کاماریڈی میں چنئی اور کسان شاپنگ مالس کا محمدعلی شبیر کے ہاتھوں افتتاح

کاماریڈی میں چنئی اور کسان شاپنگ مالس کا محمدعلی شبیر کے ہاتھوں افتتاح ،تجارتی سرگرمیوں کے فروغ سے روزگار کے مواقع
کاماریڈی2/اکتوبر (سید کوثر علی کی رپورٹ): کاماریڈی کے نظام ساگر چوراہے پر قائم کردہ چنئی شاپنگ مال اور کسان شاپنگ مال کا افتتاح جمعہ کے روز شاندار پیمانے پر عمل میں آیا۔ اس تقریب میں تلنگانہ حکومت کے مشیر محمد علی شبیر نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کرتے ہوئے دونوں شاپنگ مالس کا رسمی افتتاح انجام دیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ کاماریڈی شہر تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور نئے تجارتی اداروں اور شاپنگ مالس کا قیام خوش آئند ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان اداروں کے قیام سے عوام کو معیاری اشیاء اور بہتر خدمات کی فراہمی کے ساتھ شہر میں تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔انہوں نے کہا کہ تجارتی شعبہ کی ترقی سے مقامی سطح پر روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور نوجوانوں کو ملازمتیں حاصل کرنے کے علاوہ مقامی تاجروں کو بھی کاروبار کے مزید مواقع میسر آئیں گے۔ محمد علی شبیر نے چنئی شاپنگ مال اور کسان شاپنگ مال کے انتظامیہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ صارفین کو مناسب قیمتوں پر معیاری اشیاء فراہم کرتے ہوئے عوام کا اعتماد حاصل کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کاماریڈی شہر کی ترقی کو خصوصی اہمیت دے رہی ہے اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے ساتھ تجارتی و کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے بھی سازگار ماحول کی فراہمی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
اس موقع پر میونسپل چیئرپرسن اپا اوما رانی، سابق ڈی سی سی صدر کیلاش سرینواس راؤ، ٹاؤن کانگریس صدر آئرینی سندیپ کمار، کاماریڈی پی اے سی ایس چیئرمین گوڑیم سرینواس ریڈی، ڈی سی سی نائب صدور گمپا پرساد اور اپا سرینواس، بلاک کانگریس صدر گونے سرینواس، منڈل کانگریس صدر راجا گوڑ، ضلع ایس سی سیل صدر بھومنی بالراج، کونسلرس امجد، کنیا، واجد، جاوید، کلا گنیش، مجید، اَکھیلا، چٹی بابو، گیارا سائیلو، لڈو، گنگادھر، علی بن عبداللہ، مہیش، تاتی پرساد، بھوپتی، لکا پتی گنگادھر، ٹاؤن یوتھ کانگریس صدر محمدعظمت علی، مائناریٹی کانگریس صدر سراج الدین، سیدمبشر علی، محمدعبدالقدیر، ویمن کانگریس صدر منتری سُما پریہ، ناگ رانی، شیریشا، نصرت بیگم، ویدیا کشن راؤ، این ایس یو آئی کے ضلعی قائدین ڈیوڈ، انیرودھ اور صوفیان کے علاوہ دیگر قائدین اور کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔




