عاشوراء : حقائق کے گرد افسانوں کا ہجوم( خطیبوں کی روایتں محدثین کی عدالت میں )

ازقلم: *مفتی محمد عبدالحمید شاکر قاسمی*
جامعہ عربیہ توپران ضلع میدک تلنگانہ

اسلامی تقویم کا آغاز جس مہینے سے ہوتا ہے، وہ محرم الحرام ہے؛ ایک ایسا مہینہ جو اپنی دینی اور تاریخی حیثیت کے اعتبار سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ محض سالِ نو کا آغاز نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کو اپنے ماضی کا احتساب کرنے، حال کے اصلاح کی فکر کرنے اور مستقبل کے لیے اطاعت و بندگی کے عزمِ نو کے ساتھ آگے بڑھنے کی دعوت دیتا ہے۔ شریعتِ مطہرہ نے اس مہینے کو جن فضائل و مناقب سے سرفراز فرمایا ہے، وہ اس کی عظمت و حرمت کے روشن مظاہر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایک مسلمان محرم الحرام کا نام سنتا ہے تو اس کے ذہن میں صرف سال کے پہلے مہینے کا تصور نہیں آتا بلکہ تقدیس، عبادت، تقویٰ، استقامت اور قربِ الٰہی کی ایک پوری دنیا آباد ہو جاتی ہے۔
قرآنِ مجید نے جن چار مہینوں کو خصوصی احترام اور امتیازی حرمت عطا فرمائی ہے، محرم الحرام ان میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ ارشادِ ربانی ہے:
"إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ … مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ”
یہ آیتِ مبارکہ اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ زمانے کی تقسیم اور مہینوں کی تعیین کوئی انسانی فیصلہ نہیں بلکہ خالقِ کائنات کا مقرر کردہ نظام ہے۔ انہی بارہ مہینوں میں سے چار مہینوں کو خصوصی حرمت سے نوازا گیا، جن میں محرم الحرام بھی شامل ہے۔ مفسرینِ کرام لکھتے ہیں کہ ان مہینوں میں نیکیوں کی قدر و قیمت بڑھ جاتی ہے اور معاصی و گناہوں کی قباحت بھی زیادہ سنگین ہو جاتی ہے۔ گویا یہ مہینے بندۂ مؤمن کو مسلسل متوجہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے ظاہر و باطن کی اصلاح کی طرف متوجہ ہوں اور زندگی کے ہر شعبہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقدم رکھے۔
محرم الحرام کی فضیلت کا ایک نہایت اہم پہلو یہ بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے "شہر اللہ” یعنی "اللہ کا مہینہ” قرار دیا ہے۔ محدثین اور شارحینِ حدیث نے اس نسبت کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کسی مہینے کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا اس کی عظمت، شرافت اور خصوصی فضیلت کی دلیل ہے۔ گویا محرم الحرام دیگر مہینوں کے مقابلے میں ایک منفرد نسبت کا حامل ہے۔ اس نسبت کا تقاضا یہ ہے کہ بندۂ مؤمن اس مہینے کو عام ایام کی طرح غفلت، بے توجہی اور دنیاوی مشاغل میں ضائع نہ کرے بلکہ اسے عبادت، ذکر، تلاوتِ قرآن، استغفار اور اعمالِ صالحہ کے ذریعہ اپنے لیے ذخیرۂ آخرت بنانے کی کوشش کرے۔
احادیثِ مبارکہ میں محرم الحرام کے روزوں کی خصوصی فضیلت بھی بیان ہوئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں۔”
یہ حدیث اس بات کو نمایاں کرتی ہے کہ محرم الحرام محض تاریخی واقعات کا مہینہ نہیں بلکہ عبادت اور قربِ الٰہی کے حصول کا ایک عظیم موسمِ بہار ہے۔ افسوس کہ بہت سے مسلمان اس مہینے کو صرف چند تاریخی واقعات تک محدود سمجھتے ہیں، حالانکہ نبی اکرم ﷺ نے اس مہینے کو عبادت اور بندگی و اطاعت کے حوالے سے ایک خاص مقام عطا فرمایا ہے۔
محرم الحرام کا سب سے درخشاں اور تابندہ دن یومِ عاشوراء ہے۔ یہ وہ دن ہے جس نے تاریخِ نبوت کے کئی عظیم عنوانات کو اپنے دامن میں سمیٹا ہوا ہے۔ صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے یہود کو عاشوراء کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھا۔ دریافت فرمانے پر انہوں نے بتایا کہ یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم و استبداد سے نجات عطا فرمائی تھی اور فرعون اپنے لشکر سمیت دریائے نیل میں غرق کر دیا گیا تھا۔ اس عظیم نعمت کے شکرانے کے طور پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے روزہ رکھا، اسی لیے ہم بھی اس دن روزہ رکھتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے یہ بات سن کر فرمایا:
"نحن أحق بموسى منكم”
یعنی ہم موسیٰ علیہ السلام کے تم سے زیادہ حق دار ہیں۔
اس ارشادِ نبوی میں صرف ایک تاریخی نسبت کا اظہار نہیں بلکہ تمام انبیائے کرام علیہم السلام کے ساتھ اسلامی تعلق کا اعلان مضمر ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے خود بھی عاشوراء کا روزہ رکھا اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی اس کی ترغیب دی۔
عاشوراء کے روزے کی فضیلت کے بارے میں وارد ہونے والی احادیث اہلِ ایمان کے لیے نہایت عظیم بشارت کا درجہ رکھتی ہیں۔ صحیح مسلم کی روایت میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ عاشوراء کا روزہ گزشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔”
یہ فضیلت اپنے اندر کتنی عظیم رحمت اور کس قدر وسیع مغفرت کو سموئے ہوئے ہے، اس کا اندازہ ہر صاحبِ ایمان بخوبی کر سکتا ہے۔ ایک دن کا روزہ، ایک سال کی خطاؤں کے لیے کفارہ اور مغفرت بن جانا اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت کا روشن مظہر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سلفِ صالحین اس دن کے روزے کا غیر معمولی اہتمام فرمایا کرتے تھے اور اسے حصولِ مغفرت کا ایک عظیم ذریعہ سمجھتے تھے۔
رسول اللہ ﷺ نے اپنی حیاتِ مبارکہ کے آخری دور میں یہ ارشاد بھی فرمایا کہ اگر آئندہ سال زندہ رہا تو نویں محرم کا روزہ بھی رکھوں گا۔ اس ارشاد کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کا طرزِ عمل یہود سے ممتاز اور الگ رہے۔ اسی بنا پر فقہائے امت نے دسویں محرم کے ساتھ نویں یا گیارہویں محرم کا روزہ رکھنے کو مستحب قرار دیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام صرف عبادت کا حکم نہیں دیتا بلکہ امت محمدیہ کی مستقل شناخت اور امتیاز کو بھی ملحوظ رکھتا ہے۔
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ محرم الحرام اور یومِ عاشوراء کی جو فضیلت قرآن و حدیث سے ثابت ہے، وہ بنیادی طور پر عبادت، روزہ،اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع سے متعلق ہے۔ رسول اللہ ﷺ، صحابۂ کرامؓ، تابعینؒ اور ائمۂ امت سے یہی تعلیم منقول ہے۔ لیکن تاریخ کے مختلف ادوار میں اس دن کے گرد بہت سی ایسی روایات، حکایات اور داستانیں جمع ہو گئیں جن کی بنیاد تحقیق کے بجائے محض نقل و اشاعت پر قائم ہوگئی۔ نتیجتاً بہت سے لوگ اصل تعلیمات سے دور ہوتے گئے اور غیر ثابت باتیں عوامی مذہب کا حصہ بنتی چلی گئیں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ محرم الحرام اور یومِ عاشوراء کو جذباتی نعروں، غیر مستند حکایات اور بے اصل روایات کے بجائے قرآن و سنت کی روشنی میں سمجھا جائے۔ امت کی فلاح اسی میں ہے کہ وہ فضائلِ ثابتہ کو اختیار کرے، سنتِ نبوی ﷺ کو زندہ کرے اور دین کے نام پر رائج ہر اس بات کو تحقیق کی کسوٹی پر پرکھے جو کتاب و سنت اور فہمِ سلف سے ثابت نہیں۔ یہی علمی دیانت کا تقاضا ہے، یہی اعتدال کا راستہ ہے اور یہی محرم الحرام اور یومِ عاشوراء کا پیغام بھی ہے۔
یومِ عاشوراء ان مبارک ایام میں سے ہے جنہیں اسلام نے ایک خاص دینی اور مقام عطا فرمایا ہے۔ قرآن و سنت سے اس دن کی جو فضیلت ثابت ہے، وہ اہلِ ایمان کے لیے باعثِ سعادت اور موجبِ رحمت ہے۔ تاہم تاریخ کے مختلف ادوار میں اس مبارک دن کے ساتھ ایسی متعدد روایات اور حکایات وابستہ کر دی گئیں جنہوں نے رفتہ رفتہ عوامی ذہنوں میں ایک مستقل مذہبی حیثیت اختیار کر لی۔ منبروں، مجالس اور واعظین کی گفتگوؤں میں ان روایات کا اس قدر تکرار ہوا کہ بہت سے لوگوں نے انہیں دین کا مسلمہ حصہ سمجھ لیا، حالانکہ فنِ حدیث کے ماہرین اور ناقدینِ روایت نے ان میں سے بیشتر روایات کو ضعیف، منکر، بے اصل یا موضوع قرار دیا ہے۔
عاشوراء کے متعلق سب سے زیادہ مشہور دعویٰ یہ کیا جاتا ہے کہ اسی دن حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی۔ عوامی مجالس میں اس واقعہ کو اس انداز سے بیان کیا جاتا ہے گویا اس کی صحت پر کوئی اختلاف موجود نہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ محدثین کے نزدیک اس روایت کی کوئی ایسی مضبوط اور قابلِ اعتماد سند موجود نہیں جس کی بنیاد پر اسے قطعی تاریخی حقیقت قرار دیا جا سکے۔ بعض آثار اور روایات میں اس قسم کے مضامین ضرور ملتے ہیں، لیکن وہ سندی اعتبار سے اس درجہ کی قوت نہیں رکھتے کہ انہیں فضائلِ اعمال یا دینی عقائد کی بنیاد بنایا جا سکے۔
اسی طرح ایک نہایت مشہور روایت یہ ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی طوفان کے بعد عاشوراء ہی کے دن کوہِ جودی پر ٹھہری تھی۔ یہ روایت بھی صدیوں سے عوامی لٹریچر اور واعظانہ خطابات کا حصہ چلی آ رہی ہے۔ بعض کتبِ تاریخ میں اس کا ذکر ملتا ہے، لیکن محدثین نے واضح کیا ہے کہ اس سلسلے میں جو روایات منقول ہیں، وہ صحت کے اس معیار پر پوری نہیں اترتیں جو کسی واقعہ کو شرعی فضیلت کا درجہ دینے کے لیے ضروری ہے۔ چنانچہ کسی واقعہ کا تاریخی طور پر ممکن ہونا اور چیز ہے اور اس کا شرعی طور پر ثابت ہونا بالکل الگ مسئلہ ہے۔
اسی سلسلے کی ایک اور معروف روایت یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نمرود کی آگ سے نجات عاشوراء کے دن ملی۔ بلا شبہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعۂ نجات قرآنِ کریم سے ثابت ہے اور انبیائے کرام علیہم السلام کی سیرت کا ایک عظیم باب ہے، لیکن اس واقعہ کو محرم کی دسویں تاریخ کے ساتھ خاص کرنا جو کہ کسی صحیح اور مستند حدیث سے ثابت نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ محدثین نے اس نسبت کو قبول کرنے میں احتیاط سے کام لیا ہے اور اسے فضیلتِ عاشوراء کی دلیل قرار نہیں دیا۔
اسی طرح بعض روایات میں یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو کنویں سے نکالے جانے کا واقعہ عاشوراء کے دن پیش آیا، یا حضرت یعقوب علیہ السلام کی بینائی اسی دن واپس ہوئی۔ اگرچہ یہ تمام واقعات انبیائے کرام علیہم السلام کی مبارک زندگیوں کے اہم اور سبق آموز ابواب ہیں، لیکن ان کے بارے میں یہ دعویٰ کہ یہ سب عاشوراء ہی کے دن وقوع پذیر ہوئے، کسی صحیح اور متصل روایت سے ثابت نہیں۔ محض کسی قصے کا مشہور ہو جانا اور کسی مشہور عالم دین کا اس کو بول دینا جیسا کہ حضرت مولانا طارق جمیل صاحب دامت برکاتہم نے ان واقعات کو ذکر کیا ہے جس کو بنیاد بنا کر دیگر مقررین اور عوام نے دلیل بنایا ہے حالانکہ کسی عالم دین کا یا پھر کسی شخصیت کا کسی بات کو بول دینا یا نقل کرنااس کی صحت کی دلیل نہیں بن سکتا۔
اسی طرح عوامی حلقوں میں یہ بات بھی بکثرت بیان کی جاتی ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ سے نجات عاشوراء کے دن ملی، حضرت ایوب علیہ السلام کو اسی دن شفا عطا ہوئی، حضرت سلیمان علیہ السلام کو اسی دن بادشاہت ملی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اسی دن آسمان پر اٹھایا گیا۔ ان تمام دعووں کی حقیقت بھی تقریباً وہی ہے جو سابقہ روایات کی ہے۔ ان میں سے اکثر باتیں ایسی کتابوں کے ذریعہ مشہور ہوئیں جن میں صحیح اور ضعیف روایات کو بغیر امتیاز کے جمع کر دیا گیا تھا، چنانچہ بعد کے زمانوں میں عوام نے ہر منقول بات کو مستند سمجھ لیا۔
یہاں ایک نہایت اہم اصول کو سمجھنا ضروری ہے۔ محدثین اور فقہاء کا موقف یہ ہے کہ دین کی بنیاد صحیح اور معتبر دلائل پر قائم ہوتی ہے، نہ کہ مشہور قصوں اور عوامی حکایات پر۔ اگر کسی واقعہ کے بارے میں صحیح حدیث موجود ہو تو اسے بلا تردد قبول کیا جائے گا، لیکن اگر اس کی بنیاد کمزور، منقطع یا بے اصل روایت پر ہو تو اسے دین کا حصہ قرار دینا علمی دیانت کے خلاف ہوگا۔ یہی وہ اصول ہے جس کی بدولت امتِ مسلمہ کا علمی سرمایہ صدیوں تک محفوظ رہا اور حق و باطل میں امتیاز قائم رہا۔
افسوس کا مقام یہ ہے کہ بعض اوقات فضائلِ عاشوراء بیان کرتے ہوئے صحیح احادیث پر اکتفا کرنے کے بجائے ایسی روایات نقل کی جاتی ہیں جن کا حدیثی ذخیرے میں کوئی معتبر مقام نہیں۔ نتیجتاً عوام کی توجہ ان اعمال سے ہٹ جاتی ہے جو رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہیں، اور وہ ان قصوں اور حکایات میں الجھ جاتے ہیں جن کی کوئی مضبوط بنیاد موجود نہیں۔ حالانکہ دین کا تقاضا یہ ہے کہ فضیلت وہی سمجھی جائے جسے اللہ کے رسول ﷺ نے فضیلت قرار دیا ہو اور شرف وہی مانا جائے جسے کتاب و سنت نے شرف عطا کیا ہو۔
محرم الحرام اور یومِ عاشوراء کی عظمت اس بات کی محتاج نہیں کہ اس کے ساتھ ہر تاریخی واقعہ وابستہ کر دیا جائے۔ اس کی حقیقی عظمت ان صحیح احادیث میں محفوظ ہے جن میں روزۂ عاشوراء کی فضیلت، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نجات کا ذکر اور رسول اللہ ﷺ کی حدیث مبارکہ میں بیان ہوئی ہے۔
تاریخ کا مطالعہ سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ جب بھی کسی مقدس زمانے، مبارک مقام یا عظیم شخصیت کے ساتھ عوامی عقیدت غیر معمولی حد تک وابستہ ہو جاتی ہے تو رفتہ رفتہ اس کے گرد ایسی روایات اور رسومات کا ہجوم جمع ہونے لگتا ہے جن کا اصل ماخذ تلاش کرنا دشوار ہو جاتا ہے۔ یومِ عاشوراء بھی اس عمومی اصول سے مستثنیٰ نہیں۔ اس دن کی حقیقی فضیلت چونکہ قرآن و سنت سے ثابت تھی، اس لیے بعد کے ادوار میں بہت سی ایسی باتیں بھی اس کے ساتھ منسلک ہوتی چلی گئیں جو نہ عہدِ نبویؐ میں معروف تھیں، نہ صحابۂ کرامؓ کے دور میں ان کا کوئی وجود تھا اور نہ ہی ائمۂ مجتہدین نے انہیں ذکر کیا ۔
عاشوراء کے سلسلے میں عوامی سطح پر سب سے زیادہ مشہور روایات میں سے ایک روایت "سرمہ لگانے” کی ہے۔ بہت سے علاقوں میں یہ تصور عام ہے کہ جو شخص عاشوراء کے دن سرمہ لگائے گا، پورے سال آنکھوں کی بیماریوں سے محفوظ رہے گا۔ بعض لوگ اس عمل کو سنت یا باعثِ ثواب سمجھ کر اختیار کرتے ہیں۔ لیکن محدثینِ کرام نے اس موضوع پر وارد روایات کا باریک بینی سے جب جائزہ لیا اور واضح کیا کہ اس مضمون میں مروی احادیث صحت کے مطلوبہ معیار پر پوری نہیں اترتیں۔ متعدد ناقدینِ حدیث نے انہیں ضعیف بلکہ بعض نے موضوع قرار دیا ہے۔ چنانچہ محض اس بنیاد پر کسی عمل کو دینی فضیلت کا درجہ دینا درست نہیں۔
اسی طرح عاشوراء کے دن خصوصی غسل کے بارے میں بھی مختلف روایات عوام میں مشہور ہیں۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس دن غسل کرنے والا پورے سال بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔ لیکن جب اس دعوے کو علمِ حدیث کی میزان پر پرکھا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس سلسلے میں منقول روایات سنداً قابلِ اعتماد نہیں۔ شریعتِ اسلامیہ نے جن اعمال کو فضیلت کا درجہ دیا ہے، ان کے ثبوت کے لیے مضبوط دلائل موجود ہیں، لیکن جن اعمال کے حق میں معتبر دلیل نہ ہو، انہیں دین کا حصہ بنانا احتیاط اور دیانتِ علمی کے خلاف ہے۔
اسی طرح بعض علاقوں میں عاشوراء کے دن مخصوص نمازوں کا رواج پایا جاتا ہے۔ مختلف تعداد میں رکعات، مخصوص سورتوں کی تعیین اور ان کے لیے غیر معمولی اجر و ثواب کے دعوے عوامی کتابچوں اور رسائل میں بیان کیے جاتے ہیں۔ محدثین نے اس نوعیت کی اکثر روایات کو ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ دینِ اسلام میں عبادات کی بنیاد توقیف پر ہے، یعنی عبادت اسی طریقہ سے کی جائے گی جس طریقہ کو رسول اللہ ﷺ نے مشروع قرار دیا ہو۔ اپنی طرف سے نئی عبادات یا ان کے لیے مخصوص فضائل تراشنا شریعت کے مزاج کے خلاف ہے۔
اسی طرح عاشوراء کے دن بعض مخصوص کھانوں اور پکوانوں کو بھی مذہبی حیثیت دے دی گئی ہے۔ بعض علاقوں میں کھچڑی، بعض میں مخصوص حلوے اور بعض مقامات پر دیگر کھانوں کو اس دن کا لازمی شعار سمجھا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کھانے پینے کی ان چیزوں کا تعلق مقامی ثقافت اور علاقائی روایات سے تو ہو سکتا ہے، لیکن انہیں دینی فضیلت یا شرعی استحباب کا درجہ دینا درست نہیں۔ رسول اللہ ﷺ، صحابۂ کرامؓ، تابعینؒ اور ائمۂ امت سے اس نوعیت کا کوئی اہتمام ثابت نہیں۔
البتہ عاشوراء کے دن اہل و عیال پر فراخی اور وسعتِ رزق کے متعلق ایک روایت اہلِ علم کے درمیان قدیم زمانے سے زیرِ بحث رہی ہے۔ بعض محدثین نے اس کے طرق کو جمع کر کے اسے قابلِ عمل قرار دیا ہے، جبکہ بعض اہلِ علم نے اس کے ضعیف ہونے کی نشاندہی کی ہے۔ اس اختلاف کے باوجود جمہور اہلِ علم نے اس معاملے میں غلو سے بچنے کی تلقین کی ہے۔ لہٰذا اگر کوئی شخص اپنے اہل و عیال کے ساتھ حسنِ سلوک اور فراخ دلی کا معاملہ کرے تو یہ خود ایک پسندیدہ عمل ہے، لیکن اس سلسلے میں غیر معمولی عقائد اور قطعی دعووں سے اجتناب ضروری ہے۔
اس پورے منظرنامے کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ بعض اوقات ضعیف اور بے اصل روایات کو اس جوش و خروش سے بیان کیا جاتا ہے کہ سننے والوں کے ذہنوں میں ان کی حیثیت صحیح احادیث سے بھی بڑھ جاتی ہے۔ نتیجتاً عوام کی توجہ ان اعمال سے ہٹ جاتی ہے جو حقیقتاً سنتِ نبوی ﷺ سے ثابت ہیں۔ روزۂ عاشوراء، ذکرِ الٰہی، توبہ، استغفار اور شکرِ خداوندی جیسے اعمال پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور ان کی جگہ غیر ثابت رسوم و روایات لے لیتی ہیں۔
دینِ اسلام کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ اس نے عقائد و اعمال کو محض جذبات، خوابوں، حکایات یا عوامی روایتوں کے سپرد نہیں کیا بلکہ ان کے لیے علم و تحقیق کا مضبوط معیار قائم کیا۔ یہی وجہ ہے کہ محدثینِ امت نے لاکھوں روایات کی چھان بین کی، راویوں کے احوال پر کتابیں لکھیں، اسانید کی جانچ کی اور صحیح و ضعیف میں فرق واضح کیا۔ اگر یہ عظیم علمی خدمت انجام نہ دی جاتی تو دین کا اصل چہرہ بے شمار من گھڑت باتوں کے غبار میں چھپ جاتا۔
لہٰذا یومِ عاشوراء کے بارے میں بھی اعتدال اور تحقیق کا راستہ اختیار کرنا ضروری ہے۔ نہ ہر مشہور بات کو بلا تحقیق قبول کیا جائے اور نہ ثابت شدہ فضائل کا انکار کیا جائے۔ بلکہ کتاب و سنت، فہمِ سلف اور اصولِ محدثین کی روشنی میں ہر روایت کا جائزہ لیا جائے۔ یہی وہ منہج ہے جو امت کو افسانوں کے جنگل سے نکال کر حقیقت کے روشن راستے پر گامزن کر سکتا ہے، اور یہی علمی دیانت کا وہ تقاضا ہے جس کے بغیر دین کا صحیح فہم ممکن نہیں۔
محرم الحرام کا تذکرہ آتے ہی تاریخ کا ایک نہایت دردناک اور الم ناک باب ذہن کے افق پر ابھر آتا ہے۔ یہ باب نواسۂ رسول ﷺ، جگر گوشۂ بتول، سیدنا حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقائے باوفا کی عظیم شہادت کا باب ہے۔ واقعۂ کربلا بلاشبہ اسلامی تاریخ کے ان سانحات میں سے ہے جس پر ہر صاحبِ ایمان کا دل رنجیدہ ہوتا ہے، آنکھ نم ہو جاتی ہے اور اہلِ بیتِ نبوت سے محبت رکھنے والا ہر مسلمان ان جان نثارانِ حق کے ایثار، استقلال اور صبر و عزیمت کو عقیدت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی ذاتِ گرامی کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ وہ اس گھرانے کے چشم و چراغ ہیں جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"حسن اور حسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔”
ایک اور موقع پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں۔”
یہ وہ عظیم فضیلت ہے جو تاریخِ اسلام میں بہت کم شخصیات کو نصیب ہوئی۔ لہٰذا اہلِ بیتِ اطہار سے محبت، ان کے مقام و مرتبہ کا اعتراف اور ان کے ساتھ قلبی وابستگی ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس محبت کا شرعی اظہار کیا ہونا چاہیے؟ اور غم و اندوہ کی حدود کیا ہیں؟ یہی وہ مقام ہے جہاں جذبات اور شریعت کے درمیان توازن قائم رکھنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔
اسلام نے انسانی فطرت کے تقاضوں کو نظر انداز نہیں کیا۔ کسی عزیز کی وفات پر غمگین ہونا، آنکھوں سے آنسو بہنا، دل کا رنجیدہ ہونا اور جدائی کا احساس پیدا ہونا ایک فطری امر ہے۔ خود رسول اللہ ﷺ کے صاحبزادے حضرت سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ صحابۂ کرامؓ نے تعجب کا اظہار کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا:
"آنکھ آنسو بہاتی ہے، دل غمگین ہوتا ہے، لیکن ہم وہی بات کہتے ہیں جو ہمارے رب کو پسند ہو۔”
یہ اسلامی تعلیمات کا نہایت معتدل اور متوازن اصول ہے۔ اسلام غم کو ممنوع قرار نہیں دیتا، لیکن غم کے نام پر ایسے افعال کی اجازت بھی نہیں دیتا جو صبر، رضا اور تسلیم و رضا کے منافی ہوں۔ *یہ بات واضح رہے کہ اسلام تعزیت کی اجازت دیتا ہے تعزیہ کی نہیں*
اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے نوحہ، بین، چیخ و پکار، گریبان چاک کرنے، رخسار پیٹنے اور جاہلیت کے طریقوں پر سخت تنبیہ فرمائی۔ صحیح احادیث میں وارد ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان اعمال سے براءت کا اظہار فرمایا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام مصیبت کے وقت صبر، استقامت اور اللہ تعالیٰ کے فیصلوں پر رضا کا درس دیتا ہے، نہ کہ بے صبری، جزع فزع اور خود کو اذیت پہنچانے کا۔
واقعۂ کربلا کے بعد صحابۂ کرامؓ، تابعینؒ، تبع تابعینؒ اور ائمۂ مجتہدین کے ادوار گزرے، لیکن ان میں سے کسی سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے دسویں محرم کو ماتم، سینہ کوبی، زنجیر زنی یا خود کو زخمی کرنے جیسے اعمال اختیار کیے ہوں۔ اگر یہ اعمال قربِ الٰہی یا اظہارِ محبت کا ذریعہ ہوتے تو سب سے پہلے اہلِ بیت کے خانوادے اور ان کے شاگرد ان پر عمل کرتے، لیکن تاریخ اس کی کوئی شہادت پیش نہیں کرتی۔
*تعزیہ داری کا آغاز*
مشہور مؤرخ اکبر خاں نجیب آبادی تعزیہ داری کے آغاز کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں :
٣٥٢ھ کے شروع ہونے پر ابن بویہ (معز الدولہ) نے حکم دیا کہ دسویں محرم کو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے غم میں تمام دکانیں بند کر دی جائیں، بيع وشراء بالکل موقوف رہے، شہر و دیہات کے تمام لوگ ماتمی لباس پہنیں اور اعلانیہ نوحہ کریں، عورتیں اپنے بال کھولے ہوئے چہروں کو سیاہ کئے ہوئے، کپڑوں کو پھاڑے ہوئے، سڑکوں اور بازاروں میں مرثیے پڑھتی اور منھ نوچتی اور چھاتیاں پیٹتی ہوئیں نکلیں۔ شیعوں نے اس حکم کی بخوشی تعمیل کی مگر اہل سنت دم بخود اور خاموش رہے، بلکہ شیعوں کی حکومت تھی۔
آئندہ سال ٣٥٣ھ میں پھر اسی حکم کا اعادہ کیا گیا اور سنیوں کو بھی اس کی تعمیل کا حکم دیا گیا۔ اہل سنت اس ذلت کو برداشت نہ کر سکے، چنانچہ شیعہ سنیوں میں فساد برپا ہوا، بہت بڑی خونریزی ہوئی، اس کے بعد شیعوں نے ہر سال اس رسم کو زیر عمل لانا شروع کر دیا اور آج تک اس کا رواج ہندوستان میں ہم دیکھ رہے ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ ہندوستان میں اکثر سنی لوگ بھی تعزیہ بناتے ہیں۔
*(تاریخ اسلام از اکبر خاں نجیب آبادی: ۵۶۵/۲-۵۶۶ مکتبه رحمت، دیوبند)*
درحقیقت اسلام نے شہداء کی یاد کو زندہ رکھنے کا جو طریقہ سکھایا ہے، وہ ان کے نقشِ قدم پر چلنا ہے، نہ کہ محض جذباتی رسوم کا اہتمام کرنا۔ سیدناحسین رضی اللہ عنہ نے ظلم کے سامنے سر نہ جھکانے، حق کے لیے قربانی دینے، دین کی سربلندی کے لیے ہر قیمت ادا کرنے اور اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہنے کا جو درس دیا، حقیقی خراجِ عقیدت یہ ہے کہ ان تعلیمات کو اپنی زندگیوں میں نافذ کیا جائے۔
یہاں ایک نہایت اہم اور بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر اسلام نے ہر شہادت یا ہر المناک وفات کے بعد ماتم کو مشروع قرار دیا ہوتا تو تاریخِ اسلام کا کون سا دن ایسا ہوتا جو ماتم سے خالی رہتا؟ خود رسول اللہ ﷺ کی وفات امتِ مسلمہ کا سب سے بڑا سانحہ تھی۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ، حضرت عثمان غنیؓ اور حضرت علی المرتضیٰؓ جیسے جلیل القدر صحابہ شہید ہوئے۔ سید الشہداء حضرت حمزہؓ کی شہادت پیش آئی۔ بے شمار صحابہؓ میدانِ جہاد میں جامِ شہادت نوش کر گئے۔ ائمۂ امت، محدثین، فقہاء اور اولیائے کرام اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ اگر ماتم ہی محبت اور وفاداری کا معیار ہوتا تو پورا اسلامی سال غم کی مجالس اور ماتمی اجتماعات سے بھر جانا چاہیے تھا لیکن تاریخ کا فیصلہ اس کے برعکس ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ واقعۂ کربلا کو محض جذباتی اور فرقہ وارانہ عینک سے نہ دیکھا جائے بلکہ اسے قرآن و سنت کی روشنی میں سمجھا جائے۔ امام حسین رضی اللہ عنہ پوری امت کے سرمایہ ہیں، کسی ایک گروہ یا طبقے کی میراث نہیں۔ ان کی عظمت کا تقاضا یہ ہے کہ ان کی قربانی کو حق و باطل کے معرکے، صبر و استقامت کے عنوان اور دین کی سربلندی کے لیے دی جانے والی بے مثال قربانی کے طور پر یاد رکھا جائے۔
محرم الحرام اور یومِ عاشوراء کا صحیح پیغام یہی ہے کہ مسلمان فضائلِ ثابتہ کو اختیار کریں، غیر ثابت روایات سے اجتناب کریں، اہلِ بیتِ اطہار سے سچی محبت رکھیں، صحابۂ کرامؓ کی عظمت کو دل میں بسائیں اور ہر حال میں کتاب و سنت کے دامن کو مضبوطی سے تھامے رکھیں۔ یہی اعتدال کا راستہ ہے، یہی اہلِ سنت کا منہج ہے اور یہی وہ فکر ہے جو امت کو انتشار کے بجائے اتحاد، جذباتیت کے بجائے بصیرت اور افراط و تفریط کے بجائے اعتدال کی طرف لے جاتی ہے۔
محرم الحرام کے مبارک مہینے اور یومِ عاشوراء کے حوالے سے اس سلسلۂ میں جن مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا، ان کا خلاصہ یہ ہے کہ دینِ اسلام کی بنیاد جذبات، داستانوں، عوامی روایات یا غیر محقق حکایات پر نہیں بلکہ وحیِ الٰہی، سنتِ نبوی ﷺ اور فہمِ سلفِ صالحین پر قائم ہے۔ یہی وہ سنہری اصول ہے جس نے امتِ مسلمہ کو صدیوں تک علمی استحکام، فکری اعتدال اور دینی سلامتی عطا کی۔ جب بھی اس اصول سے انحراف ہو



