مکہ معاہدہ فعال، سعودی دفاع کے لیے پاکستان اور ترکی میدان میں، حوثیوں سے جنگ شدت اختیار کرگئی

ایران کی حمایت یافتہ حوثی باغیوں اور سعودی عرب کے درمیان شدید جھڑپوں کے پیش نظر ’’مکہ معاہدہ‘‘ فعال ہوگیا ہے۔ سعودی عرب کے دفاع کے لئے پاکستان اور ترکی نے میدان میں اترنے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔ دونوں ممالک نے فوجی دستوں، دفاعی ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں کی سعودی عرب منتقلی کا عمل شروع کردیا ہے۔
جوہری طاقت رکھنے والے پاکستان، نیٹو رکن ملک ترکی اور تیل کے وسیع ذخائر رکھنے والے سعودی عرب کے درمیان اگست میں طے پانے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ ’’مکہ معاہدہ‘‘ عالمی سطح پر خاصی توجہ کا مرکز بنا تھا۔ حوثیوں کے حملوں کے بعد اس اتحاد کو پہلی مرتبہ بڑے امتحان کا سامنا ہے۔
اب تک حوثیوں کے حملوں کی صرف مذمت تک محدود رہنے والے پاکستان اور ترکی نے سعودی عرب کو فوجی مدد فراہم کرنے کا عمل شروع کردیا ہے۔ اس سلسلے میں پیر کو ریاض میں ہونے والے ایک ہنگامی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا۔ پاکستان کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں اس کی تصدیق کی ہے۔
کئی سال تک غیر اعلانیہ جنگ بندی کے بعد جولائی سے حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان دوبارہ لڑائی شروع ہوئی۔ حوثی سعودی عرب کے مقدس شہر مکہ سمیت مختلف علاقوں، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور بحری جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ستمبر میں دونوں جانب سے جھڑپیں مزید شدت اختیار کرگئیں۔
حوثی یمن میں سعودی حمایت یافتہ حکومت کے زیر قبضہ کئی علاقوں پر بھی قبضہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے اہم شہر تربہ کو اپنے کنٹرول میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔ گزشتہ ماہ حوثیوں نے موخا بندرگاہی شہر اور باب المندب آبنائے پر بھی کنٹرول حاصل کرنے کا اعلان کیا تھا، جس پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
اس صورتحال کے بعد سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت نے ’’ڈان آف یمن‘‘ کے نام سے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان کیا ہے۔ سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ یمنی فورسز کی مدد کے لیے 100 جنگی طیارے کارروائی میں حصہ لے رہے ہیں۔
اسی فوجی کارروائی کے اعلان کے دوران مکہ معاہدہ بھی فعال ہوگیا۔ اس کے بعد مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے مزید وسیع جنگ میں تبدیل ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔




