مسجدِ عباس کاماریڈی میں خدامِ دین کا ماہانہ اجتماع مکاتب کے نظام کو مؤثر بنانے اور نسلِ نو کے ایمان کی حفاظت پر زور

مسجدِ عباس کاماریڈی میں خدامِ دین کا ماہانہ اجتماع
مکاتب کے نظام کو مؤثر بنانے اور نسلِ نو کے ایمان کی حفاظت پر زور
نظام آباد 8/ اکتوبر (اردو لیکس)کاما ریڈی
دیہات و قریہ جات میں دینی خدمات سے وابستہ خدامِ دین کا ماہانہ اجتماع مسجدِ عباس کاماریڈی میں منعقد ہوا اجتماع میں بچوں اور نوجوانوں کی دینی تعلیم و تربیت مکاتب کے نظام کو بہتر بنانے اور نسلِ نو کے ایمان و کردار کی حفاظت کے حوالے سے اہم امور پر گفتگو ہوئی اجلاس کا باقاعدہ آغاز حافظ محمد عامر کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جبکہ حافظ سعود نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں ہدیۂ نعت پیش کرنے کی سعادت حاصل کی
اس موقع پر حافظ محمد فہیم الدین منیری ناظم مجلس تحفظ ختم نبوت ٹرسٹ کاما ریڈی نے نوجوانوں کے دین و ایمان کی حفاظت اور دینی تربیت کے موضوع پر فکر انگیز خطاب فرمایا انہوں نے بچوں کو مکتب سے وابستہ کرنے پانچوں وقت باجماعت نماز کا عادی بنانے اور بالخصوص نمازِ جمعہ کا اہتمام کروانے کی تاکید فرمائی نیز جو بچے اور نوجوان تعلیم یا کسی اور ضرورت کے باعث اپنے مقام سے باہر رہتے ہیں ان کی بھی نمازِ جمعہ کی پابندی کی فکر کرنے اور اس کا جائزہ لینے کی طرف توجہ دلائی قرآنِ مجید کو صحیح تجوید اور خوش الحانی کے ساتھ پڑھنے کا ذوق پیدا کرنے نیز بچوں کی دینی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے ماہانہ اجتماعات تعلیمی مظاہروں اور مسابقات کے اہتمام پر بھی خصوصی زور دیا
مولانا نظر الحق قاسمی نگران مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت کاماریڈی نے مقامی مسلمانوں کی عدمِ دلچسپی پر متوجہ کرتے ہوئے مقامی ذمہ داران اور اہلِ علاقہ کو دینی تعلیم و تربیت کے نظام سے جوڑنے اور مکاتب کی سرپرستی و نگرانی کی ضرورت پر زور دیا مولانا سید منظور احمد مظاہری نے مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت سے ایک ایک مسلمان کو وابستہ کرنے اور مجلس کی دینی خدمات کو مزید وسعت دینے کے لیے اس کے مالی وسائل کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر خصوصی توجہ دلائی اجتماع میں مکاتب کے نظام کو منظم مؤثر اور مفید بنانے کے لیے مختلف تجاویز پیش کی گئیں
اس بات پر زور دیا گیا کہ مکتب محض تعلیم کا مرکز نہیں بلکہ بچوں کے ایمان نماز قرآن اخلاق اور دینی کردار کی تعمیر کا بنیادی ذریعہ ہے آخر میں دین و ایمان کی حفاظت نسلِ نو کی دینی تربیت مکاتب کی ترقی اور تمام خدامِ دین کی محنتوں کی قبولیت و استقامت کے لیے دعا کی گئی



