نیشنل

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر کیرالا کے سابق چیف سکریٹری کا بڑا الزام – ’’بی جے پی ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کیلئے کیا تھا راضی کرانے کی کوشش‘‘

حیدرآباد/نئی دہلی — کیرالا کے سابق چیف سکریٹری جیجی تھامسن نے الزام عائد کیا ہے کہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں انہیں  بی جے پی کے امیدوار کے طور پر الیکشن لڑنے کے لئے راضی کرانے کی کوشش کی تھی۔

 

تھامسن نے ’آن منورما‘ کو بتایا کہ یہ واقعہ دہلی جانے والی ایک پرواز کے دوران پیش آیا تھا۔ اس وقت وہ کیرالہ کے چیف سکریٹری کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔ ان کے مطابق گیانیش کمار نے وزیراعظم نریندر مودی کی تعریف کرتے ہوئے ان سے پوچھا تھا کہ کیا وہ 2019 کے عام انتخابات میں پٹھانمتھٹا سے بی جے پی امیدوار کے طور پر مقابلہ کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

 

تھامسن کے مطابق، ’’انہوں نے مجھے کافی قائل کرنے کی کوشش کی، لیکن میں نے فوری طور پر انکار کردیا۔‘‘

 

تھامسن 2016 میں کیرالہ کے چیف سکریٹری کے عہدے سے سبکدوش ہوئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق، 1988 بیچ کے کیرالہ کیڈر کے آئی اے ایس افسر گیانیش کمار نے انہیں ایک سے زیادہ مرتبہ انتخابات میں حصہ لینے کے لئے کہا تھا۔

 

تھامسن نے اپنے سرکاری کیریئر کے ایک اور واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل بھی کچھ لوگوں نے انہیں انتخابات لڑنے کی پیشکش کی تھی، جسے انہوں نے مسترد کردیا تھا۔ ان کے مطابق، گیانیش کمار کو اس پیشکش کے بارے میں معلوم ہوا اور انہوں نے بھی انہیں سیاست میں آنے کے لئے قائل کرنے کی کوشش کی۔

 

گیانیش کمار نے فروری 2025 میں ملک کے 26ویں چیف الیکشن کمشنر کی حیثیت سے عہدہ سنبھالا تھا۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا ایک غیر جانب دار آئینی ادارہ ہے۔

 

رپورٹ کے مطابق، ووٹر فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (SIR) کے طریقہ کار کو لے کر گیانیش کمار کی سیاسی وابستگیوں پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ گزشتہ 10 ماہ کے دوران دو الیکشن کمشنروں کی جانب سے ان کے فیصلوں پر مبینہ طور پر 14 مرتبہ باضابطہ اعتراضات کئے جانے کی رپورٹس نے بھی ان سوالات کو مزید تقویت دی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button