سعید آباد اسکول واقعہ میں ویڈیو بنا کر فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے والوں کی تحقیقات ضروری

سعید آباد اسکول واقعہ میں ویڈیو بنا کر فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے والوں کی تحقیقات ضروری
اے پی سی آر، تلنگانہ کا پولیس اور انتظامیہ سے مطالبہ
ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) تلنگانہ نے سکسس اسکول، سعید آباد میں پیش آئے حالیہ واقعہ کے سلسلے میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اور بعد ازاں سعید آباد پولیس اسٹیشن کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) سے ملاقات کر کے ایک عوامی مفاد پر مبنی نمائندگی پیش کی
، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ پورے معاملے کی ہر پہلو سے غیر جانبدار، شفاف اور قانون کے مطابق جامع تحقیقات کی جائیں.پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اے پی سی آر تلنگانہ کے ذمہ داران ڈاکٹر شیخ محمد عثمان اور ایڈوکیٹ عبدالرحمن خان نے کہا کہ اس معاملے میں پہلے ہی تین ایف آئی آرز درج ہو چکی ہیں، تاہم تنظیم کا مقصد کسی بھی فریق کے حق یا مخالفت میں موقف اختیار کرنا نہیں بلکہ جاری تحقیقات میں معاونت کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ تمام حقائق غیر جانبداری کے ساتھ سامنے آئیں
۔انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ صرف اسکول کے اندر پیش آنے والے واقعہ تک محدود نہیں رہا بلکہ بعد ازاں ویڈیو کی ریکارڈنگ، اس کی اشاعت، سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیلاؤ، عوامی ردعمل، احتجاج اور امن و امان کی صورتحال سے بھی جڑ گیا، اس لیے ضروری ہے کہ پورے سلسلہ واقعات کی جامع اور سائنسی بنیادوں پر تحقیقات کی جائیں
۔اے پی سی آر نے خاص طور پر اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ سوشل میڈیا پر وائرل کی گئی ویڈیو نے علاقے میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کیا، عوامی جذبات کو بھڑکانے کا سبب بنی اور امن و امان کی صورتحال کو خطرے سے دوچار کر دیا۔ تنظیم نے مطالبہ کیا کہ پولیس یہ معلوم کرے کہ ویڈیو کس نے ریکارڈ کی، سب سے پہلے کس نے شائع کی،
کن ذرائع سے اسے وائرل کیا گیا، اور اس کے پھیلاؤ میں کون کون ملوث تھا۔ ساتھ ہی متعلقہ الیکٹرانک شواہد، میٹا ڈیٹا، سوشل میڈیا مواد اور دیگر ڈیجیٹل ریکارڈ کو محفوظ رکھ کر فارنزک جانچ بھی کی جائے۔اے پی سی آر تلنگانہ نے امید ظاہر کی کہ پولیس عوامی نمائندگی کو جاری تحقیقات کا حصہ بناتے ہوئے تمام پہلوؤں کا غیر جانبدارانہ جائزہ لے گی تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں، قانون کی بالادستی برقرار رہے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی و عوامی امن کو مضبوط بنایا جا سکے
۔آخر میں تنظیم نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ اور حساس ویڈیوز یا پیغامات سے متاثر نہ ہوں، افواہوں سے گریز کریں اور امن و امان برقرار رکھنے میں انتظامیہ سے تعاون کریں۔




