اسپشل اسٹوری

مرکزی چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانا اتنا آسان نہیں – جانئے آئین میں کیا ہے طریقہ؟

حیدراباد – 27ستمبر ( اسپیشل اسٹوری) مرکزی چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ کے مطالبے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ تاہم چیف الیکشن کمشنر کو عہدے سے ہٹانا عام پارلیمانی قرارداد کے ذریعے ممکن نہیں ہے۔ ہندوستانی آئین نے الیکشن کمیشن کو آزادانہ طور پر کام کرنے کے لیے کئی تحفظات فراہم کئے ہیں۔ حکومت براہِ راست چیف الیکشن کمشنر کو عہدے سے نہیں ہٹا سکتی۔

 

آئین کی دفعہ 324(5) کے تحت چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانے کے لیے وہی طریقہ اختیار کرنا پڑتا ہے جو سپریم کورٹ کے جج کو ہٹانے کے لیے آئین کی دفعہ 124(4) میں مقرر کیا گیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنرز قانون 2023 کی دفعہ 11(2) میں بھی یہی بات واضح کی گئی ہے۔ یعنی مرکزی حکومت یا برسرِ اقتدار جماعت اپنی مرضی سے چیف الیکشن کمشنر کو عہدے سے برطرف نہیں کرسکتی۔

 

چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانے کی کارروائی شروع کرنے کے لیے لوک سبھا کے کم از کم 100 یا راجیہ سبھا کے کم از کم 50 ارکان کو الزامات کی حمایت میں دستخط کرکے برطرفی کی قرارداد کا نوٹس دینا ہوگا۔ لوک سبھا اسپیکر یا راجیہ سبھا کے چیئرمین کی جانب سے نوٹس قبول کئے جانے کے بعد تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ اس کمیٹی میں چیف جسٹس ہند یا سپریم کورٹ کے ایک جج، کسی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور ایک ممتاز قانونی ماہر شامل ہوں گے۔

 

کمیٹی متعلقہ الزامات کی مکمل تحقیقات کرکے اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ اگر کمیٹی الزامات ثابت ہونے کی تصدیق کرتی ہے تو کارروائی آگے بڑھے گی۔ اس کے بعد دونوں ایوانوں میں قرارداد کی منظوری کے لیے خصوصی اکثریت درکار ہوگی۔ اس میں ایوان کے کل ارکان کی اکثریت کے ساتھ ساتھ اجلاس میں موجود اور ووٹ دینے والے ارکان میں کم از کم دو تہائی ارکان کی حمایت ضروری ہوگی۔ اس کے بعد صدرِ جمہوریہ چیف الیکشن کمشنر کو عہدے سے ہٹانے کا حکم جاری کریں گے۔

 

ماضی میں کیا ہوا؟

آزاد ہندوستان کی تاریخ میں اب تک کسی چیف الیکشن کمشنر کے خلاف مواخذے کی کارروائی مکمل نہیں ہوئی ہے۔ تاہم ماضی میں بھی اسی طرح عہدے سے ہٹانے کے مطالبات اور کوششیں سامنے آچکی ہیں۔

 

1992 میں اس وقت کے چیف الیکشن کمشنر ٹی این سیشن کے خلاف بائیں بازو کی جماعتوں نے برطرفی کی کارروائی شروع کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ 2006 میں این ڈی اے نے اس وقت کے الیکشن کمشنر نوین چاولہ کو ہٹانے کے لیے صدرِ جمہوریہ سے درخواست کی تھی۔ 2009 میں چیف الیکشن کمشنر این گوپال سوامی نے بھی نوین چاولہ کو ہٹانے کی سفارش کی تھی، تاہم اس وقت کی متحدہ ترقی پسند اتحاد حکومت نے اس سفارش کو قبول نہیں کیا تھا۔

 

ارکان کی تعداد اہم

چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانے کے لیے صرف سیاسی الزامات یا عام اکثریت کافی نہیں ہے۔ پارلیمنٹ میں انتہائی سخت خصوصی اکثریت درکار ہوتی ہے۔ اس لیے اگر برطرفی کی قرارداد پیش بھی کی جاتی ہے تو اسے منظور کرانے کے لیے دونوں ایوانوں میں مطلوبہ تعداد میں ارکان کی حمایت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

 

یہ سخت طریقہ کیوں ہے؟

ان دفعات کا بنیادی مقصد الیکشن کمیشن کی آزادی کو محفوظ رکھنا ہے۔ ساتھ ہی اگر چیف الیکشن کمشنر پر سنگین الزامات عائد ہوں تو آئین پارلیمانی طریقہ کار کے ذریعے ان کی تحقیقات کا راستہ بھی فراہم کرتا ہے۔ اس لیے برطرفی کا نوٹس دینا فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کا عمل نہیں ہے۔ پہلے تحقیقات ہوتی ہیں اور اس کے بعد دونوں ایوانوں میں سخت ووٹنگ کے مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے۔

 

موجودہ سیاسی صورتحال میں دونوں ایوانوں کی تعداد بھی اہم ہوجاتی ہے۔ لوک سبھا میں کل 543 نشستیں ہیں اور قرارداد کی منظوری کے لیے ارکان کی کل تعداد کی اکثریت کے ساتھ ووٹ دینے والے ارکان میں دو تہائی حمایت کا آئینی معیار بھی پورا کرنا ہوگا۔

 

راجیہ سبھا میں بھی اسی نوعیت کی خصوصی اکثریت درکار ہوگی۔ اس لیے اصل سوال صرف یہ نہیں کہ برطرفی کا نوٹس دیا جائے گا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا دونوں ایوانوں میں آئین کے مطابق مطلوبہ خصوصی اکثریت حاصل ہوسکے گی۔ موجودہ حالات میں یہ ایک اہم پارلیمانی مرحلہ ہوگا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button