حیدرآباد میں باسی مچھلی اور جھینگوں کی فروخت کا پردہ فاش۔ شادی بیاہ کی تقاریب میں بھی سپلائی کا انکشاف

حیدرآباد: گولکنڈہ ٹاسک فورس اور منگل ہاٹ پولیس نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے عوامی صحت سے کھلواڑ کرنے والے ایک گروہ کو بے نقاب کر دیا، جو باسی مچھلی اور جھینگوں کو کیمیکلس کے ذریعے محفوظ کرکے تازہ ظاہر کرتے ہوئے فروخت کر رہا تھا۔
پولیس کو موصولہ خفیہ اطلاع پر مچھلی پورہ، بیٹھک منگل ہاٹ میں واقع تارا فشریز پر چھاپہ مارا گیا جہاں سے چار افراد کو گرفتار کیا گیا۔ گرفتار شدگان میں 24 سالہ شنکر سنگھ (مالک) 32 سالہ من سنگھ 36 سالہ گلاب سنگھ اور 31 سالہ روہت سنگھ شامل ہیں۔
کارروائی کے دوران پولیس نے 100 کلو گرام جھینگے، 162 کلو گرام مختلف اقسام کی مچھلیاں، نمک اور 10 کلو گرام سوڈیم بائی کاربونیٹ پاؤڈر سمیت تقریباً 90 ہزار روپے مالیت کا سامان ضبط کر لیا۔
پولیس کے مطابق ملزمان بیگم بازار فش مارکیٹ سے کم قیمت پر باسی مچھلی اور جھینگے خریدتے تھے جنہیں غیر صحت بخش ماحول میں سوڈیم بائی کاربونیٹ پاؤڈر کے ذریعے محفوظ رکھا جاتا تھا۔ مچھلی اور جھینگوں کو طویل عرصے تک ڈیپ فریزر اور پانی سے بھرے پلاسٹک کے ٹبوں میں رکھا جاتا تاکہ ان کے خراب ہونے کے عمل کو سست کیا جا سکے اور بدبو کو چھپایا جا سکے۔
بعد ازاں یہی باسی اور خراب مچھلیاں اور جھینگے تازہ اور معیاری قرار دے کر شادی بیاہ کی تقریبات، ہوٹلوں اور دیگر تجارتی مراکز کو فروخت کیے جاتے تھے، جس سے عوامی صحت کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے تھے۔
ماہرین کے مطابق باسی یا خراب مچھلی اور جھینگوں کا استعمال فوڈ پوائزننگ معدے اور آنتوں کے امراض، الٹی، اسہال اور دیگر سنگین طبی پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے۔ پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔



