نیشنل

کپل سبل اور ایس وائی قریشی کی موجودگی میں SIR کے خلاف آواز بلند، ووٹر لسٹ بحال کرنے کا مطالبہ

نئی دہلی: انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (SIR) کے دوران الیکشن کمیشن کے تین میں سے دو ارکان کی جانب سے بعض اقدامات پر اختلافِ رائے سامنے آنے کے بعد سماجی کارکنوں اور مختلف شعبوں سے وابستہ افراد نے ملک بھر میں SIR واپس لینے کا مطالبہ تیز کردیا ہے۔

 

پیر کو ’’Together We Stand‘‘ کے بینر تلے منعقدہ میڈیا کانفرنس میں راجیہ سبھا رکن کپل سبل، بمبئی ہائی کورٹ کے سابق جج بی ایچ مارلاپلے، انتخابی ماہر یوگیندر یادو، وکیل پرشانت بھوشن، سماجی کارکن تیستا سیتلواد اور نکھل ڈے، نیشنل فیڈریشن آف انڈین ویمن کی صدر سیدا حامد سمیت دیگر افراد نے شرکت کی۔

 

یوگیندر یادو نے کارکنوں کے مطالبات پیش کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن ملک بھر میں SIR کو واپس لے اور ان تمام ووٹروں کے نام دوبارہ بحال کرے جن کے نام SIR سے قبل موجود انتخابی فہرستوں میں شامل تھے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئندہ انتخابات SIR سے پہلے کی ووٹر لسٹوں کی بنیاد پر کرائے جائیں اور ضرورت پڑنے پر معمول کی نظرثانی کی جائے۔

 

دیگر مطالبات میں انتخابی فہرستوں کا عوامی سماجی آڈٹ، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ، چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنرز ایکٹ 2023 میں ترمیم، الیکشن کمشنروں کی تقرری کے لیے حکومت کے انتظامی اثر سے آزاد طریقہ کار، SIR سے متعلق تمام دستاویزات عوام کے سامنے لانا اور SIR کے دوران نام حذف ہونے سے سرکاری فلاحی اسکیموں سے محروم افراد کے فوائد بحال کرنا شامل ہے۔

 

یوگیندر یادو نے گیانیش کمار کے فیصلوں کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کی حالیہ پریس ریلیز پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر اب الیکشن کمیشن کے اجلاسوں کا ایجنڈا اور کارروائی درج کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تو اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پہلے اجلاس کس طریقے سے منعقد ہوتے رہے ہیں۔

 

بمبئی ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس بی ایچ مارلاپلے نے کہا کہ ان کی جدوجہد کا مقصد ملک کے ہر شہری کے ووٹ کے حق کو یقینی بنانا اور جن لوگوں کا ووٹ کا حق متاثر ہوا ہے، اسے بحال کرنا ہے۔

 

کپل سبل نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے نظام میں خامیاں سامنے آنے اور سپریم کورٹ کے ردعمل کے پس منظر میں مختلف افراد نے مل کر عوام کے سامنے آنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے مطابق آزاد اور منصفانہ انتخابات جمہوریت کی بنیاد ہیں اور اگر انتخابی عمل ہی متاثر ہوجائے تو جمہوریت کے مستقبل پر سوال اٹھتا ہے۔

 

سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی، سپریم کورٹ کے سابق جج مدن بی لوکر اور دہلی کے سابق لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ بھی کانفرنس میں موجود تھے۔

 

سابق بیوروکریٹس کے گروپ ’کانسٹی ٹیوشنل کنڈکٹ گروپ‘ نے بھی اپنے بیان میں الیکشن کمیشن کے دو دیگر ارکان کے کردار پر سوال اٹھائے۔ گروپ کے مطابق اگرچہ انہوں نے مبینہ طور پر چیف الیکشن کمشنر کے بعض فیصلوں پر اندرونی طور پر اعتراض کیا، لیکن SIR مختلف ریاستوں میں جاری رہا اور لاکھوں ووٹروں کے نام متاثر ہوئے۔ گروپ نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی بھی بات کہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button