آئی ٹی کی نوکری چھوڑ کر آٹو رکشہ چلانے لگی، بنگلورو کی خاتون کی زندگی کا سفر

نئی دہلی: معاشرے میں عام طور پر روایتی پیشوں یا زیادہ تنخواہ دینے والی آئی ٹی ملازمتوں کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے لیکن بنگلورو کی ایک خاتون نے اس کے برعکس فیصلہ کیا۔
انہوں نے طے کیا کہ ان کے لیے اپنی صحت خاندانی ذمہ داریوں اور اپنے وقت کو خود منظم کرنے کی آزادی سے بڑھ کر کچھ نہیں۔اسی وجہ سے انہوں نے کارپوریٹ ملازمت کی سہولیات کو چھوڑ کر بنگلورو کی سڑکوں پر آٹو رکشہ چلانا شروع کردیا۔
ان کی کہانی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے اور کئی لوگ ان کی تعریف کر رہے ہیں۔بنگلورو کی ایک انفلوئنسر تنوی شیٹی نے سفر کے دوران ایک خاتون کو آٹو رکشہ چلاتے دیکھا تو خوشی سے ان سے بات چیت کی۔ خاتون آٹو ڈرائیور کا نام خبر میں ظاہر نہیں کیا گیا لیکن ان کی پوری کہانی بتائی گئی ہے۔
خاتون کے مطابق آئی ٹی کی ملازمت میں مسلسل بدلنے والی نائٹ شفٹیں، PCOD جیسے صحت کے مسائل اور اس کے ساتھ اپنی والدہ کی دیکھ بھال کی ذمہ داری ان کے لیے دن بدن مشکل ہوتی جارہی تھی۔انہوں نے بتایا کہ ان جسمانی اور ذہنی مشکلات نے انہیں اپنی زندگی کے بارے میں ایک مختلف فیصلہ کرنے پر مجبور کیا۔
خاتون نے بتایا کہ عام طور پر خواتین کا آٹو ڈرائیونگ کے شعبے میں آنا کم ہی دیکھنے میں آتا ہے لیکن ان کے لیے یہ فیصلہ باعثِ اطمینان ثابت ہوا۔آٹو چلانے کی وجہ سے انہیں اپنے روزمرہ کے وقت کو اپنی مرضی سے منظم کرنے کی آزادی مل گئی ہے۔ ان کے مطابق وہ پہلے کے مقابلے میں بہتر آمدنی بھی حاصل کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئی ٹی کی ملازمت کے مقابلے میں آٹو چلانے کا یہ پیشہ انہیں زیادہ اطمینان دے رہا ہے۔صرف کیریئر اور عہدے کے بجائے اپنی صحت اور خاندان کو ترجیح دینے والی بنگلورو کی اس خاتون کی کہانی بہت سے لوگوں کے لیے ایک مثال بن رہی ہے۔
ان کا سفر ان خواتین کے لیے حوصلہ افزا قرار دیا جا رہا ہے جو سماجی پابندیوں اور محدود سوچ سے آگے بڑھ کر خودمختار زندگی گزارنا چاہتی ہیں، اور ان افراد کے لیے بھی جو کارپوریٹ ملازمت کے دباؤ سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔



