تلنگانہ

آرمور واقعہ کی ایس آئی ٹی سے تحقیقات کرائی جائیں، اسکول میں تبدیلی مذہب کی سرگرمیوں کا الزام : رکن اسمبلی راکیش ریڈی

 

کاماریڈی (سید کوثر علی ) تلنگانہ کے آرمور کے رکنِ اسمبلی پائڈی راکیش ریڈی نے آرمور میں حالیہ پیش آئے واقعات کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) کے ذریعے غیر جانبدارانہ تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے مختلف مقامات سے گرفتار کیے گئے بی جے پی کارکنوں اور رہنماؤں کی بلاشرط رہائی کا بھی مطالبہ کیا۔

 

پیر کے روز ہندو تنظیموں کی جانب سے نکالی گئی ریلی میں شرکت کے لیے حیدرآباد سے آرمور روانہ ہونے والے راکیش ریڈی کو پولیس نے بھکنور ٹول پلازہ پر روک لیا اور بعد ازاں کاماریڈی میں واقع ایم ایل اے کیمپ آفس منتقل کر دیا۔

 

بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راکیش ریڈی نے کہا کہ انہیں آرمور جانے سے روکنا غیر جمہوری اقدام ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایم آئی ایم، کانگریس اور بی آر ایس ایک انفرادی واقعہ کو مذہبی رنگ دے کر آرمور کے پرامن ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

 

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک پرائیویٹ اسکول میں مذہب کی تبدیلی کی سرگرمیاں جاری ہیں اور الزام لگایا کہ اسکول کے پرنسپل کے مبینہ طور پر بیرونی عناصر سے روابط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام الزامات کی سچائی سامنے لانے کے لیے ایس آئی ٹی کے ذریعے مکمل تحقیقات کرائی جائیں۔

 

راکیش ریڈی نے کہا کہ وہ بی جے پی رہنما کی جانب سے پرنسپل کو تھپڑ مارنے کے واقعہ کی حمایت نہیں کرتے، تاہم ان کا الزام ہے کہ اس واقعہ کے بعد حیدرآباد سے بعض عناصر کو آرمور لا کر حالات کو مزید کشیدہ کیا گیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ حالیہ پرتشدد واقعات کے ذمہ دار کون ہیں اور ان کی بھی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔

 

رکنِ اسمبلی نے تمام مذاہب کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اشتعال انگیزی سے گریز کریں اور امن و امان برقرار رکھنے میں انتظامیہ کا تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی بھی شخص قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے تو اس کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔

 

انہوں نے آرمور میں مرکز کمیٹی، ہندو تنظیموں، مسلم نمائندوں اور دیگر معززین پر مشتمل امن کمیٹی کا اجلاس بلانے کی تجویز بھی پیش کی تاکہ باہمی مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کا خاتمہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہندو اور مسلمان دونوں برادریوں کو اتحاد، بھائی چارے اور باہمی احترام کے ساتھ رہتے ہوئے آرمور کے پرامن ماحول کو برقرار رکھنا چاہیے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button