عادل آباد پولیس نے اغوا کی گئی بچی کو 6 گھنٹوں میں ڈھونڈ نکالا

عادل آباد: ریاست تلنگانہ عادل آباد ضلع کی پولیس نے اغوا کے ایک معاملے کو فوری کارروائی کرتے ہوئے صرف 6 گھنٹوں میں حل کر لیا اور 4 سالہ بچی کو بحفاظت بازیاب کر کے ماں باپ کے حوالے کر دیا۔
منگل کے روز عادل آباد ضلع کے تلمڈگو منڈل کے روئڈی گاؤں سے تعلق رکھنے والی 4 سالہ بچی آترم گنگامنی کے اغوا کرلیا گیا تھا۔ اطلاع ملتے ہی ضلع ایس پی اکھل مہاجن آئی پی ایس کی ہدایت پر پولیس نے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے کر بچی کی تلاش شروع کر دی۔
پولیس کے مطابق ملزمہ ناگوبائی نے مبینہ طور پر بچی کو ارکان خاندان کی اطلاع کے بغیر عادل آباد شہر لایا اور بس اسٹینڈ کے علاقے میں اپنی جان پہچان والی خاتون بھارتی کے حوالے کر دیا۔ بچی کی ماں آترم کپلی بائی نے شام 5 بجے تلمڈگو پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی جس کے بعد اغوا کا مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کی گئیں۔
عادل آباد ڈی ایس پی ایل جیون ریڈی کی نگرانی میں رورل سرکل انسپکٹر رحیم پاشا، رورل ایس آئی وشنو وردھن، تلمڈگو ایس آئی ڈی۔رادھیکا اور خصوصی ٹیموں نے عادل آباد، تامسی سمیت مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر تلاشی مہم انجام دی ۔
پولیس نے بس اسٹینڈس، اہم چوراہوں اور سڑکوں کے سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ کے ساتھ تکنیکی شواہد کی بنیاد پر تلاش جاری رکھی۔پولیس کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں گزشتہ رات تقریباً 11 بجے عادل آباد شہر کے مہالکشمی واڑہ علاقے میں بچی کا پتہ لگا لیا گیا اور اسے بحفاظت بازیاب کر لیا گیا۔ آج صبح ضلع پولیس ہیڈکوارٹر میں ایس پی اکھل مہاجن نے بچی کو اس کے ماں باپ آترم جنگو اور آترم کپلی بائی کے حوالے کیا۔
بچی کے مل جانے پر ماں باپ جذباتی ہو گئے اور انہوں نے ایس پی سمیت تمام پولیس حکام کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی فوری کارروائی کی وجہ سے ہی ان کی بیٹی دوبارہ انہیں مل سکی جس کے لیے وہ زندگی بھر پولیس کے شکر گزار رہیں گے۔ایس پی اکھل مہاجن نے کہا کہ بچوں کی حفاظت کے معاملے میں کسی بھی قسم کی لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اگر کوئی بچہ لاپتہ ہو جائے یا کوئی مشتبہ صورتحال نظر آئے تو فوری طور پر قریبی پولیس اسٹیشن یا ڈائل 100 پر اطلاع دیں۔پولیس نے بتایا کہ بچی کے اغوا کے الزام میں ناگوبائی اور غیر قانونی طور پر بچی کو اپنے پاس رکھنے والی
25 سالہ بھارتی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق بھارتی کے خلاف ماضی میں بھی مقدمات درج رہ چکے ہیں۔



