آبان کے جنازے میں جیل میں مقید دونوں بھائی علی اور عمر ہوں گے شریک – ہائی کورٹ نے دی پیرول

لکھنو – سابق رکن پارلیمنٹ مرحوم عتیق احمد کے جیل میں بند دونوں بیٹوں علی اور عمر کو چھوٹے بھائی آبان کے جنازے میں شرکت کے لئے الہ آباد ہائی کورٹ نے جمعہ کی سہ پہر ساڑھے 3 بجے پیرول منظور کرلی۔ عمر لکھنؤ اور علی جھانسی جیل میں قید ہیں۔ دونوں کو چار سال میں پہلی مرتبہ پیرول ملی ہے۔ عدالتی حکم جیل پہنچنے کے بعد دونوں کو پریاگ راج پہنچنے میں 6 سے 7 گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ ایسے میں آبان کی تدفین جمعہ کی دیر رات یا ہفتہ کو کی جاسکتی ہے۔
آبان (21) کو قصاری مساری کے خاندانی قبرستان میں سپردِ خاک کیا جائے گا، جہاں عتیق احمد، ان کے والد فیروز احمد، بھائی اشرف اور بیٹے اسد کی قبریں موجود ہیں۔ اب سب کی نظریں آبان کی والدہ شائستہ پروین پر ہیں، جو 2023 سے فرار ہیں۔ وہ اپنے شوہر عتیق اور بیٹے اسد کے جنازے میں بھی شریک نہیں ہوئی تھیں۔
پریاگ راج پہنچے ڈپٹی چیف منسٹر کیشو موریہ سے صحافیوں نے آبان کی موت کے بارے میں سوال کیا تو وہ برہم ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ حادثات روز ہوتے رہتے ہیں، یہ کون سی بڑی بات ہے۔
آبان کی جمعرات کی صبح جھانسی میں سڑک حادثے میں موت ہوئی تھی۔ وہ چار دوستوں کے ساتھ کریٹا کار میں جیل میں قید بھائی علی سے ملاقات کے لیے پریاگ راج سے جھانسی جارہا تھا۔ ہائی وے پر ایک جانور کو بچانے کی کوشش میں کار ڈیوائیڈر سے ٹکرا گئی۔ حادثے میں آبان اور اس کے دوست سونو کی موت ہوگئی، جبکہ تین دیگر دوست زخمی ہوگئے۔ دونوں کی نعشیں جمعہ کی صبح 4 بجے ایک ہی ایمبولنس کے ذریعہ جھانسی سے پریاگ راج کے ہٹوا گاؤں لائی گئیں۔
آبان کی نعش لینے جھانسی پہنچے احضم نے کہا تھا، ’’اللہ کی چیز تھی، اللہ نے لے لی۔‘‘ 2023 میں اسد کے انکاؤنٹر کے بعد عتیق کے بھائی اشرف نے بھی یہی بات کہی تھی۔ بھائی کی موت کی خبر ملنے کے بعد جیل میں بند علی رات بھر سو نہیں سکا۔ وہ روتا رہا اور کھانا بھی نہیں کھایا۔



