نیشنل

کرناٹک: 198 مسلم ووٹروں کے نام حذف کرنے کی مبینہ کوشش، بی جے پی لیڈر سمیت کئی افراد کے خلاف ایف آئی آر

بنگلورو: کرناٹک کے بیلگاوی ضلع میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (SIR) کے دوران ’فارم-7‘ کے ذریعے 198 مسلم ووٹروں کے نام حذف کرنے کی مبینہ کوشش کے معاملے میں بی جے پی لیڈر روی پاٹل سمیت متعدد افراد کے خلاف پولیس نے ایف آئی آر درج کی ہے۔ یہ کارروائی بوتھ لیول ایجنٹ میراساحب سنادی کی شکایت پر کی گئی۔

 

شکایت کے مطابق 22 ستمبر کو روی پاٹل اور دیگر افراد نے بیلگاوی نارتھ اسمبلی حلقے کے وارڈ نمبر 12 میں بوتھ لیول ایجنٹ سے رابطہ کیا اور 198 ووٹروں کے نام حذف کرنے کے لیے فارم-7 درخواستیں پیش کیں۔ شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ ان درخواستوں کے ساتھ مبینہ طور پر جعلی دستاویزات بھی جمع کرائی گئیں اور انہیں الیکشن رجسٹریشن افسر (ERO) کی جانب سے جاری کردہ اصل دستاویزات ظاہر کیا گیا۔

 

شکایت کنندہ کے مطابق ملزمان نے بوتھ لیول افسر پر درخواستوں کو قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالا اور ایک شخص سے فون پر بات کروا کر اسے ERO ظاہر کیا گیا۔ بعد میں ان درخواستوں پر دستخط بھی حاصل کیے گئے۔ شکایت کنندہ کو اس وقت حیرت ہوئی جب اسے معلوم ہوا کہ 198 ناموں میں اس کے ساتھ اس کے خاندان کے افراد کے نام بھی شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔

 

پولیس نے بھارتیہ نیائے سنہتا کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے، جن میں دھوکہ دہی، جعل سازی، مجرمانہ سازش اور فساد پر اکسانے سے متعلق دفعات شامل ہیں۔

 

بیلگاوی میں اس معاملے پر سیاسی تنازع بھی پیدا ہوا ہے۔ اس سے قبل سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے درمیان فارم-7 درخواستوں کے معاملے پر کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔ بی جے پی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ مشتبہ ووٹر اندراجات پر اعتراض کرنا سیاسی جماعتوں کا حق ہے اور حتمی فیصلہ انتخابی حکام کی جانچ کے بعد ہونا چاہیے۔

 

اسی دوران کرناٹک کے بیدر اور میسور میں بھی SIR کے دوران فارم-7 کے ذریعے ووٹروں کے نام مبینہ طور پر حذف کرنے کی کوششوں سے متعلق ایف آئی آر درج ہونے کی اطلاعات ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button