’مجرموں کے دل میں موت کا خوف بٹھاؤ‘، دہلی ریپ کیسیس پر سپریم کورٹ کے جج جسٹس جے بی پاردی والا کا سخت حکم

دہلی-این سی آر میں حالیہ دنوں خواتین کے ساتھ پیش آنے والے مسلسل عصمت ریزی کے واقعات پر سپریم کورٹ نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ عدالت نے ان جرائم کی روک تھام کے لئے سخت اقدامات کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کے خلاف جرائم کرنے والوں کے دلوں میں موت اور قانون کا خوف پیدا کرنا ضروری ہے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ مردوں کے ذہنوں میں یہ خوف پیدا کرنا ضروری ہے کہ اگر انہوں نے جنسی حملہ کیا تو انہیں لازماً اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔
جسٹس جے بی پاردی والا نے کہا کہ ایسا ماحول پیدا کیا جائے جہاں خواتین رات کے اوقات میں بھی سڑکوں پر بلا خوف و خطر گھوم سکیں۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ خواتین کی سلامتی کے لئے کیے جانے والے اقدامات صرف کاغذوں تک محدود نہیں رہنے چاہئیں۔ ہر خاتون کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ وہ محفوظ ہے۔ عدالت نے کہا کہ ایسا ماحول بنایا جائے جہاں خواتین رات 11 بجے بھی دہلی-این سی آر کی سڑکوں اور میٹرو میں بلا خوف آزادانہ طور پر سفر کرسکیں۔
عدالت نے واضح کیا کہ جرم ہونے کے بعد کارروائی کرنے سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ایسے جرائم کو ہونے ہی سے روکا جائے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ مجرموں کے دل میں یہ خوف پیدا ہونا چاہیے کہ اگر انہوں نے ایسا جرم کیا تو انہیں سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے، تب ہی خواتین کے خلاف جرائم پر مؤثر طریقے سے قابو پایا جاسکتا ہے۔
عدالت نے پولیس کو خواتین کے خلاف جرائم کی روک تھام کے لیے ضرورت پڑنے پر سخت فیصلے لینے کا مشورہ بھی دیا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اس معاملے میں کچھ سختی اختیار کرنے سے بھی گریز نہیں کرنا چاہیے۔ انسانی حقوق جیسے مسائل سامنے آنے کے باوجود جہاں ضروری ہو، وہاں سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔
سپریم کورٹ نے عوامی مقامات پر پولیس کی مسلسل گشت میں مزید اضافہ کرنے اور سی سی ٹی وی کیمروں کو ہر وقت فعال رکھنے کی بھی ہدایت دی۔
واضح رہے کہ حال ہی میں دہلی کے ایک پارک میں 17 سالہ لڑکی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس سے قبل سوروپ نگر میں ایک نوعمر لڑکی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کے بعد اسے قتل کیے جانے کا معاملہ بھی سامنے آیا تھا۔ اس کے علاوہ سلیپر بس میں ایک نابالغ لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کا واقعہ بھی پیش آیا۔
ان واقعات پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے ان معاملات کی سماعت شروع کی ہے۔



