’’مودی جی آپ کی حکومت کے 200 آفیسرس ہمارے رابطے میں ہیں‘‘ راہل گاندھی کا سنسنی خیز بیان

نئی دہلی: کانگریس پارٹی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ مزید شدت سے اٹھانے کے لیے پیر کے روز سپریم کورٹ تک ایک بڑی ریلی نکالنے کا منصوبہ بنایا۔ اسی سلسلے میں کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی نے ایک خصوصی پریس کانفرنس کی اور مرکزی حکومت سے کئی سوالات پوچھے۔
راہل گاندھی نے سوال کیا کہ احتجاج کے دوران دہلی کو جیل میں کیوں تبدیل کر دیا گیا ہے؟ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انتخابی عمل میں مبینہ ’’ووٹ چوری‘‘ کے معاملے پر چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت سے ملاقات کا وقت مانگا گیا تھا لیکن ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ چیف جسٹس کو ہدایات کون دے رہا ہے؟ راہل گاندھی نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی جانب سے انہیں پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔کانگریس کے رکن پارلیمنٹ نے کہا ’’ہم سمجھ سکتے ہیں کہ وہ کتنے دباؤ میں کام کر رہے ہیں۔
اب بھی وقت ہے کہ وہ سرکاری گواہ بن جائیں اور اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں یہی ملک کے لیے ان کی حقیقی خدمت ہوگی اس کے بعد ہم انہیں معاف کر دیں گے۔‘‘راہل گاندھی نے کہا ’’گزشتہ 12 برسوں سے ملک کے عوام میں بی جے پی کے خلاف ناراضگی موجود ہے، اور اب یہ ناراضگی واضح شکل اختیار کر رہی ہے۔
احتجاج کے دوران دہلی میں خوف کا ماحول پیدا کر دیا گیا ہے۔ شہر کی سڑکوں پر تقریباً 30 ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔لوگوں کو قومی دارالحکومت آنے سے روکا جا رہا ہے۔ آخر پورے دہلی کو ایک قلعے اور جیل میں تبدیل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
آر ایس ایس کے غنڈوں کو جو آزادی حاصل ہے وہ نوجوانوں کو کیوں نہیں دی جا رہی؟ بی جے پی اور آر ایس ایس کے غنڈے خواتین پر حملے کر رہے ہیں۔ہم جانتے ہیں کہ موجودہ حالات کی وجہ سے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار راتوں کو سو نہیں پا رہے ہیں۔
انہیں استعفیٰ دینا ہی ہوگا۔ جب تک وہ استعفیٰ نہیں دیتے ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘‘راہل گاندھی نے مزید کہا ’’اس وقت عوام اور تمام اپوزیشن جماعتیں ایک طرف ہیں جبکہ نریندر مودی، امیت شاہ، اجیت دوول، گیانیش کمار اور موہن بھاگوت دوسری طرف ہیں وہ جمہوریت کو ختم کر رہے ہیں۔
راہل گاندھی نے آخر میں کہا مودی جی، میں آپ سے صرف ایک بات کہنا چاہتا ہوں: آپ کی حکومت کے 200 افسران ہمارے رابطے میں ہیں۔یہ لڑائی مودی اور راہل گاندھی کے درمیان نہیں ہے۔ یہ ملک کے نوجوانوں کے مستقبل اور آئین کے تحفظ کے لیے جاری جدوجہد ہے۔جب تک انتخابی نظام کی صفائی اور اصلاح نہیں ہو جاتی
ہماری جدوجہد جاری رہے گی جب تک ان پانچ افراد کو قانونی کارروائی اور عدالتی تحقیقات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ہم انہیں چھوڑنے والے نہیں ہیں۔‘



