آنسوؤں کے ساتھ ہمایوں کبیر کا بڑا اعلان – سیاست چھوڑنے کا اشارہ؛ ضمنی انتخاب میں بی جے پی کی جیت کی پیش قیاسی
کولکتہ: اے جے یو پی کے سربراہ اور مغربی بنگال کے نودہ کے رکن اسمبلی ہمایوں کبیر چہارشنبہ کے روز صحافیوں کے سامنے جذباتی ہوگئے۔ ایک روز قبل ریجن نگر اسمبلی حلقہ کے ضمنی انتخاب میں پولنگ کے دوران پولیس سے مبینہ جھڑپ کے بعد انہیں گرفتار کیا گیا تھا۔ ہمایوں کبیر نے اشارہ دیا کہ وہ انتخابی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرسکتے ہیں۔
انتخابی مہم کے دوران متنازع بیانات کے لیے سرخیوں میں رہنے والے کبیر نے مسلم اکثریتی حلقہ ریجن نگر میں بی جے پی کی کامیابی کی پیش قیاسی بھی کردی۔ انہوں نے کہا کہ جب تک وزیر اعلیٰ سویندو ادھیکاری عہدے پر برقرار رہیں گے، وہ اسمبلی نہیں جائیں گے۔ انہوں نے اس فیصلے پر نودہ کے عوام سے معذرت بھی کی۔
آنسوؤں پر قابو پاتے ہوئے ہمایوں کبیر نے کہا، ’’اگر سویندو ادھیکاری وزیر اعلیٰ برقرار رہتے ہیں تو میں اسمبلی نہیں جاؤں گا۔ میں نودہ کے عوام سے معافی مانگتا ہوں۔‘‘
کبیر نے یہ بھی اشارہ دیا کہ وہ سیاست سے رضاکارانہ سبکدوشی اختیار کرسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ سیاسی نظام اور ان کے ساتھ کیے جانے والے سلوک سے مایوس ہوچکے ہیں۔
اے جے یو پی سربراہ کے یہ بیانات ریجن نگر میں ہائی وولٹیج پولنگ کے ایک روز بعد سامنے آئے۔ پولنگ کے دوران اپنی پارٹی کے دفتر کے باہر پولیس کے ساتھ جھڑپ کے بعد انہیں گرفتار کرلیا گیا تھا۔ تقریباً 12 گھنٹے حراست میں رہنے کے بعد انہیں رہا کردیا گیا۔
اس واقعے نے ریجن نگر کے ضمنی انتخاب کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔ اقلیتی آبادی والے اس حلقے سے ہمایوں کبیر کے بیٹے غلام نبی آزاد اے جے یو پی کے امیدوار ہیں۔
ہمایوں کبیر نے گزشتہ اسمبلی انتخابات میں نودہ اور ریجن نگر دونوں نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی، تاہم انتخابی قوانین کے تحت انہیں ریجن نگر کی نشست خالی کرنا پڑی، جس کے نتیجے میں یہاں ضمنی انتخاب کرانا پڑا۔
منگل کو ووٹنگ کے بعد کبیر کی پولیس سے جھڑپ ہوئی، جس کے بعد سیاسی مقابلہ اچانک ذاتی تنازع میں تبدیل ہوگیا۔ ان پر پولیس کے ساتھ بدزبانی، ووٹروں کو متاثر کرنے کی کوشش اور اشتعال انگیز بیانات دینے کے الزامات عائد کیے گئے۔ بعد ازاں پارٹی دفتر کے باہر جھڑپ کے بعد پولیس نے انہیں گرفتار کرلیا۔
ان کی گرفتاری پولنگ کے دن کا سب سے بڑا واقعہ بن گئی، حالانکہ دونوں حلقوں میں مجموعی طور پر ووٹنگ کا تناسب نسبتاً زیادہ رہا۔
چہارشنبہ کو ہمایوں کبیر ایک روز قبل نظر آنے والے جارحانہ تیور رکھنے والے سیاست داں کے بجائے انتہائی جذباتی دکھائی دیے۔ آنکھوں میں آنسو لیے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے پولیس اور انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ ریجن نگر میں انتخابی عمل منصفانہ نہیں رہا۔
کبیر نے دعویٰ کیا، ’’ریجن نگر میں بی جے پی کامیاب ہوگی۔‘‘ انہوں نے اس ممکنہ نتیجے کے لیے پولنگ کے دوران انتظامیہ کے مبینہ کردار کو ذمہ دار قرار دیا۔
ریجن نگر اور نندی گرام کے ضمنی انتخابات کو بی جے پی حکومت کے لیے ابتدائی انتخابی امتحان اور اپوزیشن کے لیے اس کی سیاسی گرفت کو چیلنج کرنے کے موقع کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔دونوں حلقوں میں ووٹوں کی گنتی 9 اکتوبر کو ہوگی۔



