20 سال بعد سعودی جیل سے عبدالرحیم کی رہائی – کیرالہ کے نوجوان کو سعودی حکومت کی معافی، 34 کروڑ کے معاوضہ قتل کے بعد رہائی
حیدراباد – سعودی عرب میں گزشتہ 20 برسوں سے جیل میں قید ایک ہندوستانی شہری کو بالآخر رہائی مل گئی۔ کیرالہ کے ایک نوجوان، جسے سزائے موت کا سامنا تھا، کو سعودی حکومت نے معافی دے دی۔ ریاض میں ہندوستانی سفارت خانے کے مطابق عبدالرحیم آج اپنے وطن واپس پہنچ گئے۔
کیرالہ کے علاقے کوئیکڈ سے تعلق رکھنے والے عبدالرحیم 2006 میں سعودی عرب گئے تھے، جہاں وہ ایک گھر میں کار ڈرائیور کے طور پر ملازم ہوئے۔ وہیں ایک 15 سالہ معذور لڑکے کی دیکھ بھال بھی ان کی ذمہ داری تھی۔ مذکورہ لڑکا خصوصی طبی آلے کی مدد سے سانس لیتا تھا۔
ایک دن کار میں سفر کے دوران لڑکے نے ہنگامہ کیا، جس پر عبدالرحیم اسے پرسکون کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ اتفاقاً ان کا ہاتھ سانس لینے والے خصوصی آلے سے ٹکرا گیا، جس کے الگ ہوجانے سے لڑکے کی موت واقع ہوگئی۔
اس واقعے کے بعد عبدالرحیم کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا۔ اگرچہ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ حادثاتی واقعہ تھا، تاہم مقامی عدالت نے انہیں سزائے موت سنائی۔ 2022 میں اپیلیٹ کورٹ نے بھی اس فیصلے کو برقرار رکھا جبکہ سپریم کورٹ نے بھی نچلی عدالتوں کے فیصلے کی توثیق کردی۔ اس کے بعد عبدالرحیم کی امیدیں صرف ’’بلڈ منی‘‘ پر ٹک گئی تھیں۔
اس معاملے کو انسانی ہمدردی کے زاویے سے دیکھنے کے لیے مقامی سطح پر بڑے پیمانے پر مہم چلائی گئی۔ ہندوستانی حکومت نے بھی سفارتی سطح پر کوششیں کیں جبکہ بیرون ملک مقیم ہندوستانی تنظیموں نے مالی تعاون فراہم کیا۔ ’’بلڈ منی‘‘ ادا کرنے کے لیے کراؤڈ فنڈنگ کے ذریعے چندہ جمع کیا گیا۔
بالآخر 2024 میں مقتول کے خاندان نے ’’بلڈ منی‘‘ قبول کرنے پر رضامندی ظاہر کردی، جس کے بعد سعودی حکومت نے عبدالرحیم کو معاف کرتے ہوئے رہائی دے دی۔ تاہم وہ اس دوران 20 سال جیل میں گزار چکے تھے۔
اطلاعات کے مطابق متاثرہ خاندان نے 1.5 ملین سعودی ریال، یعنی تقریباً 34 کروڑ روپے بطور معاوضہ قبول کئے۔ ریاض میں ہندوستانی سفارت خانے نے اس قانونی عمل میں تعاون کرنے والے سعودی حکام اور ہندوستانی تنظیموں کا شکریہ ادا کیا۔





