آرمور واقعہ ۔ٹیچر پر حملہ کا ویڈیو ہٹانے سوشل میڈیا اکاونٹس کو پولیس کی نوٹس

حیدرآباد: مجموعی طور پر 41 سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو تلنگانہ پولیس کی جانب سے ایک نوٹس موصول ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ نِظام آباد ضلع کے آرمور میں ایک اسکول کے پرنسپل پر مبینہ حملے کی ویڈیو ہٹا دیں۔ یہ حملہ بھارتیہ
جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈرس نے اس وجہ سے کیا کہ وہ طلبہ کو اردو پڑھا رہے تھے۔پولیس کا موقف ہے کہ اس ویڈیو کی اشاعت سے “عوامی امن و امان متاثر ہو سکتا ہے”۔ تلنگانہ پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی)
آر بھاسکرن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کو بھیجے گئے نوٹس میں کہا“آپ کو مطلع کیا جاتا ہے کہ آرمور، تلنگانہ میں پیش آنے والے ایک فرقہ وارانہ واقعے سے متعلق کچھ ویڈیوز، تصاویر اور دیگر ڈیجیٹل مواد آپ کے پلیٹ فارم پر پھیلائے
جا رہے ہیں جس سے امن و امان متاثر ہونے اور فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھنے کا خطرہ ہے۔پولیس کے مطابق اس مواد کے پھیلنے سے عوامی امن کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔
اس دوران پولیس کی نوٹس موصول ہونے کے بعد کئی سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے یہ ویڈیوز ہٹا دیا گیا ہے جبکہ بعض اداروں نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کوئی بیان نہیں بلکہ حقیقت پر مبنی واقعہ کی رپورٹنگ ہے لہذا وہ اس ویڈیو کو نہیں ہٹائیں گے۔




