نیشنل

’’چیف الیکشن کمشنر کے استعفے تک نہیں رکیں گے‘‘ ۔ کانگریس کا کل ملک بھر میں احتجاج، راہل اور پرینکا پھر سڑکوں پر

نئی دہلی: کانگریس نے کہا ہے کہ جب تک چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو ان کے عہدے سے نہیں ہٹایا جاتااس وقت تک وہ اپنا احتجاج جاری رکھے گی۔ کانگریس نے اپنی تمام ریاستی ضلعی اور بلاک سطح کی کانگریس کمیٹیوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ 8 اکتوبر کو ریاست، ضلع، بلاک اور منڈل کی سطح پر بڑے پیمانے پر احتجاج کریں۔

 

گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کو لے کر چہارشنبہ کے روز بھی جنتر منتر اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں نے زبردست احتجاج کیا۔لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی، کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا، کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے سمیت پارٹی کے کئی ارکانِ پارلیمنٹ بدھ کو سڑکوں پر اتر آئے۔

 

منگل کے روز بھی راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی نے دیگر اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ الیکشن کمیشن تک مارچ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن دہلی پولیس نے انہیں راستے میں روک دیا تھا۔اس کے بعد راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی نے کئی گھنٹوں تک آکاشوانی کے دفتر میں دھرنا دیا۔ دیر شام پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا تھا، تاہم بعد میں رہا کر دیا گیا۔چہارشنبہ کو ایک بار پھر راہل اور پرینکا نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کیا۔

 

راہل، پرینکا اور ملکارجن کھڑگے نے جن پتھ سے جنتر منتر کی طرف جانے کی کوشش کی۔ اس دوران کانگریس کارکنوں اور دہلی پولیس کے اہلکاروں کے درمیان کافی دیر تک آمنے سامنے کی صورتحال رہی۔اس موقع پر راہل گاندھی نے کہا کہ اپوزیشن کے تقریباً 300 ارکانِ پارلیمنٹ الیکشن کمشنروں سے ملاقات کرنا چاہتے تھے، لیکن انہیں ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔راہل گاندھی نے کہا کہ گیانیش کمار ملک کے جائز چیف الیکشن کمشنر نہیں ہیں۔

 

انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امیت شاہ، آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت اور گیانیش کمار نے جمہوریت کو ختم کیا ہے۔لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ان تمام لوگوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور گیانیش کمار کو استعفیٰ دینا پڑے گا۔پولیس نے کافی کوشش کے بعد راہل گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا اور کچھ دیگر اپوزیشن رہنماؤں کو حراست میں لے لیا۔

 

سکیورٹی فورسز کی موجودگی میں کافی دیر تک نعرے بازی ہوتی رہی۔پولیس کی جانب سے جنتر منتر جانے سے روکے جانے پر پرینکا گاندھی واڈرا نے احتجاج کیا اور وہ سڑک پر لیٹ گئیں۔راہل گاندھی کو بارہ کھمبا پولیس اسٹیشن لے جایا گیا، جبکہ پرینکا گاندھی کو دہلی کے ہی چھترسال اسٹیڈیم لے جایا گیا۔ بعد میں دونوں رہنماؤں کو رہا کر دیا گیا۔

 

ملکارجن کھرگے نے اپوزیشن ارکان کے لیے لنچ کا اہتمام کیا۔‌اس سے قبل اپوزیشن جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ کو کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی جانب سے لنچ کے لیے جن پتھ روڈ پر واقع ساگر رتنا ریسٹورنٹ میں مدعو کیا گیا تھا۔ وہاں انہوں نے اپوزیشن ارکان کے ساتھ آئندہ کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا۔

 

اس کے بعد تمام ارکانِ پارلیمنٹ بسوں میں سوار ہوکر جنتر منتر پر احتجاج کے لیے روانہ ہوئے، لیکن پولیس نے انہیں اشوک روڈ پر واقع شنگری لا ہوٹل کے سامنے روک دیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button