جنرل نیوز

تزکیۂ نفس کے بغیر نہ کردار سنورتا ہے، نہ معاشرہ بنتا ہے،مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا خطاب 

تزکیۂ نفس کے بغیر نہ کردار سنورتا ہے، نہ معاشرہ بنتا ہے،مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا خطاب

حیدرآباد، 29 جون (پریس ریلیز):

تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز، نامپلی، حیدرآباد کے خطیب و امام، مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے "روح اور نفس کی حقیقت” کے عنوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ روح کا مسئلہ انسانی تاریخ کے قدیم ترین اور نہایت اہم موضوعات میں سے ایک ہے، لیکن اس کی حقیقی ماہیت اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ قرآن مجید نے واضح طور پر ارشاد فرمایا: "وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا”، یعنی روح میرے رب کے امر سے ہے اور انسان کو اس بارے میں بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔ اس لیے عقلِ انسانی روح کی حقیقت تک مکمل رسائی حاصل نہیں کر سکتی۔

انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا فرمایا، پھر اپنی قدرت کے حکم سے ان میں روح پھونکی، جس کے بعد انسان شعور، ادراک، ارادہ اور ذمہ داری کا حامل بنا۔ یہی روح جب انسانی وجود سے متعلق ہوتی ہے تو انسان امتحانِ حیات میں داخل ہوتا ہے، جہاں اس کا نفس خیر و شر کے درمیان کشمکش کا مرکز بنتا ہے۔

مولانا نے فرمایا کہ قرآن مجید نے نفس کی تین بنیادی کیفیات بیان کی ہیں: نفسِ امّارہ جو انسان کو برائی کی طرف مائل کرتا ہے، نفسِ لوّامہ جو گناہ پر ملامت کرتا ہے اور انسان کو توبہ کی طرف متوجہ کرتا ہے، اور نفسِ مطمئنہ جو اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی ہو کر سکون اور اطمینان حاصل کر لیتا ہے۔ ایک مومن کی پوری زندگی کا مقصد نفسِ امارہ سے نفسِ مطمئنہ تک کا سفر طے کرنا ہے، اور یہی تزکیۂ نفس کا حقیقی مفہوم ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوفیائے کرام نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ انسان کا سب سے بڑا دشمن اس کا بے لگام نفس ہے۔ حضرت داتا گنج بخش سید علی ہجویریؒ نے "کشف المحجوب” میں نفس کو تمام اخلاقِ رذیلہ اور برے اعمال کا سرچشمہ قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کو قربِ الٰہی کا ذریعہ بتایا ہے۔ اسی طرح حضرت ذوالنون مصریؒ کا ارشاد ہے کہ بندے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان سب سے بڑا حجاب نفس کی پیروی ہے۔

مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے کہا کہ خواہشاتِ نفس اگر شریعت کے تابع نہ رہیں تو انسان کو گمراہی، تکبر، حرص، حسد، شہوات اور دنیا پرستی کی طرف لے جاتی ہیں، جبکہ ایمان، تقویٰ اور مجاہدۂ نفس انسان کو ان برائیوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔ قرآن کریم نے اہلِ ایمان کو یہ خوشخبری سنائی ہے کہ "جس نے اپنے نفس کو خواہشات سے روک لیا، اس کا ٹھکانہ جنت ہے۔” اسی حقیقت کو رسول اکرم ﷺ نے بھی واضح فرمایا کہ حقیقی مجاہد وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنے نفس کے خلاف جہاد کرے۔

انہوں نے کہا کہ مجاہدۂ نفس صرف عبادات کی کثرت کا نام نہیں بلکہ اپنے اخلاق، کردار، زبان، نگاہ، خیالات اور اعمال کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالنے کا نام ہے۔ آنکھ، کان، زبان، دل اور دیگر اعضا کی حفاظت بھی تزکیۂ نفس کا اہم حصہ ہے۔ جب انسان اپنی خواہشات کو اللہ تعالیٰ کے احکام کا تابع بنا لیتا ہے تو اس کا دل نورِ ایمان سے منور ہو جاتا ہے، اس کے اخلاق سنور جاتے ہیں اور وہ معاشرے کے لیے خیر و برکت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

آخر میں مولانا نے کہا کہ آج کے مادہ پرستانہ دور میں روح کی معرفت، نفس کی اصلاح، خواہشات پر قابو اور مجاہدۂ نفس کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اگر انسان قرآن و سنت کی تعلیمات کو اپنا شعار بنا لے اور اپنے نفس کا احتساب کرتا رہے تو وہ نہ صرف دنیا میں سکون، عزت اور کامیابی حاصل کر سکتا ہے بلکہ آخرت کی دائمی فلاح کا بھی مستحق بن جاتا ہے۔ انہوں نے علماء، طلبہ، نوجوانوں اور تمام مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ علم کے ساتھ عمل، معرفت کے ساتھ تزکیہ اور عبادت کے ساتھ حسنِ اخلاق کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، کیونکہ یہی بندگی کا حسن اور اللہ تعالیٰ کی قربت حاصل کرنے کا راستہ ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button