جرائم و حادثات

ساس، سسر کے لالچ نے لے لی بیٹی اور داماد کی جان۔خزانہ نکالنے کے نام پر لاکھوں روپئے کی وصولی

حیدرآباد: ساس اور سسر کی لالچ نے خود ان کی اپنی بیٹی اور داماد کی جان لے لی ۔ اتوار کے روز ضلع رنگا ریڈی شنکر پلی منڈل کے موکیلا پولیس اسٹیشن کے حدود میں واقع جنواڑہ گاؤں میں پیش آنے والے بالاسائی اور پدما کی

 

خودکشی کے معاملے میں متوفی کے بھائی اروند کی شکایت پر پولیس نے تفتیش شروع کی تو کئی چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے۔ پولیس کے مطابق خودکشی کرنے والے جوڑے نے ڈیڑھ سال قبل محبت کی شادی کی تھی اور

 

وہ ضلع سنگاریڈی کے پٹن چیرو منڈل کے پٹیل گوڑا میں ہنسی خوشی رہ رہے تھے۔شادی کے کچھ دنوں بعد جب یہ جوڑا سسرال گیا تو ساس، سسر اور پدما کے بہنوئی وینکٹیش نے بالاسائی کو یقین دلایا کہ ایک سادھو نے ان کے گھر میں

 

خزانہ دفن ہونے کی بات کہی ہے۔ انہوں نے خزانہ نکالنے کے نام پر داماد سے 10 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا۔ سسرال والوں کی باتوں میں آ کر بالاسائی نے چار ماہ قبل اپنے جاننے والوں سے بھاری سود پر 10 لاکھ روپے ادھار لیے اور انہیں دے

 

دیے۔ تاہم سسرال کے گھر میں کھدائی کے باوجود کوئی خزانہ ہاتھ نہیں آیا۔کچھ ہی دنوں میں قرض دینے والوں نے بالاسائی پر رقم کی واپسی کے لیے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا جب بالاسائی نے اپنے ساس، سسر اور ہم زلف سے پیسے

 

واپس مانگے تو انہوں نے صاف انکار کر دیا۔ اس شدید ذہنی تناؤ اور بے بسی کی حالت میں بالاسائی اور پدما اپنے آبائی گاؤں جنواڑہ آئے اور وہاں یہ انتہائی اقدام کیا۔ اس جوڑے کو پانچ کا بچہ ہے جو ماں باپ کے مرنے کے بعد لاوارث ہوگیا۔

 

پولیس کو متوفی کے فون کی جانچ کے دوران ایک پیغام ملا، جس میں لکھا تھا
"سب ہمیں معاف کر دیں۔ میں اور میری بیوی… اپنے ساس اور سسر کی باتوں میں آ کر دھوکے کا شکار ہوئے ہیں۔

 

ہماری موت کے ذمہ دار وہی لوگ ہیں۔”پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے پدما کی ماں باپ اور اس کے بہنوئی کو گرفتار کرلیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button