انٹر نیشنل

افغانستان میں 6.2 شدت کا زلزلہ۔ جموں و کشمیر اور دہلی سمیت شمالی ہند کی کئی ریاستوں میں اثر

نئی دہلی: افغانستان میں ہفتہ کی شام 6.2 شدت کا طاقتور زلزلہ آیا، جس کے جھٹکے دہلی، جموں و کشمیر اور شمالی ہندوستان کی کئی ریاستوں میں محسوس کیے گئے۔

 

زلزلے کے بعد مختلف علاقوں میں لوگ گھروں اور دفتروں سے باہر نکل آئے تاہم فوری طور پر کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔قومی مرکز برائے زلزلہ نگاری کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر پیمانے پر 6.2 ریکارڈ کی گئی جبکہ اس کا مرکز افغانستان میں تھا۔

 

ادارے نے بتایا کہ زلزلہ شام تقریباً سات بج کر چار منٹ پر آیا۔ بعد ازاں سماجی رابطے کے پلیٹ فارم پر جاری اطلاع میں بھی زلزلے کی شدت 6.2 بتائی گئی۔زلزلے کے جھٹکے دہلی، جموں و کشمیر اور شمالی ہندوستان کے متعدد علاقوں میں واضح طور پر محسوس کیے گئے۔ کئی مقامات پر لوگوں نے اچانک آنے والے جھٹکوں کے باعث احتیاطاً عمارتوں سے باہر نکلنا مناسب سمجھا۔

 

حکام صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بڑے نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔رواں سال افغانستان کے ہندوکش خطے میں کئی مرتبہ زلزلے آ چکے ہیں، جن کے اثرات پاکستان اور ہندوستان کے مختلف علاقوں تک محسوس کیے گئے۔ اپریل میں بھی ہندوکش کے علاقے میں 5.5 شدت کا زلزلہ آیا تھا، جس کے جھٹکے اسلام آباد، پشاور، سوات، ہنگو، شمالی وزیرستان، چترال اور دیگر علاقوں میں محسوس کیے گئے تھے۔

 

پاکستان کے قومی مرکز برائے زلزلہ نگرانی کے مطابق اس زلزلے کی گہرائی تقریباً 199 کلومیٹر تھی۔اسی مہینے ایک اور 6.1 شدت کے زلزلے نے اسلام آباد، پنجاب کے بعض علاقوں، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو بھی متاثر کیا تھا۔ اس زلزلے کا مرکز بھی افغانستان کے ہندوکش علاقے میں تقریباً 190 کلومیٹر گہرائی میں واقع تھا

 

جبکہ راولپنڈی، پشاور، مظفرآباد اور اسکردو میں بھی جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔فروری میں بھی 5.8 شدت کا زلزلہ افغانستان کے علاقے میں آیا تھا، جس کے اثرات اسلام آباد، سوات اور ہنزہ تک محسوس کیے گئے تھے۔ اسی طرح رواں ماہ دہلی اور قومی دارالحکومت کے گرد و نواح سمیت شمالی ہندوستان کے کئی حصوں میں بھی افغانستان میں آنے والے ایک زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔

 

سری نگر کے محکمہ موسمیات نے اس وقت زلزلے کی شدت 5.9 ریکارڈ کی تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان کا ہندوکش خطہ مسلسل زلزلہ خیز سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے، جس کے باعث اس علاقے میں آنے والے زلزلوں کے اثرات اکثر پڑوسی ممالک تک پہنچتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button