روس کی لیب سے طاعون کے جراثیم لیک! 28 سالہ خاتون ہلاک، 197 افراد قرنطینہ میں ؛ حادثہ یا حیاتیاتی ہتھیاروں کا تجربہ؟
ماسکو: روس کے سائبیریا خطے میں واقع ایک اینٹی پلیگ ریسرچ لیبارٹری سے طاعون کے جراثیم یا کسی نامعلوم وائرس کے لیک ہونے کی اطلاعات نے تشویش پیدا کردی ہے۔ مبینہ طور پر لیبارٹری میں کام کرنے والی 28 سالہ خاتون ٹیکنیشن شپیلووا کی موت کے بعد معاملہ مزید سنگین ہوگیا ہے، جبکہ احتیاطی اقدام کے طور پر 197 افراد کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔ تاہم روسی حکام نے تاحال یہ واضح نہیں کیا کہ خاتون کی موت کس وائرس یا جراثیم سے ہوئی اور لیبارٹری میں اصل میں کیا واقعہ پیش آیا۔
اطلاعات کے مطابق منگولیا کی سرحد کے قریب واقع سائبیریا کے اینٹی پلیگ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں طاعون کے جراثیم رکھنے والی ایک ٹیسٹ ٹیوب ٹوٹنے کے بعد جراثیم کے لیک ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ یہ لیبارٹری سوویت یونین کے دور میں متعدی بیماریوں پر تحقیق کے لیے قائم کی گئی تھی، جہاں طاعون، اینتھراکس سمیت مختلف خطرناک بیماریوں کے جراثیم اور ان کی مختلف اقسام محفوظ رکھی جاتی ہیں۔
خاتون لیب ٹیکنیشن کی موت کے بعد حکام نے احتیاطی اقدامات کرتے ہوئے اس کے قریبی اہل خانہ اور لیبارٹری سے وابستہ افراد کو طبی نگرانی میں رکھا ہے۔ مجموعی طور پر 197 افراد کو قرنطینہ میں رکھے جانے کی اطلاع ہے۔ تاہم واقعے کی اصل وجہ اور متاثرہ جراثیم کی نوعیت کے بارے میں روس کی جانب سے اب تک واضح تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
اس واقعے نے روس میں حیاتیاتی تحقیق اور حیاتیاتی ہتھیاروں سے متعلق پرانے خدشات کو بھی دوبارہ نمایاں کردیا ہے۔ سوویت دور میں روس میں اس نوعیت کی متعدد لیبارٹریاں قائم کی گئی تھیں، جہاں خطرناک بیماریوں کے جراثیم پر تحقیق کی جاتی تھی۔ بعض سابقہ مطالعات میں ان مراکز کے سوویت فوج کے حیاتیاتی ہتھیاروں کے تحقیقی پروگرام سے روابط کے دعوے بھی کیے گئے تھے، تاہم موجودہ واقعے کو حیاتیاتی ہتھیاروں کے تجربے سے جوڑنے کے حوالے سے تاحال کوئی آزاد اور حتمی ثبوت سامنے نہیں آیا ہے۔
روس اور یوکرین جنگ کے ابتدائی دنوں میں بھی حیاتیاتی ہتھیاروں کی لیبارٹریوں کا معاملہ عالمی سطح پر زیر بحث آیا تھا۔ ماسکو نے یوکرین میں امریکہ کی حمایت سے حیاتیاتی ہتھیاروں کی لیبارٹریاں چلانے کا الزام عائد کیا تھا، جسے واشنگٹن نے مسترد کردیا تھا۔
سائبیریا کی لیبارٹری سے جراثیم لیک ہونے کی اطلاعات پر سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر مائیک پومپیو نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ روس سے طاعون کے جراثیم کے ممکنہ اخراج کے معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس معاملے کا موازنہ چین کی ووہان لیبارٹری سے کووڈ-19 کے ممکنہ اخراج سے بھی کیا۔
طاعون ایک سنگین متعدی بیماری ہے جو عموماً متاثرہ جانوروں یا پسوؤں کے ذریعے انسانوں تک پہنچ سکتی ہے۔ بعض صورتوں میں متاثرہ شخص کے کھانسنے یا چھینکنے سے نکلنے والے ذرات کے ذریعے بھی اس کے پھیلاؤ کا خطرہ رہتا ہے۔ تاریخ میں طاعون کی وباؤں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔
دریں اثنا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی واقعے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر روس اس معاملے سے متعلق مکمل تفصیلات سامنے لاتا ہے تو امریکہ ضروری مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
تاہم موجودہ صورتحال میں سب سے اہم سوال یہی ہے کہ لیبارٹری میں واقعی کون سا جراثیم یا وائرس موجود تھا، خاتون کی موت کی اصل وجہ کیا ہے اور 197 افراد کو قرنطینہ میں رکھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ ان سوالات کے جواب روسی حکام کی جانب سے تفصیلی وضاحت کے بعد ہی سامنے آسکیں گے۔



