مجتبیٰ خامنہ ای پر بھی دو بار حملہ – ملبہ سے زندہ نکالنے کے بعد ایران کا نیا سپریم لیڈر بننے تک کی کہانی

حیدراباد – 27ستمبر ( اسپیشل اسٹوری) امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے ابتدائی مرحلے میں ہی ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہوگئے تھے۔ ابتدا میں یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ اس حملے میں ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای بھی شہید ہوگئے ہیں،
تاہم ایران نے بعد میں بتایا کہ وہ حملوں میں بال بال بچ گئے تھے۔ فروری میں پیش آئے اس واقعے کے بارے میں ایران کی مجلس خبرگان کے رکن محسن حائری نے حال ہی میں اہم انکشافات کئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایران کے سپریم لیڈر کو صرف ایک بار نہیں بلکہ امریکہ نے دو مرتبہ نشانہ بنایا تھا۔
محسن حائری نے قطر ٹیلی ویژن کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں بتایا، ’’علی خامنہ ای سمیت اہم رہنما ایک عمارت میں اجلاس کررہے تھے، اسی دوران امریکہ نے حملہ کیا۔ اس حملے میں سابق سپریم لیڈر شہید ہوگئے، جبکہ شدید زخمی مجتبیٰ کو فوری طور پر علاج کے لئے ایک ہاسپٹل منتقل کیا گیا۔ اس کے بعد امریکہ اور اسرائیل کی افواج نے اس ہاسپٹل کو بھی نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ ہماری فورسز نے کئی گھنٹوں کی کوشش کے بعد ملبے سے مجتبیٰ کو باہر نکالا۔ وہ انتہائی نازک حالت میں تھے، انہیں ایک محفوظ مقام پر منتقل کرکے علاج کیا گیا۔‘‘
انہوں نے مزید بتایا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کو اس وقت تک یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ انہیں ایران کا اگلا سپریم لیڈر منتخب کرلیا گیا ہے، جب تک اس کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔ بعد میں انہیں یہ ذمہ داری قبول کرنا پڑی۔
محسن حائری کے مطابق ایران کے نئے رہنما کے انتخاب کے لئے مقرر کردہ کمیٹی کے ارکان کو بھی امریکہ اور اسرائیل نے نشانہ بنایا۔ ان رہنماؤں کے باقاعدگی سے اجلاس کرنے والے قم سیکریٹریٹ پر حملہ کیا گیا، جس میں کمیٹی کے 8 ارکان شہید ہوگئے۔ مجتبیٰ خامنہ ای کو سپریم لیڈر منتخب کرنے سے متعلق تیار کی گئی رپورٹس اور سفارشات بھی حملے میں جل کر خاک ہوگئیں۔
انہوں نے کہا کہ اسی دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے مجتبیٰ خامنہ ای کو سپریم لیڈر منتخب نہ کرنے کی وارننگ بھی دی تھی، تاہم ایران نے مجتبیٰ کو ملک کی قیادت کے لئے موزوں سمجھتے ہوئے انہیں اپنا رہنما منتخب کیا۔




