نیشنل

مبینہ ممنوعہ گائے کے گوشت کے معاملے میں تین خواتین گرفتار، چار ملزمین فرار

لکھنو : اترپردیش کے ضلع کوشامبی کے سرائے عاقل پولیس اسٹیشن علاقے میں مبینہ ممنوعہ گائے کے گوشت کے ساتھ تین خواتین کو گرفتار کر لیا گیا، جبکہ چار مرد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

 

پولیس کے مطابق 24 جون کو اطلاع ملی تھی کہ پنارا گوپال پور گاؤں میں کچھ لوگ گائے کا گوشت پکا رہے ہیں۔ اطلاع ملتے ہی سرائے عاقل پولیس کی ٹیم گاؤں پہنچی۔ پولیس کو دیکھ کر چار مرد گنجان آبادی اور تنگ گلیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہوگئے۔

 

پولیس نے مکان کی تلاشی کے دوران ایک برتن سے پکا ہوا اور فریج میں رکھی پلاسٹک کی تھیلی سے تقریباً ایک کلو کچا مبینہ گائے کا گوشت برآمد کیا۔ پولیس کو دیکھ کر تینوں خواتین نے بھی فرار ہونے کی کوشش کی، تاہم خاتون پولیس نے انہیں موقع پر ہی گرفتار کر لیا۔

 

پولیس کے مطابق پوچھ تاچھ کے دوران خواتین نے بتایا کہ یہ گائے کا گوشت ہے، جسے گھر کے مرد افراد باہر سے لائے تھے۔ اس کا کچھ حصہ پکایا جا رہا تھا جبکہ باقی اگلے دن استعمال کے لئے فریج میں رکھا گیا تھا۔

 

گرفتار خواتین کی شناخت شمع پروین (زوجہ محمد ارشد )، شائستہ (زوجہ عرفان) اور فاطمہ (زوجہ بڑکو) کے طور پر ہوئی ہے، جو تینوں پنارا گوپال پور گاؤں کی رہائشی ہیں۔ قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد پولیس نے جمعرات کی شام تینوں خواتین کو جیل بھیج دیا۔

 

سی او چائل ابھیشیک سنگھ نے بتایا کہ اس معاملہ میں ملوث دیگر ملزمین کی تلاش کے لئے پولیس کی خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں اور ان کی گرفتاری کے لئے کارروائی جاری ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button