جو پاسباں تھے وہی کٹہرے میں آگئے

تحریر: سید سرفراز احمد
جمہوری ملک کے آئینی اداروں کی منفرد خصوصیت یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنے فرائض آئین اور قانون کے مطابق غیر جانبدارانہ طور پر انجام دیں۔ اور عوامی اعتماد برقرار رکھیں۔ معاملہ اگر اس کے برعکس ہوتو وہ دن دور نہیں جس دن ان کا خفیہ چہرہ منظر عام پر آجاۓ۔ اس وقت اس ملک میں وہ سب کچھ دیکھنے کو مل رہا ہے جو پہلے کبھی آزاد بھارت میں دیکھنے کو نہیں ملا۔ آئینی ادارے دراصل جمہوریت کی طاقت سمجھے جاتے ہیں۔ لیکن جب آئینی ادارے ہی کسی کے ماتحت آجاتے ہیں تو بھلا جمہوریت کھوکھلی بن کر رہ جاتی ہے۔ اور آئینی ادارے سوالات کی زد میں آجاتے ہیں۔
بھارت کے انتخابی نظام پر اور ایس آئی آر کے طریقہ کار کے آغاز کے ساتھ ہی سوالات نے گھیرا بندی کرنا شروع کردیا تھا۔ یہی سوالات نے 24 ستمبر 2026 کو ایک نیا رخ اختیار کرلیتے ہیں۔ ایک طرف دی انڈین ایکسپریس کی تحقیقاتی رپورٹ نے الیکشن کمیشن کے اندرونی اختلافات کے انکشافات کو منظر عام پر لایا، دوسری طرف کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دے دیا، اور اسی روز قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے پریس کانفرنس کرکے ’’ووٹ چوری‘‘ کے الزام کو مزید سیاسی اور آئینی سوال سے جوڑ دیا۔ یوں ایک ہی دن میں صحافتی انکشاف، احتجاجی سیاست اور اپوزیشن کا سیاسی بیانیہ ایک دوسرے سے موتیوں کی طرح مربوط ہوگئے ہیں۔
اس پورے معاملے کی بنیاد انڈین ایکسپریس کی وہ رپورٹ ہے جس کے مطابق الیکشن کمیشن کے دو ارکان، سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی، نے دس ماہ کے دوران کم از کم 14 مواقع پر مختلف فیصلوں اور اقدامات پر اعتراضات اٹھائے۔ رپورٹ میں ان اعتراضات کا تعلق نئے ووٹروں کے لیے فارم 6 میں تبدیلی، ایس آئی آر کے دوران ووٹروں کے نام حذف کرنے اور بحال کرنے، فیصلوں کے بارے میں کمشنروں کو مکمل معلومات نہ ہونے اور ووٹر ڈیٹا بیس کی مرکزیت و تحویل جیسے معاملات سے بتایا گیا ہے۔
یہ انکشاف اس لیے اہم ہے کہ الیکشن کمیشن ایک کثیر رکنی آئینی ادارہ ہے۔ اگر واقعی دو کمشنروں نے بار بار کسی عمل یا فیصلے پر اعتراضات تحریری طور پر درج کیے، تو یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اختلافات کی نوعیت کیا تھی؟ ان اعتراضات پر کیا غور ہوا؟ کون سے فیصلے کس طریقۂ کار کے تحت کیئے گئے؟ اور عوام کے سامنے ان اختلافات کی تفصیلات کیوں نہیں آئیں؟
الیکشن کمیشن نے دوسری طرف یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایک کثیر رکنی ادارے میں مختلف آرا اور مشاہدات معمول کی مشاورتی کارروائی کا حصہ ہیں اور ایس آئی آر سے متعلق فیصلوں کو تینوں کمشنروں کی منظوری حاصل تھی۔ اس لیے اصل تنازع اب صرف یہ نہیں کہ اختلاف ہوا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اختلافات کی نوعیت کیا تھی۔ اعتراضات کے باوجود حتمی فیصلے کیسے ہوئے؟ اور کیا تمام متعلقہ قانونی و انتظامی طریقہ کار پر پوری طرح عمل کیا گیا؟
انڈین ایکسپریس کی ریورٹ کو پیش کرنے والی خاتون صحافی خود بتارہی ہیں کہ یہ ان کی طویل انتھک محنت کا نتیجہ ہے۔ اور اس رپورٹ پر الیکشن کمیشن کا صرف دعویٰ کرنا کیسے اس رپورٹ کو غلط ثابت کرسکتا ہے؟ اگر واقعی الیکشن کمیشن شفاف طریقے سے اور اکثریتی آراء کی بنیاد پر فیصلے کرتا رہا ہو تو الیکشن کمیشن کو فوری تین رکنی کمیشنرس کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوۓ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کو رد کرنا چاہیئے۔ کیوں کہ صرف دعویٰ کرنے سے آپ کی شفافیت واضح نہیں ہوتی۔ اگر آپ تین الیکشن کمیشنرس کے ساتھ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کو مکمل شواہد کے ساتھ رد نہیں کرتے ہیں تو یہ بات خود واضح ہوجاتی ہے کہ الیکشن کمیشن غیر شفاف طریقے سے کام کررہا ہے۔
اسی پس منظر میں کاکروچ جنتا پارٹی کی آج کی پریس کانفرنس خاص اہمیت رکھتی ہے۔ سی جے پی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کے لیے 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا ہے۔ اور مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں ملک گیر احتجاج کی دھمکی دی ہے۔ پارٹی نے جنتر منتر 2.0 جیسے احتجاج کا بھی ذکر کیا ہے۔ سی جے پی کے تین بنیادی مطالبات بھی قابلِ غور ہیں۔ پہلا گیانیش کمار کا استعفیٰ اور ان کے خلاف کارروائی کے ساتھ یہ وضاحت کہ مبینہ طور پر ووٹروں کے حقوق سے متعلق اقدامات کس کے کہنے پر کیے گئے۔ دوسرا تمام زیرِ التوا انتخابات اور ایس آئی آر کو روکنا، انتخابی فہرستوں کو جنوری 2025 کی حالت پر بحال کرنا۔ اور ایک آزاد تحقیقاتی کمیشن قائم کرنا، جبکہ ایس آئی آر سے متعلق ریکارڈ محفوظ کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ تیسرا 2023 کے الیکشن کمیشنر کے تقرر کے قانون کو ختم کرکے ایک نیا قانون بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔ جس میں سول سوسائٹی کی فعال شمولیت ہو اور جس سے انتخابی ادارے پر عوامی اعتماد بحال ہو۔
یہاں سی جے پی کے مطالبات اور انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے درمیان ایک واضح ربط دکھائی دیتا ہے۔ رپورٹ نے سوال اٹھایا کہ کمیشن کے اندر فیصلوں اور طریقۂ کار پر اعتراضات موجود تھے۔ جبکہ سی جے پی کا مؤقف ہے کہ اگر ایسے اعتراضات حقیقی تھے تو صرف داخلی وضاحت کافی نہیں۔ بلکہ آزادانہ تحقیقات ہونی چاہیئے۔ سی جے پی نے اس کے لیئے سپریم کورٹ کو بھی مداخلت کرنے کی اپیل کی ہے۔ اس اعتبار سے سی جے پی کا سب سے بنیادی مطالبہ استعفیٰ سے زیادہ تحقیقات اور ریکارڈ کی شفافیت کا مطالبہ بن جاتا ہے۔ کیونکہ اگر تحقیقات میں الزامات بے بنیاد ثابت ہوں تو ادارے کی ساکھ بحال ہوسکتی ہے۔ اور اگر بے ضابطگی ثابت ہو تو ذمہ داری طے کرنے کی بنیاد فراہم ہوسکتی ہے۔
ہمارا ماننا ہے کہ گیانیش کمار کے استعفیٰ سے ذیادہ اہم آزادانہ تحقیقات ہونی چاہیئے۔ کیوں کہ اگر مطالبہ استعفیٰ کے ارد گرد ہی گردش کرتا ہے تو فرد کے بدلنے سے نظام نہیں بدل جاتا۔ بلکہ اس بگڑتے نظام کی جڑوں تک پہنچا جانا چاہیئے۔ جہاں سے عوامی حقوق کو سلب کرنے کے منصوبے بناۓ گئے ہیں۔ تب ہی اس انتخابی نظام کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔
اسی دوران راہل گاندھی کی پریس کانفرنس نے معاملے کو ایک بڑے آئینی سوال میں تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے ووٹ چوری، قانون چوری اور ادارہ چوری کا بیانیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر ووٹ کا حق ہی متاثر ہوجائے تو پارلیمنٹ سے بننے والے قوانین اور آئینی اداروں کی بنیاد بھی متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ بھی کیا۔
راہل گاندھی نے مزید دعویٰ کیا کہ 2024 کے عام انتخابات اور دیگر اسمبلی انتخابات میں دھاندلی ہوئی اور ان کے مطابق الیکشن کمیشن کے اندر سے اٹھنے والے سوالات ان کے ووٹ چوری کے الزام کو تقویت دیتے ہیں۔ اس الزام کو سمجھنے کے لیئے راہل گاندھی کی سابقہ پریس کانفرنسوں میں انھوں نے کئی ایک شواہد بھی بتاۓ ہیں۔ پھر سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ جب کسی فیصلے پر دو الیکشن کمیشنر اتفاق بھی نہیں کرتے ہیں تو فیصلہ کن بنیادوں پر کیا جاتا رہا؟
گیانیش کمار کو اس پورے تنازع کا مرکزی کردار کیوں بنایا جا رہا ہے؟ اس کی وجہ ان کا چیف الیکشن کمشنر ہونا ہے۔ اس کی وجہ موجودہ سرکار کا وہ لایا گیا قانون ہیں جس میں اپنی اکثریتی آراء پر گیانیش کمار کو چیف الیکشن کمیشنر منتخب کیا گیا۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے بعد اپوزیشن نے عمومی طور پر پورے الیکشن کمیشن پر اعتراض کرنے کے بجائے خاص طور پر چیف الیکشن کمشنر کے کردار پر سوالات مرکوز کیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دو دیگر کمشنروں کے اعتراضات نے اپوزیشن کو یہ سیاسی دلیل فراہم کی کہ معاملہ محض اپوزیشن بمقابلہ الیکشن کمیشن نہیں بلکہ خود کمیشن کے اندرونی اعتراضات و طریقۂ کار سے متعلق بھی ہے۔
کیا گیانیش کمار نے ووٹ چوری کی؟ پہلی بات یہ نتیجہ راہل گاندھی کے لگاۓ گئے الزامات ، انڈین ایکسپریس کی رپورٹ میں الیکشن کمیشن کے اندرونی انکشافات اور زمینی سطح پر الیکشن کمیشن کی ہٹ دھرمی یہ ثابت کرتی ہے کہ ووٹ چوری ہوئی ہے۔ لیکن کون اور کس نے کیسے انجام دی یہ تو تحقیقات ہی اس کا خلاصہ کرسکتی ہے۔ جیسے کہ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ بتاتی ہے کہ فارم 6 یعنی جو نوجوان اٹھارہ سال کی عمر کو پہنچتے ہیں وہ اپنے نئے شناختی کارڈ کے لیئے فارم بھرتے ہیں۔ لیکن الیکشن کمیشن نے چلتے ایس آئی آر کے دوران اس میں بڑی تبدیلی کرتے ہوۓ نئے فارم بھرنے والوں کو بھی 2002 کے ایس آئی آر سے میاپنگ کرنے کو لازمی قرار دیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس پر دونوں الیکشن کمیشنر کو اعتراض تھا۔ لیکن پھر بھی فیصلہ کرلیا گیا۔
تو کیا نئے ووٹرس جین زی کو جو اس ملک کا اصل سرمایہ ہے ان کو اپنے حق راۓ دہی سے روکنے کی کوشش کی جارہی ہے؟ یا پھر جین زی کو باشعور دیکھ کر گیانیش کمار نے کسی کے دباؤ پر یہ فیصلہ لیا ہے؟ دوسرا اس سے بھی زیادہ سنگین مسئلہ یہ ہے کہ آخر ووٹر لسٹ پر اختیار کس کا ہے؟ مقامی الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر یعنی ERO کو ووٹر لسٹ تیار کرنے اور دعووں و اعتراضات پر فیصلہ کرنے کی ذمہ داری دیتا ہے۔ لیکن دونوں کمشنروں نے تشویش ظاہر کی کہ اختیارات بتدریج دہلی میں واقع آئی ٹی شعبے کے ہاتھوں میں مرکوز ہوتے جا رہے ہیں۔
اس کی مثال انڈین ایکسپریس نے گوا کے 97 راۓ دہندوں کی پیش کی ہے۔ جو اصل میں حقیقی ووٹرس ہیں لیکن ان کے نام حذف کردیئے جاتے ہیں۔ بعد میں ان کے نام شامل کرنے کے لیئے دہلی کے چکر لگانے پڑ رہے ہیں۔ حالاں کہ خود ای آر او نے دہلی کو سات مرتبہ ای امیل کرنے کا دعویٰ بھی پیش کیا۔ گوا کے چیف الیکشن آفیسر اخبار کو بتاتے ہوۓ کہتے ہیں کہ ریاست نے نام شامل کرنے سے متعلق معاملہ دہلی کے سامنے رکھا تھا۔ لیکن انہیں شامل نہ کرنے کا فیصلہ وہیں سے کیا گیا۔ تو کیا اسے ووٹ چوری نہیں کہا جاۓ گا ؟
بنگال کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے جتنے ووٹ بنگال اسمبلی انتخابات میں حذف کر دیئے گئے تھے۔ بعد میں اس میں سے تقریباً ووٹرس کو سپریم کورٹ کی ہدایت پر ٹریبونل کی جانچ کے بعد شامل کیا جارہا ہے۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا وہی ووٹرس جنھیں آج شامل کیا جارہا ہے اگر بنگال الیکشن کے وقت انھیں ووٹ ڈالنے کا حق باقی رہتا تو بنگال میں آج سرکار میں کون ہوتا؟ تب ہی راہل گاندھی کہتے ہیں کہ بھاجپا کے مخالف اگر کہیں لہر بھی چلتی ہے تب بھی وہ الیکشن جیت جاتی ہے۔ سی جے پی کے قائدین نے بھی یہی الزام لگایا کہ زمینی سطح پر عوام بی جے پی کو ووٹ نہیں ڈال رہی ہے۔ پھر بھی بار بار بی جے پی ہی کیوں جیت جاتی ہے؟
تیسری اہم بات اپوزیشن ہو یا انڈین ایکسپریس کی رپوٹ یا سی جے پی یہ اگر الیکشن کمیشن کے غیر شفاف طریقے پر سوالات اٹھا رہے ہوں تو اس کا جواب الیکشن کمیشن یا خود چیف الیکشن کمیشنر کو سامنے آکر دینا چاہیئے۔ لیکن برسر اقتدار بی جے پی کیوں الیکشن کمیشن کے دفاع میں آگے آجاتی ہے؟ بی جے پی کا الیکشن کمیشن کے دفاع میں آجانا اور الیکشن کمیشن و چیف الیکشن کمیشنر پر الزامات عائد ہونا عوامی گمان کو تقویت پہنچانے کا وہ کام کر رہے ہیں جو الزام راہل گاندھی اور سی جے پی لگاتی ہے کہ چیف الیکشن کمیشنر گیانیش کمار بی جے پی کے لیئے کام کرتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر گیانیش کمار استعفیٰ نہیں دیتے تو کیا سی جے پی کا احتجاج رنگ لائے گا؟ اس کا حتمی جواب تو احتجاج خود بتاۓ گا۔ دیکھنا یہ دل چسپ ہوگا کہ کیا دوسری اپوزیشن جماعتیں اس کے ساتھ کھڑی ہوتی ہیں؟ کیا سول سوسائٹی اور شہری تنظیمیں اس مسئلے کو اٹھاتی ہیں؟ کیا سپریم کورٹ یا پارلیمنٹ میں معاملہ آگے بڑھتا ہے؟ اور سب سے بڑھ کر کیا احتجاج محض استعفیٰ کے مطالبے تک محدود رہتا ہے یا شفاف تحقیقات، ریکارڈ کی دستیابی اور انتخابی اصلاحات جیسے ٹھوس مطالبات کے گرد وسیع عوامی حمایت پیدا کرتا ہے۔
یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کا آئینی راستہ محض سڑک کے احتجاج سے مکمل نہیں ہوتا۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کی برطرفی کا پارلیمانی طریقہ کار آئینی عدالت کے جج کے مواخذے سے مشابہ ایک طویل عمل ہے اور اس میں پارلیمنٹ میں سیاسی عددی طاقت بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ لہذا سی جے پی کا 48 گھنٹے کا الٹی میٹم سیاسی دباؤ پیدا کرسکتا ہے۔ لیکن یہ اپنے آپ میں استعفیٰ یا برطرفی کا آئینی طریقہ نہیں ہے۔ اگر گیانیش کمار استعفیٰ نہیں دیتے تو احتجاج کا اصل امتحان اس کے بعد شروع ہوگا۔ اگر احتجاج وسیع، پرامن اور مسلسل رہتا ہے، دیگر سیاسی و سماجی قوتیں شفاف تحقیقات کے مطالبے پر متحد ہوتی ہیں اور معاملہ عدالتی یا پارلیمانی سطح پر آگے بڑھتا ہے تو دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر احتجاج محدود رہتا ہے اور مطالبات کے لیے قانونی و ادارہ جاتی راستہ مضبوط نہیں کیا جاتا تو 48 گھنٹے کی ڈیڈ لائن محض سیاسی احتجاجی اعلان بھی بن کر رہ سکتی ہے۔
اس پورے واقعے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ معاملہ اب صرف گیانیش کمار کے استعفیٰ کا نہیں رہا۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہندوستان جیسے بڑے جمہوری ملک میں ووٹر لسٹ کی تیاری، ناموں کے حذف و اضافہ، ایس آئی آر، انتخابی ڈیٹا کی حفاظت اور الیکشن کمیشن کے اندر فیصلہ سازی کا عمل عوام کے سامنے کس حد تک شفاف ہے۔ اگر کمیشن کے دو ارکان واقعی بار بار اعتراضات درج کرتے رہے ہیں تو ان اعتراضات کا مکمل ریکارڈ عوامی جانچ کے لیے سامنے آنا چاہیے۔ اگر اعتراضات غلط فہمی یا معمول کے اختلافات تھے تو ان کی وضاحت بھی اسی شفافیت سے ہونی چاہیے۔ جمہوریت میں الیکشن کمیشن کی سب سے بڑی طاقت صرف آئینی اختیار نہیں بلکہ عوام کا اعتماد ہے۔ ووٹ چوری کا الزام اگر بے بنیاد ہے تو اسے شواہد کے ذریعے غلط ثابت کیا جانا چاہیے۔ اور اگر انتخابی فہرستوں یا طریقۂ کار میں واقعی سنگین بے ضابطگیاں ہوئی ہیں تو اس کے ملزمین کو سخت سزا بھی دی جانی چاہیئے۔



