تلنگانہ

کوڑنگل اور بودھن میں بڑے پیمانے پر ووٹر بے ضابطگیوں کا الزام – ایس آئی آر عمل پر کویتا کا شدید اظہار تشویش

*کیا الیکشن کمیشن ریونت ریڈی کی مدد کر رہا ہے؟

کوڑنگل اور بودھن میں بڑے پیمانے پر ووٹر بے ضابطگیوں کا الزام

ایس آئی آر عمل پر کویتا کا شدید اظہار تشویش

 

سربراہ تلنگانہ رکشنا سینا کلواکنٹلہ کویتا نے اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) عمل پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور الیکشن کمیشن سے شفافیت اور وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔ بنجارہ ہلز میں پریس میٹ سے خطاب کرتے ہوئے کویتا نے کہا کہ ایس آئی آر کے طریقۂ کار پر کئی سنگین سوالات کھڑے ہو رہے ہیں جن کا جواب دینا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔

 

کویتا نے بودھن اور کوڑنگل حلقوں کا موازنہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ بودھن میں گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران 7 ہزار سے زائد ووٹ حذف کئے گئے جبکہ کوڑنگل میں صرف 808 ووٹ ہی نکالے گئے۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر اس فرق کی کیا وجہ ہے اور کیا متاثرہ ووٹرس کو قواعد کے مطابق نوٹس جاری کئے گئے؟ انہوں نے مزید کہا کہ دستیاب ریکارڈ کے مطابق جنوری 2025 کے اسپیشل سمری ریویژن (SSR) کے بعد بودھن میں 7,006 ووٹ جو پہلے موجود تھے اب مکمل طور پر غائب ہو چکے ہیں

 

، جو انتہائی تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف اداکار پرکاش راج جیسے افراد کے ووٹ حذف کرنے میں کئی سال لگ جاتے ہیں جبکہ دوسری طرف صرف ڈیڑھ سال میں ہزاروں ووٹ غائب ہو جانا سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کوڑنگل میں تقریباً 22 ہزار سے زائد ڈپلیکیٹ ووٹ موجود ہیں جبکہ پڑوسی ریاست کرناٹک کے سیڑم حلقہ سے تقریباً 11 ہزار افراد کوڑنگل میں ووٹر کے طور پر درج ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ اگر ان اعداد و شمار کو یکجا کیا جائے تو تقریباً 33 ہزار مشتبہ ووٹ سامنے آتے ہیں جو انتخابی نتائج کو متاثر کر سکتے ہیں، اور یہ تعداد 2023 کے انتخابات میں وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کی جیت کے فرق (32,532 ووٹ) کے برابر یا اس سے زیادہ ہے۔

 

کویتا نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کوڑنگل میں تقریباً اسی فرق سے کامیاب ہوئے، جس کے باعث یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان ووٹوں نے نتائج پر اثر ڈالا ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سے سوال کیا کہ کیا بین ریاستی سطح پر ڈپلیکیٹ ووٹوں کی نشاندہی اور حذف کے لئے کوئی مؤثر نظام موجود ہے یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر ایسا کوئی نظام موجود نہیں تو پھر بھاری مالی لاگت سے کیے جانے والے ایس آئی آر عمل کا مقصد ہی مشکوک ہو جاتا ہے۔

 

کویتا نے ووٹر آئی ڈی میں غیر معمولی تبدیلیوں پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ عام طور پر غیر انتخابی ادوار میں ووٹر آئی ڈی میں تبدیلیاں بہت کم ہوتی ہیں، لیکن دستیاب اعداد و شمار کے مطابق کوڑنگل کے تقریباً 2.46 لاکھ ووٹرس میں سے ایک لاکھ سے زائد افراد نے گزشتہ 18 ماہ کے دوران اپنی تفصیلات میں تبدیلیاں کی ہیں، جو کل ووٹرز کا 33 فیصد سے بھی زیادہ ہے اور یہ ایک غیر معمولی اور مشکوک رجحان ہے

 

۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک میں “ون نیشن، ون الیکشن، ون ووٹ” کا اصول نافذ کیا جانا چاہئے تاکہ ہر شہری کا صرف ایک ہی ووٹ ہو۔کویتا نے کہا کہ بین ریاستی نقل مکانی، ڈپلیکیٹ اندراجات اور خانہ بدوش طبقات کے ووٹنگ حقوق جیسے اہم مسائل پر الیکشن کمیشن کو واضح پالیسی پیش کرنی چاہئے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ایک ہی خاندان کے افراد کے ووٹ ایک ہی بوتھ میں رکھنے کے لئے اقدامات کئے جائیں

 

۔ انہوں نے کہا کہ ایس آئی آر کو ایک مستقل اور مؤثر حل کے طور پر نافذ کیا جانا چاہئے تاکہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ نئی سیاسی جماعتوں کے لئے شفاف ووٹر لسٹ نہایت اہم ہے اس لئے الیکشن کمیشن تمام اٹھائے گئے سوالات کا واضح اور تفصیلی جواب دے۔کویتا نے آخر میں کہا کہ تلنگانہ کے عوام کے حقوق کے تحفظ اور شفاف انتخابی نظام کے لئے ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button