اردو میں بھی ایس آئی آر کے فارمس کی فراہمی پر غور کیا جائے – تلنگانہ ہائی کورٹ کی الیکشن کمیشن کو ہدایت

حیدراباد – تلنگانہ ریاست میں الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری خصوصی جامع ووٹر فہرست نظرثانی (SIR-2026) کے سلسلے میں ووٹر رجسٹریشن اور تصحیح کے فارم اردو زبان میں بھی فراہم کرنے کے معاملے پر غور کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے ہائی کورٹ نے اہم ریمارکس دیئے۔ عدالت نے سوال کیا کہ جن علاقوں میں اردو بولنے والی آبادی 20 فیصد سے زیادہ ہے، وہاں اردو زبان میں ووٹر رجسٹریشن اور تصحیح کے فارم کیوں فراہم نہ کئے جائیں؟
ہائی کورٹ نے حیدرآباد کے علاوہ ریاست بھر میں ووٹر فارم صرف تلگو زبان میں شائع کئے جانے کو چیلنج کرنے والی درخواست پر عبوری احکامات جاری کرنے سے انکار کردیا۔ تاہم عدالت نے مغربی بنگال، راجستھان، بہار اور دیگر ریاستوں میں ووٹر فارم کن کن زبانوں میں شائع کئے جا رہے ہیں، اس کی تفصیلات پیش کرنے اور درخواست گزار کے اعتراضات پر جواب داخل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے سماعت ایک ہفتے کے لئے ملتوی کردی۔
الیکشن کمیشن 25 جون سے 24 جولائی تک ووٹروں کے اندراج کا عمل انجام دینے والا ہے۔ اس دوران SIR فارم صرف تلگو زبان میں شائع اور تقسیم کئے جانے کے خلاف کریم نگر کے ایم اے مجیب نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ اس درخواست پر جسٹس بی وجئے سین ریڈی نے پیر کے روز سماعت کی۔
اقلیتی ووٹ حذف کرنے کی سازش کا الزام
درخواست گزار کی جانب سے سینئر وکیل رگھوناتھ نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ووٹر فارم صرف انگریزی اور تلگو زبانوں میں شائع کرنا دراصل اقلیتی ووٹروں کو ووٹر فہرست سے خارج کرنے کی ایک سازش ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اپنی مقامی زبان میں فارم حاصل کرنا ہر شہری کا آئینی حق ہے۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ زمینی سطح پر خدمات انجام دینے والے بوتھ لیول افسران (BLOs) کو ہر علاقے کی مقامی زبانوں کا علم نہیں ہوتا، جبکہ حیدرآباد سمیت ریاست کے کئی علاقوں میں اردو جاننے والوں کی بڑی تعداد موجود ہے، اس لئے ان کے لئے اردو فارم فراہم کرنا ضروری ہے۔
درخواست گزار نے مزید استدعا کی کہ اردو زبان میں فارم فراہم کرنے کے لئے دی گئی نمائندگیوں کو نظرانداز کرنا غیر قانونی قرار دیا جائے۔




