جنگ بندی کے دوران امریکہ کا ایران پر حملہ – آبنائے ہرمز میں میزائل لانچنگ مراکز اور ایرانی کشتیوں پر حملے
حیدراباد : امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدے کیلئے اہم مذاکرات جاری ہیں، اسی دوران آبنائے ہرمز کے قریب ایک بار پھر کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔ امریکی فوج نے جنوبی ایران میں ایرانی میزائل لانچنگ مراکز اور بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کرنے والی ایرانی کشتیوں پر ’’دفاعی حملے‘‘ کیے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس کارروائی کی تصدیق کی ہے، جبکہ امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے بھی اس کی رپورٹ شائع کی ہے۔
امریکی سنٹرل کمانڈ کے ترجمان ٹموتھی ہاکنز کے مطابق یہ حملے امریکی افواج کو درپیش خطرات کے پیش نظر اپنی حفاظت کیلئے کیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران کی جانب سے سمندری بارودی سرنگیں نصب کرنے کی کوشش اور میزائل مراکز کی سرگرمیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنگ بندی کے باوجود امریکی افواج نے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کیا، تاہم اپنی سلامتی کیلئے کارروائی ناگزیر تھی۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اصولی طور پر اپنے پاس موجود افزودہ یورینیم کو بین الاقوامی نگرانی میں تلف کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ ان کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کا اشارہ ہے کہ تہران اب اپنے سابقہ سخت مؤقف میں نرمی لا رہا ہے اور امن معاہدے کی جانب بڑھ رہا ہے۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کی قیادت میں تیار کیے جارہے امن فریم ورک کے تحت ایران اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر چھوڑنے کیلئے تیار ہوگیا ہے۔ تاہم ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ اگرچہ کئی معاملات پر پیش رفت ہوئی ہے، لیکن ابھی معاہدہ طے پانے کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ واشنگٹن بار بار اپنا مؤقف تبدیل کررہا ہے، جس سے مذاکراتی عمل مزید پیچیدہ بن رہا ہے۔
اس وقت قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اعلیٰ سطحی مذاکرات جاری ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز میں تازہ کشیدگی کے بعد عالمی برادری کی نظریں ان مذاکرات کے نتائج پر مرکوز ہوگئی ہیں۔



