جگتیال کی وہ ’میٹھے پانی کی کنویں‘ کی کہانی – جس نے نسلوں کی پیاس بجھائی ؛ پانی خشک ہوگیا، یادیں نہیں
جگتیال: آج کی نسل شاید جگتیال کے مشہور ’منچی نیلّا باوی‘ (میٹھے پانی کے کنویں) سے واقف نہ ہو، لیکن کئی دہائیاں قبل یہی کنواں شہر کے ہزاروں لوگوں کی پیاس بجھانے کا اہم ذریعہ تھا۔ آج اگرچہ یہاں پانی نہیں، لیکن اس کے سینے میں جگتیال کی کئی دہائیوں پرانی تاریخ اور یادیں آج بھی محفوظ ہیں۔
تقریباً 1926ء میں جگتیال کے ایک بزرگ نے نظام آباد روڈ کی جانب، تالاب کے بند کے نیچے یہ کنواں کھدوایا تھا۔ تقریباً 15 فٹ کے گھیر اور 40 فٹ گہرائی والے اس کنویں میں چاروں سمت پانی نکالنے کے لیے لوہے کی گِرکیاں نصب کی گئی تھیں۔ صبح سویرے ہی خواتین ہاتھوں میں گھڑے اور برتن لیے پانی بھرنے کے لیے یہاں پہنچ جاتی تھیں۔
ٹاور سرکل، تین خانی چوراہا، پوچمّا واڑہ اور قلعہ کالونی سمیت مختلف علاقوں کے لوگوں کے لیے یہ کنواں روزمرہ زندگی کا اہم حصہ تھا۔ ایک شخص پانی نکالتا تو دوسرا گھڑا تھامتا، اور پانی کا گھڑا بھرنے تک آس پاس کھڑے لوگوں کی باتیں بھی ختم نہیں ہوتیں۔
وقت کے ساتھ جگتیال بدلتا گیا۔ گھروں میں بورویل اور نل آئے، پائپ لائنوں کے ذریعے پانی پہنچنے لگا اور رفتہ رفتہ کنویں پر آنے والوں کی تعداد کم ہوتی گئی۔
یہ کنواں صرف پانی کا ذریعہ نہیں تھا بلکہ جگتیال کی تاریخی تحریکوں کا بھی گواہ رہا۔ 1947ء کی جگتیال جیترا یاترا کے دوران شمالی تلنگانہ کے مختلف علاقوں سے ہزاروں افراد یہاں پہنچے تھے۔ اس تاریخی عوامی اجتماع کا منظر بھی کنویں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ تحریک کے دوران یہاں کارکنوں کی محفلیں جمتی تھیں اور معروف عوامی گلوکار گدّر کے گیت بھی گونجتے تھے۔
کبھی یہ جگہ بچوں کی شرارتوں، کھیل کود اور بزرگوں کی بیٹھک کا مرکز بھی ہوا کرتی تھی۔ بَتکَمّا تہوار کے موقع پر خواتین کی آمد سے کنویں کے اطراف کا ماحول مزید رنگین ہوجاتا تھا۔ مرد بھی سائیکلوں پر یہاں آتے اور اپنے گھروں کے لیے پانی بھر کر لے جاتے تھے۔
آج کنویں میں شاید پانی باقی نہیں، مگر جگتیال کی یادیں آج بھی اس میں موجزن ہیں۔ بزرگ جب یہاں سے گزرتے ہیں تو رک کر کہتے ہیں، ’’یہیں تو ہم پانی بھرا کرتے تھے۔‘‘
دلچسپ بات یہ ہے کہ کنویں کا نام وقت گزرنے کے باوجود زندہ ہے۔ ’منچی نیلّا باوی‘ کے نام سے آر ٹی سی بس اسٹاپ آج بھی موجود ہے۔ پانی ختم ہوگیا، زمانہ بدل گیا، مگر جگتیال کی تاریخ میں اس کنویں کی یاد آج بھی تازہ ہے۔


