ووٹر لسٹ کی صفائی یا ووٹ کے حق کا امتحان؟

جاوید جمال الدین

اس میں کوئی دورائے نہیں کہ ووٹر لسٹ میں صرف اہل اور قانونی طور پر مستحق شہریوں کے نام ہونے چاہئیں، تاکہ انتخابی عمل کی شفافیت، اعتبار اور غیر جانب داری برقرار رہے۔ ایک صحت مند جمہوریت کے لیے یہ بنیادی ضرورت ہے کہ کسی ایسے شخص کو ووٹ دینے کا حق نہ ملے جو قانون کے مطابق اہل نہیں، لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی اتنا ہی ضروری ہے کہ کسی اہل شہری کو محض کاغذی، تکنیکی یا انتظامی خامی کی وجہ سے اس کے بنیادی جمہوری حق سے محروم نہ کیا جائے۔ اصل امتحان اسی توازن کا ہے۔
ہندوستان میں الیکشن کمیشن کی جانب سے شروع کیا گیا Special Intensive Revision (SIR) (ایس آئی آر)اسی مقصد کے تحت ووٹر لسٹوں کی گہری جانچ اور نظرثانی کا عمل ہے۔ لیکن یہ مہم اپنے آغاز ہی سے سوالات کی زد میں رہی ہے۔ ووٹر لسٹوں سے نام خارج کرنے کے معیار، نئے ووٹروں کے اندراج کے طریقۂ کار، ریاستی اور مرکزی انتخابی حکام کے اختیارات، انتخابی ڈیٹا کے انتظام اور اپیل کے نظام پر سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ سابق انتخابی عہدیداروں اور اب خود الیکشن کمیشن کے اندر سے بھی سوال اٹھے ہیں۔
تازہ ترین صورت حال نے اس معاملے کو غیر معمولی اہمیت دے دی ہے۔ دی انڈین ایکسپریس کی ایک تحقیق کے مطابق الیکشن کمیشن کے دو موجودہ ارکان، سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی، نے گزشتہ دس ماہ کے دوران کم از کم 14 مرتبہ کمیشن کے بعض فیصلوں اور احکامات پر باضابطہ اعتراضات درج کرائے۔ ان اعتراضات کا تعلق نئے ووٹروں کے اندراج، ووٹروں کے نام حذف اور بحال کرنے، اپیلوں، فارم 6 میں تبدیلی اور انتخابی فہرست کے ڈیٹا بیس تک رسائی جیسے انتہائی بنیادی معاملات سے تھا۔
یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ ان اعتراضات کا سامنے آنا بذاتِ خود انتخابی دھاندلی یا کسی سیاسی جماعت کو فائدہ پہنچانے کا قطعی ثبوت نہیں ہے۔ لیکن ایک آئینی ادارے کے تین رکنی کمیشن میں دو ارکان کا اتنی مرتبہ باضابطہ اعتراض ریکارڈ کرانا یقیناً ایک غیر معمولی صورت حال ہے، جس پر عوام کو واضح اور دستاویزی جواب ملنا چاہیے۔اس معاملے کی حساسیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ رپورٹ کے مطابق بعض اعتراضات میں ان اقدامات کو "غیر مجاز” اور "غیر قانونی” قرار دیا گیا، جبکہ دونوں کمشنروں نے انتخابی ڈیٹا بیس تک رسائی کو مرکز میں مرتکز کیے جانے پر بھی تشویش ظاہر کی۔ یہاں تک کہ انہوں نے انتخابی نظام کے آئی ٹی ڈھانچے سے متعلق بعض معاملات پر کابینہ سکریٹری کو بھی تحریری طور پر اپنی تشویش سے آگاہ کیا۔
دوسری طرف الیکشن کمیشن کا مؤقف یہ ہے کہ گزشتہ دس ماہ کے دوران کیے گئے فیصلے متفقہ تھے اور بعض مخصوص داخلی نوٹس کو الگ کرکے دیکھنے سے پورے فیصلہ سازی کے عمل کی درست تصویر سامنے نہیں آتی۔ کمیشن نے ان اعتراضات کے وجود، ان کی تاریخ یا ان کے مندرجات سے انکار نہیں کیا، بلکہ انہیں ادارے کے معمول کے داخلی غور و خوض کا حصہ قرار دیا ہے۔یہی تضاد اس پورے معاملے کا سب سے اہم پہلو ہے: اگر فیصلے متفقہ تھے تو پھر بار بار درج کیے گئے اعتراضات کی حیثیت کیا تھی، ان پر کیا کارروائی ہوئی اور حتمی فیصلے تک کیسے پہنچا گیا؟ اس کا جواب جتنا واضح ہوگا، اتنا ہی الیکشن کمیشن کے بارے میں پیدا ہونے والا شکوک و شبہات کم ہوں گے۔
فارم 6 کا تنازع بھی اسی پس منظر میں انتہائی اہم ہے۔ نئے ووٹر کے اندراج کے لیے استعمال ہونے والے فارم 6 میں SIR سے متعلق ایک اضافی سوال شامل کیا گیا، جس کے تحت نئے درخواست گزار سے یہ معلوم کیا جارہا تھا کہ آیا اس کا نام گزشتہ SIR کے دوران انتخابی فہرست میں تھا، اس کے والدین یا دادا دادی کا نام اس فہرست میں تھا، یا ان میں سے کسی کا نام موجود نہیں تھا۔ دی انڈین ایکسپریس کے مطابق وویک جوشی نے مئی میں ہی اعتراض کیا تھا کہ قانونی فارم میں اس طرح کی تبدیلی کے لیے قواعد میں ترمیم ضروری ہے، جبکہ سکھبیر سنگھ سندھو نے بعد میں اس اقدام کو "غیر مجاز اور غیر قانونی” قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر ہٹانے کا مطالبہ کیا۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے اس معاملے کی الگ وضاحت سامنے آئی ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ فارم 6 میں بنیادی طور پر کوئی تبدیلی نہیں کی گئی بلکہ SIR کے تحت اس کے ساتھ ایک اضافی اعلامیہ شامل کیا گیا۔ اس لیے اصل قانونی سوال یہ ہے کہ کیا ایسے اضافی تقاضے موجودہ قانونی اختیارات کے تحت نافذ کیے جاسکتے تھے یا اس کے لیے باقاعدہ قانونی طریقۂ کار اختیار کرنا ضروری تھا۔یہ سوال محض تکنیکی نہیں۔ اگر کسی نوجوان کا پہلی مرتبہ ووٹر بننے کا حق ایسے اضافی تقاضوں سے مشروط ہوجائے جو قانون میں واضح طور پر موجود نہ ہوں، تو اس کے اثرات براہ راست حقِ رائے دہی پر پڑ سکتے ہیں۔ اسی لیے اس معاملے کی قانونی حیثیت کو پوری وضاحت کے ساتھ سامنے آنا چاہیے۔
یہ معاملہ اس وقت مزید حساس ہوگیا جب سابق چیف الیکشن کمشنروں اور انتخابی امور کے ماہرین نے بھی اس عمل کے مختلف پہلوؤں پر سوالات اٹھائے۔ سابق چیف الیکشن کمشنر او پی راوت نے فارم 6 میں مبینہ تبدیلیوں کو غیر قانونی قرار دیا اور SIR کے طریقۂ کار سے ووٹروں میں خوف پیدا ہونے کی بات کہی۔ سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی نے بھی یہ بنیادی سوال اٹھایا کہ اگر انتخابی فہرست کی تیاری کے عمل میں قانونی خامیاں موجود ہوں تو اس بنیاد پر کرائے گئے انتخابات کی قانونی حیثیت پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔
یہاں ایک اہم قانونی احتیاط بھی ضروری ہے۔ کسی انتخابی فہرست میں غلطی، کسی نام کا اخراج یا انتظامی بے ضابطگی خود بخود پورے انتخاب کو غیر قانونی قرار نہیں دیتی۔ انتخابی نتائج کو چیلنج کرنے کے لیے قانون میں مخصوص طریقۂ کار موجود ہے۔ اسی طرح کسی انتخاب میں ووٹروں کے نام حذف ہونے کی تعداد کو براہ راست انتخابی نتیجے کی تبدیلی کا ثبوت قرار دینے کے لیے حلقہ وار شواہد درکار ہوں گے۔
مغربی بنگال کا معاملہ اس بحث کو سمجھنے کے لیے اہم مثال ہے۔ SIR کے دوران بڑی تعداد میں ووٹر ناموں کے اخراج، بحالی اور اپیلوں کا عمل سامنے آیا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق تقریباً 27 لاکھ ووٹر نام خارج ہوئے اور لاکھوں افراد نے بحالی کے لیے اپیل کی۔ گزشتہ ہفتے کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ ٹریبونلز کے سامنے تقریباً 38 لاکھ اپیلیں زیرِ سماعت یا دائر ہوچکی تھیں، جن میں 22.21 لاکھ اپیلیں خارج کیے گئے ووٹروں کی جانب سے نام بحال کرانے کے لیے تھیں، جبکہ تقریباً 16.10 لاکھ اپیلیں ایسے افراد کے نام حذف کرنے کے لیے تھیں جنہیں عدالتی افسران نے شامل کیا تھا۔
یہ اعداد و شمار اس بات کی طرف ضرور اشارہ کرتے ہیں کہ انتخابی فہرست کی نظرثانی کا عمل کس قدر وسیع اور پیچیدہ ہوگیا ہے۔ لیکن ہر حذف شدہ نام کو غلط اخراج اور ہر بحال کیے گئے نام کو الیکشن کمیشن کی غلطی قرار دینا بھی درست نہیں ہوگا۔ اصل سوال یہ ہے کہ اخراج کا معیار کیا تھا، شہری کو اس کی اطلاع کب ملی، اپیل کا موقع کتنا مؤثر تھا اور انتخاب سے پہلے غلطی کی اصلاح کس رفتار سے کی گئی۔
یہیں سے جمہوری حق کا بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے۔
اگر ایک شہری قانوناً ووٹ دینے کا اہل ہے، اس نے مطلوبہ دستاویزات فراہم کردی ہیں، متعلقہ انتخابی افسر نے اس کی اہلیت تسلیم کرلی ہے، لیکن کسی انتظامی یا تکنیکی رکاوٹ کے باعث اس کا نام حتمی فہرست میں شامل نہیں ہوسکا تو اس ذمہ داری کا تعین ضروری ہے۔گوا کا حالیہ معاملہ اسی لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق گوا کے چیف الیکٹورل افسر سنجے گویل نے 97 ووٹروں کے معاملے میں سات دن کے اندر آٹھ مرتبہ الیکشن کمیشن سے رابطہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق ان افراد کی اہلیت کی جانچ مقامی سطح پر کی گئی تھی، لیکن حتمی فہرست میں ان کے نام شامل نہیں ہوسکے۔ بعد میں گوا کے چیف الیکٹورل افسر کے دفتر نے بتایا کہ ان میں سے متعدد افراد کے نام بعد میں درج کیے جاچکے ہیں جبکہ باقی معاملات پر کارروائی جاری ہے۔
اگر یہ رپورٹ درست ہے تو یہاں معاملہ کسی سیاسی جماعت کے الزام سے آگے بڑھ کر انتخابی انتظامیہ کے نظام کا سوال بن جاتا ہے۔ اگر زمینی سطح پر مقررہ افسر کسی شہری کو اہل قرار دیتا ہے، مگر مرکزی سافٹ ویئر یا انتظامی نظام اس فیصلے کو درج کرنے میں رکاوٹ بنتا ہے تو یہ جاننا ضروری ہے کہ آخری اختیار کس کے پاس ہے اور شہری کے حق کو محفوظ رکھنے کے لیے متبادل طریقۂ کار کیا ہے۔الیکشن کمیشن کی روایتی طاقت کا ایک اہم اصول یہ رہا ہے کہ انتخابی فہرستیں زمینی سطح پر Electoral Registration Officers کے ذریعے تیار اور برقرار رکھی جاتی ہیں۔ لیکن اگر ڈیجیٹل نظام کی مرکزیت اس حد تک بڑھ جائے کہ مقامی قانونی افسر کا فیصلہ بھی سافٹ ویئر کی رکاوٹ کے سامنے بے اثر ہوجائے تو یہ ایک اہم ادارہ جاتی سوال ہے۔ دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ نے اسی پہلو کو الیکشن کمیشن کے اندر اٹھنے والے اعتراضات کے ساتھ جوڑا ہے۔
یہاں اصل خطرہ صرف یہ نہیں کہ کسی ایک شخص کا نام فہرست سے رہ جائے۔ اصل تشویش یہ ہے کہ کہیں انتخابی فہرست کی تیاری کا ایسا مرکزی نظام نہ بن جائے جس میں غلطی کی اصلاح کے لیے زمینی سطح پر موجود آئینی اور قانونی افسر بھی بے اختیار ہوجائیں۔اپوزیشن جماعتوں نے اسی پس منظر میں SIR کو "ووٹ چوری” قرار دیتے ہوئے شدید احتجاج کیا ہے۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے بھی الیکشن کمیشن کے طریقۂ کار پر شدید سوالات اٹھاتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے بعض ریاستوں میں دوبارہ انتخابات کا مطالبہ بھی سامنے آیا ہے۔
ان الزامات کو ان کی سیاسی نسبت کے ساتھ ہی دیکھا جانا چاہیے۔ "ووٹ چوری” ایک سیاسی اصطلاح ہے اور اس کے استعمال سے کسی الزام کا قانونی طور پر ثابت ہونا لازم نہیں ہوجاتا۔ تاہم جب انتخابی فہرست، ناموں کے اخراج اور کمیشن کے اندرونی اختلافات کے بارے میں دستاویزی سوالات سامنے آرہے ہوں تو انہیں صرف سیاسی بیان کہہ کر نظرانداز کرنا بھی مناسب نہیں ہوگا۔اسی طرح یہ کہنا بھی قبل از وقت ہوگا کہ SIR کے نتیجے میں ہونے والے ناموں کے اخراج نے کسی خاص ریاست یا حلقے کے انتخابی نتائج کو تبدیل کردیا۔ یہ ثابت کرنے کے لیے حلقہ وار اعداد و شمار، خارج ہونے والے اہل ووٹروں کی تعداد، جیت کے فرق، ان ووٹروں کی ممکنہ سیاسی وابستگی اور دیگر متعلقہ شواہد کا تجزیہ ضروری ہے۔
دی انڈین ایکسپریس کی تازہ رپورٹ کے مطابق مغربی بنگال کی 294 نشستوں میں 49 ایسی تھیں جہاں SIR کے دوران خارج کیے گئے ناموں کی تعداد جیت کے فرق سے زیادہ تھی۔ لیکن انہی نشستوں کے انتخابی نتائج کا جائزہ لینے پر یہ تعداد سیاسی طور پر یک طرفہ نہیں تھی؛ رپورٹ کے مطابق ان میں 26 نشستیں بی جے پی اور 21 ترنمول کانگریس نے جیتیں۔ اس لیے صرف حذف شدہ ووٹروں کی تعداد کو بنیاد بناکر انتخابی نتائج پر کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا۔یہ تفصیل اس لیے اہم ہے کہ انتخابی عمل پر بحث میں جذبات سے زیادہ اعداد و شمار کی ضرورت ہے۔
اگر واقعی کسی حلقے میں اہل ووٹروں کی بڑی تعداد غلط طور پر خارج ہوئی اور اس کے نتیجے میں انتخابی نتیجہ متاثر ہوا تو اس کا فیصلہ ثبوت اور قانونی طریقۂ کار کے ذریعے ہونا چاہیے۔ اسی طرح اگر الیکشن کمیشن کے اقدامات قانون کے مطابق تھے تو کمیشن کو بھی مکمل ریکارڈ اور دستاویزات کے ذریعے یہ بات ثابت کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔اصل مسئلہ الیکشن کمیشن کی معتبریت کا ہے۔الیکشن کمیشن کوئی عام سرکاری محکمہ نہیں بلکہ ہندوستان کے انتخابی نظام کی آئینی نگرانی کرنے والا ادارہ ہے۔ اس کی طاقت صرف قانون سے نہیں بلکہ عوام کے اعتماد سے بھی آتی ہے۔ اس لیے اس ادارے کے بارے میں اٹھنے والے سوالات کا جواب بھی معمول کے سرکاری بیان سے زیادہ شفاف اور دستاویزی ہونا چاہیے
اگر دو موجودہ الیکشن کمشنر دس ماہ کے دوران 14 مرتبہ کسی نہ کسی فیصلے پر تحریری اعتراض درج کرتے ہیں تو یہ جاننا عوام کا حق ہے کہ ان اعتراضات کا کیا ہوا۔ اگر کمیشن کا حتمی فیصلہ متفقہ تھا تو اختلافی نوٹس اور حتمی فیصلے کے درمیان قانونی اور انتظامی عمل کیا تھا؟ اگر کسی اعتراض کو مسترد کیا گیا تو اس کی وجہ کیا تھی؟ اگر کسی اعتراض کو تسلیم کیا گیا تو اس پر کیا اصلاح ہوئی؟اور اگر کمیشن خود کہتا ہے کہ تمام فیصلے متفقہ تھے تو پھر ان 14 اعتراضات کی نوعیت، اہمیت اور ان کے بعد ہونے والی کارروائی کی تفصیل عوام کے سامنے رکھنے میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہیے۔یہ شفافیت خود الیکشن کمیشن کے حق میں جائے گی۔
اسی طرح سیاسی جماعتوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ انتخابی نظام پر سنگین الزام لگاتے وقت قابلِ تصدیق ثبوت سامنے رکھیں۔ جمہوری اداروں پر اعتماد صرف سرکاری دعووں سے نہیں بلکہ آزادانہ جانچ، دستاویزات، عدالتی نگرانی اور عوامی احتساب سے قائم ہوتا ہے۔موجودہ صورتحال میں سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ کون کس کے حق میں ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہندوستان کا انتخابی نظام ہر اہل شہری کے ووٹ کے حق کو محفوظ رکھنے کے لیے کافی شفاف، قابلِ جانچ اور جواب دہ ہے؟
یہ سوال SIR سے کہیں بڑا ہے۔
کیونکہ ووٹر لسٹ صرف ناموں کی فہرست نہیں ہوتی۔ یہ دراصل جمہوری شہریت کا عملی ریکارڈ ہے۔ جس شخص کا نام اس فہرست میں موجود ہے، اسے اپنے نمائندے کے انتخاب کا حق حاصل ہے؛ جس کا نام خارج ہوگیا، اس کے لیے جمہوری عمل کا دروازہ بند ہوجاتا ہے۔
اسی لیے ووٹر لسٹ کی صفائی ضروری ہے، لیکن یہ صفائی ایسی نہیں ہونی چاہیے جس میں اہل شہری ہی اپنے حق سے محروم ہوجائے۔ غیر اہل ناموں کا اخراج بھی ضروری ہے اور اہل ناموں کا تحفظ بھی۔
جمہوریت میں دونوں حقوق ایک دوسرے کے مقابل نہیں بلکہ ایک دوسرے کے تکملے ہیں۔
SIR کی کامیابی کا پیمانہ صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کتنے نام خارج کیے گئے۔ اصل سوال یہ بھی ہونا چاہیے کہ ان میں سے کتنے نام قانون کے مطابق خارج ہوئے، کتنے اہل شہری غلطی سے متاثر ہوئے، کتنے نام بروقت بحال کیے گئے اور کتنے شہری ایسے تھے جو اپیل یا اصلاح کے باوجود انتخابی عمل میں حصہ نہ لے سکے۔
کیونکہ انتخابی فہرست میں ایک غلط نام شامل ہوجانے سے ایک انتظامی سوال پیدا ہوتا ہے، لیکن ایک اہل شہری کا نام غلط طور پر خارج ہوجانے سے اس کے بنیادی جمہوری حق کا سوال پیدا ہوتا ہےاور اگر یہ عمل بڑے پیمانے پر ہو تو معاملہ محض انتظامی غلطی نہیں رہتا بلکہ پورے انتخابی نظام پر عوامی اعتماد کا مسئلہ بن جاتا ہے آج ضرورت کسی ایک فرد کو مجرم قرار دینے، کسی ایک سیاسی جماعت کو ذمہ دار ٹھہرانے یا ہر انتخابی نتیجے کو مشکوک قرار دینے سے زیادہ ایک ایسے شفاف نظام کی ہے جس میں سوال اٹھنے کی گنجائش تو ہو، لیکن جواب بھی موجود ہو؛ اختلاف کی گنجائش ہو، مگر اختلاف کو دبانے کے بجائے ریکارڈ کیا جائے؛ ٹیکنالوجی استعمال ہو، مگر ٹیکنالوجی انسانی اور قانونی اختیار پر حاوی نہ ہوجائے؛ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کسی اہل شہری کو یہ ثابت کرنے کے لیے در در نہ بھٹکنا پڑے کہ وہ ووٹ دینے کا حق رکھتا ہے۔
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے دور میں الیکشن کمیشن کے اندر سے سامنے آنے والے یہ اختلافات اسی لیے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ اختلافات بذاتِ خود انتخابی دھاندلی کا حتمی ثبوت نہیں، لیکن انہیں معمولی انتظامی اختلاف کہہ کر ختم کردینا بھی کافی نہیں ہوگا۔ ان کا مکمل ریکارڈ، ان پر کیے گئے فیصلے اور ان فیصلوں کی قانونی بنیاد عوام کے سامنے آنی چاہیے۔
کیونکہ جمہوریت میں الیکشن کمیشن کی سب سے بڑی طاقت اس کا اختیار نہیں، اس کی غیر جانب داری پر عوام کا اعتماد ہے اور اس اعتماد کی بنیاد صرف یہ نہیں کہ انتخابات کرائے جائیں؛ بلکہ یہ یقین بھی ہونا چاہیے کہ جس شہری کو ووٹ دینے کا قانونی حق حاصل ہے، اس کا نام ووٹر لسٹ میں محفوظ ہے، اس کا ووٹ محفوظ ہے اور اس کے جمہوری حق تک پہنچنے کا راستہ کسی غیر واضح انتظامی یا تکنیکی رکاوٹ سے بند نہیں کیا جاسکتا۔آخرکار سوال یہی ہے:
ووٹر لسٹ کی صفائی کے نام پر کہیں ووٹ دینے کے حق کا امتحان تو نہیں لیا جارہا؟
javedjamaluddin@gmail.com
9867647741



