ہیلت

دماغی نشونما سے متاثر بچوں کے لیے والدین کی مشفقا نہ توجہ بے حد ضروری،ماہرین نفسیات سے فوری رجوع ہونے کا مشورہ- ڈان ہائی اسکول ملک پیٹ میں چائلڈ سائیکالوجسٹ ڈاکٹر اقرا علی کا خطاب

حیدرآباد ۔ آٹزم کا اردو میں مطلب ذہنی یا اعصابی نشونما میں کمی ہوتا ہے یہ پیدائشی طور پر یا بچپن کے ابتدائی سالوں میں دماغ کی نشوونما کو متاثر کرنے والی ایک کیفیت ہے اس مرض میں مبتلا افراد کو سماجی میل جول، بات چیت اور دوسروں کے جذبات کو سمجھنے اور اپنے جذبات واحساسات کا اظہار کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے

 

ایسی کیفیت کوARTISUM SPECTRUM DICODER کہا جاتا ہے آج کل بچوں کے ذہنی مسائل میں بہت تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے ذہنی مسائل سے دو چار بچوں میں خود اعتمادی کے جذبے کا بڑھانا بہت ضروری ہے اس طرح کی کیفیت کی نشاندہی یا پتہ چلنے پر سرپرستوں کو چاہیے کہ وہ فوری کسی ماہر نفسیات سے رابطہ کرتے ہوئے اپنے بچوں کی مشکل کو دور کرنے کی کوشش کریں۔

 

ان خیالات کا اظہار ماہر نفسیات اطفال (چائلڈ سائیکالوجسٹ)ڈاکٹر اقراء علی نے ڈان ہائی اسکول ملک پیٹ حیدرآباد میں منعقدہ سرپرستوں کے لیے منعقدہ خصوصی اجلاس کے دوران کیا جس کا اہتمام ڈائریکٹر ڈان ہائی اسکول جناب فضل الرحمن خرم نے کیا اس موقع پر جناب شجع اللہ فراست نیوز براڈکاسٹر فور ٹی وی،ممتاز و معروف خطاط جناب غوث ارسلان اور جناب محمد حسام الدین ریاض بھی موجود تھے۔

 

ڈاکٹر اقراعلی نے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ بچوں کو موبائل فون سے دور رکھنے کے ساتھ ساتھ خود بھی دور رہیں اور اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزاریں اور ان میں جو جھجک ،ہچکچاہٹ یا پھر ذہنی تناؤ ہے اس سے دور کرنے کے لیے ان سے بات چیت کریں ان کے موڈ کو خوشگوار کرنے کی کوشش کریں ان سے دوستانہ ماحول اور پیار و محبت سے گفتگو کرنے کی ہر وقت کوشش کرتے رہیں

 

جس سے بچوں میں جو دماغی تناؤ ہے یا پھر انہیں دوسروں سے بات چیت کرنے میں جو بیزارگی یا پھر جھلاہٹ محسوس ہوتی ہے اس کو کم کیا جا سکتا ہے یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ ذہنی طور پر پریشان بچے اپنے ہم عمر بچوں سے کھیلنے اور کودنے بھی امدہ نہیں ہوتے ان بچوں کو ان کے ہم عمر لڑکوں کے ساتھ کھیلنے کودنے کے لیے امادہ کرنا بھی بے حد ضروری رہتا ہے جو لڑکے ذہنی طور پر متاثر ہیں انہیں تنہا نہ چھوڑا جائے

 

اور انہیں اپنے لیے اور سماج کے لیے بوجھ نہ سمجھا جائے ڈاکٹراقراعلی نے بتایا کہ آرٹیزم سے متاثر بچے کسی سے آنکھ ملا کر بات نہیں کر سکتے اس کے علاوہ وہ بات چیت بھی دیرسے کرتے ہیں اور اپنے میں آپ رہتے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ ہم زندگی کی دوڑ میں بہت دور نکل جاتے ہیں لیکن اپنے ہی بچوں سے غفلت اور ان کے مسائل کو بطور خاص ذہنی مسائل کو نہ سمجھنا خود ہمارے لیے کافی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے اس لیے ماں باپ کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ بھی وقت گزاریں ان کی ذہنی نشونما کا کیا حال ہے

 

اس بارے میں ڈاکٹر سے بھی رائے مشورہ لیتے رہیں بچوں کے ذہنی مسائل کو آسان نہ لیں ابتدا ہی سے اگر ہم اس پر توجہ دیتے ہیں تو بچوں کے ذہنی مسائل میں کمی آ سکتی ہے لیکن یہ مکمل طور پر ختم بھی نہیں ہوتے ہمیں اس کے تناسب میں کمی کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ڈاکٹر اقرا علی نے مختلف سرپرستوں کی جانب سے کیے گئے سوالات کے تشفی بخش جوابات بھی دیے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button