آیت اللہ خامنہ ای کے پہلو میں 14 ماہ کی پوتی کا بھی تابوت – زہرا محمدی کا تابوت دیکھ کر شرکاء اشکبار – تہران میں جذباتی مناظر
تہران: ایران کے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے آخری سفر کا سرکاری طور پر آغاز ہوگیا ہے۔ اس موقع پر دارالحکومت تہران میں خامنہ ای اور حملوں میں جاں بحق ہونے والے ان کے افراد خاندان کے تابوت عوامی دیدار کے لئے رکھے گئے ہیں۔ ان تابوتوں میں ان کی صرف 14 ماہ کی پوتی زہرا محمدی کا تابوت بھی شامل ہے، جس کے ساتھ ننھی بچی کی تصویر بھی رکھی گئی ہے۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں 86 سالہ آیت اللہ خامنہ ای سمیت ان کے متعدد افراد خاندان جاں بحق ہوگئے تھے۔ تقریباً چار ماہ بعد اب ان کی تدفین کی رسومات ادا کی جا رہی ہیں۔ ایران اور عراق کے پانچ شہروں میں سات روز تک جاری رہنے والی ان تقریبات کے بعد خامنہ ای کو ان کے آبائی شہر مشہد میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔ آج ان کا جسدِ خاکی عوامی دیدار کے لیے رکھا گیا۔
خامنہ ای کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ہزاروں افراد تہران پہنچے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق شرکاء نے انتقام کی علامت کے طور پر سرخ جھنڈے اٹھا رکھے تھے اور "امریکہ مردہ باد” کے نعرے لگائے۔ اس موقع پر خامنہ ای کے قریبی رفقاء بھی جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔ وزیر خارجہ عباس اور پارلیمنٹ کے اسپیکر انہیں یاد کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے بیان نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ جنوبی ڈکوٹا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "ہم نے ایران کو مکمل طور پر شکست دی ہے، اسی لیے وہ سمجھوتے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ ہم اچھے لوگ ہیں، اس لیے ہم نے انہیں آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دی ہے۔” ٹرمپ کے اس بیان کو ایران مخالف اور اشتعال انگیز قرار دیا جا رہا ہے۔



