آرمور واقعہ پر آل انڈیا قومی تنظیم کی پولیس کمشنر نظام آباد سے نمائندگی، ایف آئی آر میں مزید سخت دفعات شامل کرنے کا مطالبہ
تعلیم اور اردو زبان پر حملے کے خلاف شدید مذمت
نظام آباد 29/جون (پریس نوٹ)
آج آل انڈیا قومی تنظیم، نظام آباد زون کے صدر جناب سمیر احمد نے جناب معین الدین (سابق صدر، مرکز کمیٹی تنظیم المسلمین، آرمور) کے ہمراہ کمشنر آف پولیس، نظام آباد سے ملاقات کرتے ہوئے بھارت چندر ہائی اسکول، آرمور میں پیش آئے افسوسناک واقعہ کے سلسلے میں ایک تفصیلی نمائندگی (Representation) پیش کی۔وفد نے مطالبہ کیا کہ اس واقعہ میں درج ایف آئی آر میں عائد کی گئی موجودہ دفعات جرم کی سنگینی کے مطابق نہیں ہیں، لہٰذا مزید سخت اور مناسب قانونی دفعات شامل کی جائیں
۔ انہوں نے کہا کہ پرنسپل پر مبینہ حملہ، اسکول میں غیر قانونی داخلہ، دھمکیاں دینا، تعلیمی ماحول کو متاثر کرنا اور تعلیمی سرگرمیوں میں خلل ڈالنا نہایت سنگین جرائم ہیں، جن کے پیش نظر سخت قانونی کارروائی ناگزیر ہے۔وفد نے بی جے پی رہنما دنیش کے اس مبینہ بیان کی بھی شدید مذمت کی، جس میں انہوں نے کہا کہ اگر وہ موقع پر موجود ہوتے تو پرنسپل کو "ختم کر دیتے”۔ اگر یہ بیان درست ہے تو یہ نہایت سنگین دھمکی ہے، جس کا قانون کے مطابق سخت نوٹس لیا جانا چاہیے اور ذمہ دار کے خلاف مناسب کارروائی ہونی چاہیے۔
اسکول کے احاطے میں پرنسپل پر مبینہ حملہ اور اساتذہ و طلبہ میں خوف و ہراس پیدا کرنے کی کوشش انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔ تعلیمی ادارے امن، تعلیم اور تربیت کے مراکز ہیں، جہاں کسی بھی قسم کی تشدد، دھونس یا خوف کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔یہ واقعہ مبینہ طور پر اردو زبان کی تدریس کے معاملے پر پیش آیا،
جبکہ اردو ہندوستان کے آئین کے تحت تسلیم شدہ زبانوں میں شامل ہے۔ کسی بھی استاد کو ایک آئینی طور پر تسلیم شدہ زبان پڑھانے کی وجہ سے دھمکانا یا نشانہ بنانا ہرگز قابلِ قبول نہیں، اور ہر طالب علم کو اپنی پسند کی زبان میں بلا خوف و خطر تعلیم حاصل کرنے کا آئینی حق حاصل ہے۔
نمائندگی میں کمشنر آف پولیس سے مطالبہ کیا گیا کہ مقدمے میں مزید سخت اور مناسب قانونی دفعات شامل کی جائیں، غیر جانبدارانہ اور منصفانہ تحقیقات کو یقینی بنایا جائے، اور اس واقعہ میں ملوث تمام افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ انصاف قائم ہو اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
تعلیم کا تحفظ کیا جائے۔اساتذہ کا احترام کیا جائے۔اردو زبان کی حفاظت کی جائے۔اور انصاف کو یقینی بنایا جائے۔




