت تلنگانہ میں اس وقت اقلیتی مشیر اعلیٰ محمد علی شبیر اور ریاستی وزیر اقلیتی بہبود محمد اظہر الدین کی جانب سے تلنگانہ اردو اکیڈمی کی جاریہ مختلف اسکیمات پر نظر رکھنے اور کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے ایک علیحدہ اُردو خصوصی کمیٹی کی تشکیل عمل میں لائی جائے جس میں ریاستی سطح سے وابستہ مختلف اردو ادیبوں، شعراء، اور صحافیوں کو نامزد کریں اور اس اکیڈمی ھٰذا میں جاریہ مختلف شکایات کا ازالہ ہوسکے۔ یہاں اس امر کا انکشاف لازمی ہوگا کہ گذشتہ 8سال سے حکومت تلنگانہ کی جانب سے تلنگانہ اردو اکیڈمی کو مختلف اسکیمات جاری رکھنے کیلئے ہر سال کی طرح ریاستی بجٹ میں کئی کروڑہا روپئے مختص کئے گئے جن میں سے متعلقہ حکام نے صرف برائے نام انہیں استعمال کرکے ماباقی رقومات کو حکومتی خزانے کو واپس کرنے کے واقعات تلنگانہ کی پہلی برسر اقتدار ٹی آر ایس حکومت میں اکیڈمی ھٰذا سے وابستہ سابقہ صدر نشین اردو اکیڈمی سید مجیب الدین اور دوسری برسر اقتدار کانگریس حکومت میں موجودہ صدر نشین اردو اکیڈمی طاہر بن حمدان کی معیادوں کے دوران ان کی ناقص کارکردگی کے باعث پیش آئے ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اکیڈمی ھٰذا سے وابستہ صدر نشین جیسے باوقار عہدے پر فائز ان دونوں شخصتیں اردو زبان اور تہذیب سے نابلد ہونے سے اردو کو کافی نقصان پہنچ رہاہے۔ جس پر ایک شعر یاد آتا ہے

ہمیں اپنوں نے لوٹا غیروں میں کہاں دم تھا

میری کشتی تھی ڈوبی وہاں جہاں پانی کم تھا

کے مصداق نظر آتی ہے۔

ان دونوں شخصیتوں کی وجہہ سے گذشتہ 12سالوں سے اُردو زبان کے کاز، ترقی اور فروغ اردو کے کلچرل پروگرام، مشاعرے، ادبی محفلیں، اور چھوٹے اخبارات کیلئے اشتہارات کی اجرائی جیسے اہم ترقیاتی کام ٹھپ ہوکر رہ گئے ہیں۔

آخر میں موصوف نے متعلقہ حکام پر زور دیاکہ تلنگانہ ریاست کے چھوٹے و اوسط اُردو اخبارات و رسائل کے ایڈیٹرس کیلئے گذشتہ دو سالہ سالانہ مالی امداد کے بلس کی فوری اجرائی عمل میں لاتے ہوئے اردو کے ساتھ انصاف کریں ورنہ ملک کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد ؒ کے یوم پیدائش کے موقع پر 11/نومبر کو شہر حیدرآباد میں ریاست گیر سطح کے صحافیوں کی جانب سے سخت احتجاج منظم کرنے کا انتباہ دیا ہے۔ جس کی ساری ذمہ داری متعلقہ اردو اکیڈمی حکام پر عائد ہوگی…… اب فیصلہ آپ کے ہاتھ ہے……!!

متعلقہ خبریں

Back to top button