نیشنل

ایودھیا رام مندر: رام کے چندہ سے عیش و عشرت… ایودھیا چوری کیس میں حیران کن انکشافات

نئی دہلی: ایودھیا رام مندر میں چندہ کی چوری کے معاملے میں حیران کن حقائق سامنے آ رہے ہیں۔ اب تک اس کیس میں آٹھ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جن میں سے دو ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ جب تفتیشی ٹیم ان کے

 

آبائی گاؤں پہنچی تو کئی چونکا دینے والی باتیں سامنے آئیں۔ابتدا میں انوکلپ مشرا کو مندر میں آنے والے عطیات اور قیمتی اشیاء کی گنتی کے کام پر رکھا گیا تھا۔ بعد میں اس نے حکام سے درخواست کر کے اپنے بہنوئی لوو کش مشرا

 

کو بھی اسی کام پر ملازمت دلوائی اور اپنی ٹیم میں شامل کر لیا۔ ایس آئی ٹی (خصوصی تحقیقاتی ٹیم) کے مطابق اس پوری چوری کا اصل منصوبہ ساز انوکلپ مشرا ہی ہے۔تحقیقات کے دوران ایس آئی ٹی کے اہلکار جب انوکلپ کے گاؤں

 

پہنچے اور دیہاتیوں سے پوچھ گچھ کی تو معلوم ہوا کہ چند ماہ پہلے تک مشرہ خاندان کی مالی حالت عام تھی مگر اچانک ان کی زندگی بدل گئی۔ انہوں نے نیا مکان تعمیر کیا، ایک اسکارپیو گاڑی خریدی، ان کا طرزِ زندگی بدل گیا، گاؤں

 

کے قریب ایک پرتعیش جائیداد بھی خریدی گئی اور گاؤں کے کنارے ایک فارم ہاؤس بھی تعمیر کیا گیا۔انوکلپ کے دادا راجیندر پرساد*نے بتایا کہ حال ہی میں گاؤں میں سات روزہ مذہبی تقریب منعقد کی گئی تھی جس میں مذہبی رہنماؤں

 

کو مدعو کر کے خطابات بھی کروائے گئے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ انہیں اس چوری کے کیس کے بارے میں کوئی علم نہیں۔ ان کے مطابق اس تقریب میں کئی اہم شخصیات نے بھی شرکت کی، جن میں شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ

 

کے سابق جنرل سیکریٹری چمپت رائے بھی شامل تھے۔ ایس آئی ٹی اس بات کی بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر اس تقریب کے لیے رقم کہاں سے آئی۔انوکلپ مشرا پہلے ایک بینک میں آؤٹ سورسنگ ملازم کے طور پر کام

 

کرتا تھا۔ تقریباً تین سال قبل وہ رام مندر میں عطیات گننے والی ٹیم میں شامل ہوا اور بعد میں اپنے بہنوئی لوو کش مشرا کو بھی وہاں ملازمت دلوائی۔ شبہ ہے کہ دونوں نے مل کر مندر کے عطیات میں خرد برد کی۔ جب حکام گاؤں پہنچے تو

 

معلوم ہوا کہ اس نے حال ہی میں تقریباً ایک لاکھ روپے کی نئی موٹر سائیکل خریدی تھی۔ایس آئی ٹی اس وقت تمام آٹھ ملزمان کی مالی حالت، ان کے اثاثوں اور جائیدادوں کی تفصیلی جانچ کر رہی ہے، اور جلد ہی اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button